انسانی حقوق تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری رہائش اور تحفظ فراہم کیا جائے۔


ابوجا: افریقی ملک نائیجریا کی وسطی ریاست بینو کے ایک گاؤں میں مسلح افراد نے حملہ کرکے 100 افراد کو ہلاک کر دیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعے کی شب نائجیریا کے وسطی علاقے میں واقع یلواتا نامی گاؤں میں، مسلح افراد نے جو بندوقوں سے لیس تھے، شب کی تاریکی میں حملہ کیا،انہوں نے فیڈیلس عدیدی نامی ایک کسان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
اگلی صبح جب وہ واپس آیا تو اسے اپنی دو بیویوں میں سے ایک اور اپنے چار بچوں کی جلی ہوئی لاشیں ملیں۔
میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ فیڈیلس عدیدی نے اپنے اہل خانہ کی جان بچانے کی غرض سے انہیں گاؤں کے بازار میں کرائے پر لیے گئے ایک کمرے میں رکھا ہوا تھا، کیونکہ نائجیریا کی وسطی پٹی میں چرواہوں اور کسانوں کے درمیان جھڑپوں کی ایک لہر چل رہی ہے۔
نائجیریا کی حکومت کئی سالوں سے جاری اس تشدد پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، جس میں زمین کے تنازعات کے ساتھ ساتھ نسلی اور مذہبی تقسیم نےبھی اضافہ کیا ہے۔
صدر بولا ٹینوبو، جنہوں نے پیر کے روز ان حملوں میں اضافے کو ’ افسوسناک’ قرار دیا، بدھ کے روز بینو کا دورہ کریں گے، یہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے دو سال بعد وہاں کا پہلا دورہ ہوگا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہفتے کے روز اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہلاکت خیز واقعہ جمعہ کی دیر رات شروع ہوا اور ہفتہ کی صبح تک جاری رہا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نائیجیریا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، کئی لاپتہ ہیں، جب کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں جنہیں مناسب طبی سہولتیں دستیاب نہیں ہو پا رہیں۔ ظلم کی انتہا یہ تھی کہ متعدد کنبوں کو ان کے کمروں میں بند کرکے زندہ جلا دیا گیا۔"
ایمنسٹی سمیت کئی بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے نائیجیریا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری رہائش، راحت اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی ان جھڑپوں کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی بھی تیار کی جائے۔
واضح رہے کہ بنیو ریاست نائیجیریا کی درمیانی پٹی میں واقع ہے، جہاں شمال کی مسلم اکثریتی آبادی اور جنوب کی عیسائی اکثریتی آبادی کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے۔ اس خطے میں چرواہوں اور کسانوں کے درمیان زمین کے استعمال کو لے کر کئی دہائیوں سے تنازع چلا آ رہا ہے۔ چرواہے اپنے مویشیوں کے لیے چراگاہیں تلاش کرتے ہیں، جبکہ کسان زمین کو کاشت کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ڈیٹا سینٹر سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
- 3 days ago

لاہور: غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم
- 3 days ago

اداکارہ و ماڈل روما مائیکل نے جیون ساتھی چن لیا
- 16 hours ago
لاہور: آوارہ کتوں کا دو کم سن بچوں پر حملہ، دونوں شدید زخمی
- 4 days ago
پنجاب حکومت کا پرواز کارڈ اسکیم کے تحت اوورسیز روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز سے اشتراک
- 16 hours ago
.jpeg&w=3840&q=75)
پنجاب میں جدید زرعی آلات کی مقامی تیاری کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
- 3 days ago

سعودی عرب کا دفاع، پاکستان کا دفاع ہے: طاہراشرفی
- 4 days ago
ملک میں یومِ تکریمِ شہداء پر خطباتِ جمعہ میں قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت
- 3 days ago

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی، خریداروں کے چہرے کھل اٹھے
- 3 days ago
وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ''فور اسٹار جنرل''کے عہدے پر ترقی دینے کااعلان
- 3 days ago

مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، محکمۂ صحت ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے الرٹ
- 3 days ago
لیجنڈ گلوکارعطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا اپنی تدفین کے حوالے سے انکشاف
- 3 days ago
