کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل: نیب نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر سمیت 8 مرکزی ملزمان گرفتارکو کرلیا
تحقیقات کے دوران نیب نے 73 بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر کے تقریباً پانچ ارب روپے کی رقم برآمد کی ہے، دستاویز


پشاور: قومی احتساب بیورو( نیب) نےخیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں 40ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل کیس میں ملوث 8 اہم ملزمان کو گرفتار کرلیا جن میں 2 سرکاری افسر، 2 بینکرزاور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان پر جعلی چیکوں کی منظوری ، منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے غبن کا الزام ہے، سکینڈل میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر کا مرکزی کردار ہے،جبکہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے صوبے کے سب سے بڑے مالیاتی سکینڈل کی تحقیقات کا سلسلہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں شفیق الرحمان قریشی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر، محمد ریاض سابق کیشیئربینک اور ڈمی کنٹریکٹر، فضل حسین آڈیٹر اے جی آفس پشاور، طاہر تنویر سابق مینیجر بینک، دوراج خان ٹھیکیدار، عامر سعید ٹھیکیدار، صوبیدار ٹھیکیدار اور محمد ایوب ٹھیکیدار شامل ہیں۔
نیب ذرائع کے مطابق 5 ملزمان کو احتساب عدالت میں ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پیش کیا گیا، عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان کا 7 روزہ ریمانڈ آج مکمل ہوا تھا، 4 دیگر زیرحراست ملزمان کا ریمانڈ پیر کے دن مکمل ہوگا۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی بلنگ، مالیاتی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے کی خردبرد کی اور مواصلات و تعمیرات ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے ساتھ ملی بھگت سے بے نامی اکاؤنٹس اور جعلی فرمز کے ذریعے فنڈز منتقل کیے۔
ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر نے اپر کوہستان میں جعلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G-10113 کے تحت جعلی ٹریژری چیکوں کی منظوری اور دستخط میں مرکزی کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ نیب خیبر پختونخوا کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں بتایا گیا کہ اس مالی سکینڈل میں اعلیٰ سطح پر کرپشن، عوامی وسائل کے غیر شفاف استعمال اور غیر قانونی مالی لین دین کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد نکوائری کو باضابطہ تحقیقات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
نیب کی دستاویزات کے مطابق تحقیقات کے دوران نیب نے 73 بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر کے تقریباً پانچ ارب روپے کی رقم برآمد کی ہے، جس میں غیر ملکی کرنسی اور تین کلوگرام سونا جبکہ 77 لگژری گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں، جن میں مرسیڈیز، بی ایم ڈبلیو، آؤڈی، پورشا، لیکسز، لینڈ کروزر اور فارچونر شامل ہیں،جن کی مجموعی مالیت 94 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
دستاویزات کے مطابق 109 جائیدادیں بھی ضبط کی گئی ہیں جن کی مالیت 17 ارب روپے سے زائد ہے، ان میں 30 رہائشی مکانات، 25 فلیٹس، 12 کمرشل پلازے، دکانیں، فارم ہاؤسز اور 175 کنال زرعی اراضی شامل ہےجن میں متعدد کو سیل کردیا گیا ہے۔
نیب دستاویزات کےمطابق یہ جائیدادیں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں واقع ہیں۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن نے قاہرہ میں غزہ کے یتیم بچوں اور مہاجرین کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں
- ایک گھنٹہ قبل

علماء سے خطاب: فیلڈ مارشل کا فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اتحاد اور برداشت پر زور
- ایک دن قبل
ڈی جی فوڈ اتھارٹی خیبرپختونخوا فائرنگ سے زخمی
- 2 دن قبل
پاکستان کے تین ٹیلی کام آپریٹرزو فائیو جی اسپیکٹرم لائسنس لینے میں کامیاب
- ایک دن قبل

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کتنی کمی ہو گئی؟
- 4 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین مختلف شعبوں میں اے آئی پر مبنی شراکت داری مضبوط بنانے پر متفق
- 2 دن قبل
ملک میں جمعتہ الوداع مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا
- 4 گھنٹے قبل
سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید 20 مارچ جمعہ کو ہوگی
- 2 دن قبل

وزیراعظم شہبازشریف کا قازق صدرسے ٹیلیفونک رابطہ،قازقستان کے آئینی ریفرنڈم کی کامیابی پر مبارکباددی
- 3 دن قبل
خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب حملوں کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، ایرانی وزیر خارجہ
- 2 دن قبل

ایک تولہ سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کی کمی
- ایک دن قبل
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائی پر بھارت کے بے بنیاد بیان کو مسترد کر دیا
- 2 دن قبل



