پنجاب حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجے میں پنجاب کا گندم کموڈٹی قرض ختم ہوگیا اور 13 ارب 80 کروڑ روپے کی آخری قسط نیشنل بینک کو ادا کر دی گئی


پنجاب حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجے میں پنجاب کا گندم کموڈٹی قرض ختم ہوگیا اور 13 ارب 80 کروڑ روپے کی آخری قسط نیشنل بینک کو ادا کر دی گئی۔
پنجاب حکومت کے مطابق، یہ صوبے کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے اور گڈ گورننس کی ایک مثالی مثال پیش کرتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فیصلوں اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کی بدولت پنجاب کے شہریوں کو 30 سال پرانے قرض سے نجات حاصل ہوئی۔ یہ کموڈٹی قرض گندم کی خریداری کے دوران پیدا ہوا تھا، جب اوپن مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر گندم خریدی جاتی تھی، جس کے باعث آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا تھا۔ اس کا اثر شہریوں پر پڑا اور انہیں مہنگائی کی شکل میں اس کا بوجھ اٹھانا پڑا۔
محکمہ خوراک ہر سال صوبے میں پیدا ہونے والی گندم کا تقریباً 14 فیصد یعنی 35 سے 40 لاکھ میٹرک ٹن خریدتا تھا، جس سے صرف 2 سے 4 لاکھ کسان فائدہ اٹھا پاتے تھے، حالانکہ مجموعی طور پر 70 لاکھ کسانوں کے لیے یہ ایک غیر منصفانہ عمل تھا۔
پنجاب حکومت کے مطابق، اگر گندم خریداری کا یہ غیر منصفانہ کھیل جاری رہتا تو مارچ 2024 تک قرض 1080 ارب روپے اور جون 2024 تک 1.15 کھرب روپے تک پہنچ سکتا تھا، جو کہ پنجاب کے سالانہ بجٹ کا تقریباً 35 فیصد ہوتا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے صوبائی بجٹ سے 761 ارب روپے ادا کیے گئے۔
اگر بروقت ادائیگی نہ ہوتی تو پنجاب حکومت کو ماہانہ 50 کروڑ روپے سود کی صورت میں ادا کرنا پڑتا۔ تاہم، قرض کی ادائیگی کے بعد پنجاب حکومت اپنے گندم کے تمام ذخائر کی مکمل مالک بن گئی۔
اس حوالے سے سیکرٹری خزانہ پنجاب مجاہد شیردل نے کہا کہ پنجاب نے 31 سال پرانے مقامی بینکوں کے قرض کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور 675 ارب روپے کی واپسی سے مالی خودمختاری کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 13 ارب 80 کروڑ کی آخری قسط بھی ادا کر دی گئی، اور اگر بروقت ادائیگی نہ ہوتی تو یومیہ 50 کروڑ روپے سود ادا کرنا پڑتا۔
سیکرٹری خزانہ پنجاب کے مطابق، پنجاب حکومت تین دہائیوں بعد مقامی بینکوں کے قرضوں سے آزاد ہو چکی ہے اور گندم خریداری اور سبسڈی کے 675 ارب روپے کے قرض کو صفر کر دیا ہے۔

حکومت سستی اور وافر مقدار میں کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ، رانا تنویر
- 2 minutes ago

اسحاق ڈار کا نیدر لینڈ کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،علاقائی پیشرفت پر تبادلہ خیال
- 44 minutes ago
کشیدگی کے خاتمے کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان
- 2 hours ago

ایران امریکا مذاکرات: حکومت کا غیر ملکی مندوبین و صحافیوں کو اسلام آباد پہنچنے پر ویزا کی سہولت کا اعلان
- 6 hours ago

پاکستان نیوی کا شمالی بحیرہ عرب میں کامیاب ریسکیو آپریشن، غیر ملکی جہاز سے 18 افراد کو بچا لیا
- 3 hours ago
.webp&w=3840&q=75)
لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں ،ایرانی صدر
- 6 hours ago

پاکستان ویمنز ٹیم کی ترکس اینڈ کیکوس آئی لینڈز کو ہراکر فیفا سیریز میں تاریخی کامیابی سمیٹ لی
- 39 minutes ago

بیساکھی میلہ: ہزاروں سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے
- 3 hours ago

امریکا ایران مذاکرات: امریکی نائب صدر میری لینڈ سے پاکستان کیلئے روانہ
- 2 hours ago

سونے کی قیمتوں میں ایک دفعہ پھر نمایاں اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 hours ago

اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں ، توقع ہے کہ سفارتی کوششیں جلد نتائج دیں گی،ٹرمپ
- 6 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
صدر ٹرمپ کی جے ڈی وینس کو ایران جنگ سے نکلنے کا تلاش کرنے کی ہدایات
- 4 hours ago














