اراکین اسمبلی کو فنڈز کا اجراء : سپریم کورٹ کا وزیراعظم کے جواب پر اظہار اطمینان
اسلام آباد : سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کا مقدمہ نمٹا دیا، اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کی دستخط شدہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تسلی بخش قرار دیا ۔

جی این این کے مطابق : سپریم کورٹ میں آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کی دستخط شدہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ، جس میں وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی خبر کی تردید کردی، رپورٹ میں موقف دیا گیا کہ وفاق نے ارکان کوترقیاتی فنڈز نہیں دئیے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم کا جواب کافی مدلل ہے۔ جج صاحب اور وزیراعظم ایک مقدمہ میں فریق ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کل مجھے واٹس ایپ پر کسی نے کچھ دستاویزات بھیجی ہیں، جس کے مطابق حلقہ این اے 65 میں حکومتی اتحادی کو بھاری بھرکم فنڈز جاری کیے گئے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ کیا سڑک کی تعمیر کے لیے مخصوص حلقوں کو فنڈز دیئے جا سکتے ہیں؟کیا حلقے میں سڑک کیلے فنڈز دینا قانون کے مطابق ہے ؟
جسٹس فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ ہم دشمن نہیں عوام کے پیسے اور آئین کے محافظ ہیں امید ہے آپ بھی چاہیں گے کہ کرپشن پر مبنی اقدامات نہ ہوں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وٹس ایپ والی دستاویزات آپکی شکایت ہے، جائزہ لینگے، جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ مجھے شکایت کنندہ نہ کہیں میں صرف نشاندہی کر رہا ہوں، آپ نے شاید میری بات ہی نہیں سنی۔
اٹارنی جنرل نے کہا آپ کافی دیر سے آبزرویشن دے رہے ہیں، بات تو میری نہیں سنی گئی، جسٹس فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف ٹوئیٹس کی بھرمار ہورہی ہے۔ کیا کرپٹ پریکٹس کے خلاف اقدامات الیکشن کمیشن کی زمہ داری نہیں۔ معلوم نہیں کہ وزیراعظم کو سیاسی اقدامات پر آئینی تحفظ حاصل ہے یا نہیں۔ ماضی میں عدالتیں وزراء اعظم کو طلب کرتی رہی ہیں۔ کیا وزیراعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا پانچ سال کی مدت کم ہوتی ہے۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ ووٹ میں توسیع کے لیے اسمبلی سے رجوع کریں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم وزیراعظم آفس کنٹرول کرنے نہیں بیٹھے۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کا جواب تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ۔
.webp&w=3840&q=75)
اے آئی کی گورننس ،اخلاقی استعمال اور عوامی شعبے کی رہنمائی کیلئے پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے ،شزا فاطمہ
- 17 گھنٹے قبل

بیتھل کی اسنچری رائیگاں، انگلینڈ کو سننسی خیز مقابلے کے بعد7 رنز سے شکست، بھارت میں فائنل میں پہنچ گیا
- 15 گھنٹے قبل

دوسرا سیمی فائنل: سنجوسمسن کی جارحانہ بلے بازی،بھارت کا انگلینڈ کو 254 رنز کا بڑا ہدف
- 19 گھنٹے قبل

عباس عراقچی کا ترک وزیر خارجہ سے رابط،ایران کی ترکیہ پر میزائل حملے کی تردید
- ایک دن قبل
پنجاب میں جعلی ادویات کی فروخت، ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 5 ادویات سے متعلق الرٹ جاری کردیا
- ایک دن قبل

ایران جنگ:وزیراعظم کے ملائیشیا اور انڈویشیا کے سربراہان سے رابطے،علاقائی وعالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 18 گھنٹے قبل

زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے ملکی معیشت میں اہم ستون کا درجہ رکھتے ہیں، وزیراعظم
- 17 گھنٹے قبل

دشمن کو انجام تک پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کریں گے،اہداف کے حصول تک لڑائی جاری رہے گی،ایرانی جنرل
- 20 گھنٹے قبل

بانی پی ٹی آئی کوکو علاج کیلئے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری
- ایک دن قبل

فورسز کی افغان طالبان کے خالف کارروائیاں جاری،قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ
- ایک دن قبل

وزیر اعلی سہیل آفریدی کی ایرانی قونصل خانہ آمد، سپریم لیڈر کے انتقال پر اظہار تعزیت
- 17 گھنٹے قبل

سونے کی بڑھتی قیمتوں کو ریورس گئیر لگ گیا، فی تولہ ہزاروں روپے سستا
- ایک دن قبل













.jpg&w=3840&q=75)