سرچ فار جسٹس کے زیر اہتمام ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد،نوجوانوں کی بھرپور شرکت
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کی جامعات اور کالجوں میں کیمپس بیسڈ ہیومن رائٹس ایمبیسیڈر پروگرام شروع کیا جائے


لاہور:انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ’’سرچ فار جسٹس‘‘ کی جانب سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک روزہ تربیتی و ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندگان اور انسانی حقوق کے ماہرین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نےشرکت کی،جس کا مقصد پاکستان کے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ مؤثر روابط کو فروغ دینا تھا۔
ورکشاپ میں قومی انسانی حقوق کے اداروں کے دائرہ کار، حدود اور انسانی حقوق کے تحفظ، احتساب اور پالیسی سازی میں ان کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ادارہ جاتی ڈھانچے اور ان کے عملی استعمال کے درمیان موجود خلا کو بھی اجاگر کیا گیا، خصوصاً نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی سطح پر۔
ورکشاپ سے پاکستان میں انسانی حقوق اور لا کے ماہر ڈاکٹر عطا المصطفی نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کیا اور پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلقہ اداروں کی قانونی و سماجی حثیت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

علاوہ ازاں دورا ن ورکشاپ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس پاکستان ڈاکٹر غلام عباس سپرا نے شرکاء سے خصوصی خطاب کیا اور انہیں انسانی حقوق سے متعلقہ اداروں اور ان کے طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالی اور شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔

ورکشاپ شرکاء نے زور دیا کہ قومی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ مضبوط روابط انسانی حقوق کو عملی شکل دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان اداروں کو شکایات کے اندراج، نظامی مسائل کی نشاندہی اور ادارہ جاتی ردعمل کے لیے مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کی جامعات اور کالجوں میں کیمپس بیسڈ ہیومن رائٹس ایمبیسیڈر پروگرام شروع کیا جائے۔ شرکاءکے مطابق یہ اقدام انسانی حقوق کی تعلیم کو فروغ دینے اور عوامی آگاہی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ مجوزہ پروگرام نوجوانوں کو ان کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنے، ادارہ جاتی نظام کو سمجھنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی و رپورٹنگ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے گا۔

ورکشاپ کے شرکاء اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ انسانی حقوق کے موجودہ ادارے اور قانونی تحفظات کم آگاہی اور کمزور روابط کے باعث مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان اداروں کے ساتھ مؤثر روابط کو فروغ دیا جائے تاکہ انصاف اور احتساب تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔
ورکشاپ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سول سوسائٹی، سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مستقل تعاون ناگزیر ہے تاکہ انسانی حقوق کی تعلیم کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔
دوسری جانب ’’سرچ فار جسٹس ‘‘نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے فروغ، بچوں کے تحفظ کے نظام کی بہتری اور نوجوانوں کی بامعنی شمولیت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

خریداروں کے لیے خوشخبری، سونے کی قیمت میں مزید کمی
- 4 دن قبل

مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، حاقان فیدان
- 4 دن قبل
پنجاب اسمبلی میں 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی قرارداد منظور
- 3 دن قبل
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی
- 5 دن قبل

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل
- 4 دن قبل

فیملی ڈرامے وقت کی اہم ضرورت ہے، اداکار شان شاہد
- 4 دن قبل

وزیراعظم کی بشکیک میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- 3 دن قبل
’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت
- 4 دن قبل
راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالہ لئی بپھر گیا، فوج طلب، تعلیمی اداروں میں تعطیل
- 3 دن قبل

پاکستان نے اگلے سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی
- 3 دن قبل

کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا
- 4 دن قبل
بلوچستان میں متعدد کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد ہلاک
- 3 دن قبل



