Advertisement
علاقائی

آسٹریلوی ہائی کمشنر کاکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ، آنکھوں کی صحت کے شعبے میں آسٹریلیا کے دیرینہ تعاون کے اثرات کا مشاہدہ

1998 سے جاری تعاون کے نتیجے میں اندھے پن کی شرح 1.8 فیصد سے کم ہو کر 0.5 فیصد رہ گئی، لاکھوں افراد مستفید؛ جدید طبی سہولیات، تربیت اور علاج تک رسائی میں نمایاں بہتری

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 hours ago پر Apr 29th 2026, 2:37 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آسٹریلوی ہائی کمشنر کاکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ، آنکھوں کی صحت کے شعبے میں آسٹریلیا کے دیرینہ تعاون کے اثرات کا مشاہدہ

لاہور: پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین نے کالج آف آپتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز (COAVS)، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی/میو ہسپتال لاہور کا دورہ کیا۔ 

اس دورے کا مقصد آنکھوں کی صحت کے شعبے میں آسٹریلیا کے دیرینہ تعاون کے اثرات کا خود مشاہدہ کرنا تھا۔ انہوں نے یونیورسٹی اور میو ہسپتال میں آسٹریلوی تعاون سے چلنے والی طبی، تدریسی اور تربیتی سہولیات کا معائنہ بھی کیا۔

دورے کے دوران وائس چانسلر کے ای ایم یو پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز، پرنسپل COAVS پروفیسر محمد معین، پروفیسر ایمریٹس اور صوبائی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ اندھا پن پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم خان، رجسٹرار کے ای ایم یو پروفیسر اصغر نقی، پروفیسر آف سرجری ابرار اشرف، چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر شعیب نبی، پروفیسر آف سائیکاٹری علی مدیح ہاشمی، پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر عمران، کنٹری منیجر فریڈ ہولو فاؤنڈیشن جناب فاروق اعوان اور فیکلٹی ممبران نے آسٹریلوی ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

یہ دورہ آسٹریلوی حکومت اور 'دی فریڈ ہولو فاؤنڈیشن' (FHF) اور کالج آف آفتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز کے درمیان شراکت داری کو اجاگر کرتا ہے، جو وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت اور سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں قابلِ علاج اندھے پن کی روک تھام اور آنکھوں کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

1998 سے جاری اس شراکت داری کی بدولت پاکستان میں اندھے پن کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، جو 1990 کی دہائی میں تقریباً 1.8 فیصد سے کم ہو کر آج 0.5 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں لوگوں کی بینائی بچائی گئی۔ اس عرصے کے دوران تقریباً 60 لاکھ افراد نے فریڈ ہولو فاؤنڈیشن اور کالج آف آفتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں سے استفادہ کیا۔ 2024 سے اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد کا معائنہ کیا گیا۔

30,000 سے زائد موتیے کے کامیاب آپریشنز، ذیابیطس کے باعث متاثر ہونے والی بینائی (Diabetic Retinopathy) کے ہزاروں مریضوں کا علاج، 66,000 سے زائد نظر کے چشموں کی فراہمی، 7,500 سے زائد طبی ماہرین اور کمیونٹی ورکرز کی تربیت کی گئی۔ آسٹریلوی ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین نے کہا آسٹریلیا کو پاکستان کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے جس کا مقصد قابلِ علاج اندھے پن کو کم کرنا اور معیاری علاج تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

یہ طویل المدتی تعاون بینائی کی بحالی، زندگیوں میں بہتری اور صحت کے ایسے مضبوط نظام کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے جس سے ملک بھر کی کمیونٹیز مستفید ہو رہی ہیں۔  فاروق اعوان، کنٹری منیجر فریڈ ہولو فاؤنڈیشن پاکستان نے کہا کہ گزشتہ 27 سالوں سے حکومت اور ہسپتالوں کے ساتھ ہماری شراکت داری آسٹریلوی تعاون سے ممکن ہوئی جس کی بدولت آنکھوں کی دیکھ بھال کی سہولیات کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچایا ہے۔

ہم مل کر ایسی پائیدار حکمت عملی تیار کر رہے ہیں جو صحت اور معاش کے مواقع کو خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے بہتر بناتی ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد معین، پرنسپل COAVS اور چیئرمین آئی ڈیپارٹمنٹ KEMU نے کہا کہ کالج آف آفتھلمولوجی اینڈ الائیڈ وژن سائنسز  میں جدید ترین طبی سہولیات اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی میں آسٹریلوی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ہماری مشترکہ کوششوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی شخص صرف اس لیے اپنی بینائی سے محروم نہ ہو جائے کہ وہ علاج کی استطاعت نہیں رکھتا۔

پروفیسر اسد اسلم خان، صوبائی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ اندھا پن پنجاب نے کہا پنجاب میں اندھے پن کے خلاف ہماری مہم میں آسٹریلوی حکومت اور فریڈ ہولو فاؤنڈیشن کا کردار مثالی رہا ہے۔ ان منصوبوں کی بدولت ہمیں نچلی سطح پر سسٹم کو مضبوط کرنے اور دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں بے پناہ مدد ملی جس کی وجہ سے ہم تدارک برائے نا بینا پن کے لیے موثر انداز سے اقدامات سر انجام دے رہے ہیں۔

پروفیسر محمود ایاز، وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے کہا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور میو ہسپتال میں آسٹریلوی تعاون سے قائم انفراسٹرکچر کے باعث ہم نہ صرف مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں بلکہ شعبہ امراض چشم میں تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے نئے راستے بھی کھول رہا ہے۔ ہم اس تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہش مند ہیں۔

Advertisement
’ہم مدد نہ کرتے تو آپ فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے‘، شاہ چارلس نے ٹرمپ پر طنز کر دیا

’ہم مدد نہ کرتے تو آپ فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے‘، شاہ چارلس نے ٹرمپ پر طنز کر دیا

  • ایک گھنٹہ قبل
ایشین بیچ گیمز: پاکستانی پہلوان انعام بٹ کو 90 کلوگرام کیٹیگری کے فائنل میں شکست

ایشین بیچ گیمز: پاکستانی پہلوان انعام بٹ کو 90 کلوگرام کیٹیگری کے فائنل میں شکست

  • 2 گھنٹے قبل
پی آئی اے کی نجکاری،عارف حبیب کنسورشیم نے 100 فیصد شیئرز حاصل کر لیے

پی آئی اے کی نجکاری،عارف حبیب کنسورشیم نے 100 فیصد شیئرز حاصل کر لیے

  • ایک دن قبل
آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ،آئی ایس پی آر

آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ،آئی ایس پی آر

  • ایک دن قبل
جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری 

جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری 

  • ایک دن قبل
شہریوں کیلئے اچھی خبر،نیپرا نے سولر صارفین کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کردیا

شہریوں کیلئے اچھی خبر،نیپرا نے سولر صارفین کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کردیا

  • ایک دن قبل
ایران تنازع امریکا کیلئے نئی سردجنگ بن گیا، امریکی نیوز ویب سائٹ

ایران تنازع امریکا کیلئے نئی سردجنگ بن گیا، امریکی نیوز ویب سائٹ

  • ایک دن قبل
اسحا ق ڈار کا  انتونیو گوتریس سے ٹیلیفونک رابطہ،،پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف، مکمل حمایت کا اعادہ

اسحا ق ڈار کا  انتونیو گوتریس سے ٹیلیفونک رابطہ،،پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف، مکمل حمایت کا اعادہ

  • 21 گھنٹے قبل
ایران کو کسی قیمت پر نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، ڈیل نہیں ہوئی تو دباؤ برقرار رکھیں گے، روبیو

ایران کو کسی قیمت پر نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، ڈیل نہیں ہوئی تو دباؤ برقرار رکھیں گے، روبیو

  • ایک دن قبل
بریانی کے بعد تربوز کھانے سے میاں، بیوی سمیت پورا خاندان جاں بحق

بریانی کے بعد تربوز کھانے سے میاں، بیوی سمیت پورا خاندان جاں بحق

  • ایک دن قبل
افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائیاں جاری

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائیاں جاری

  • 3 گھنٹے قبل
یو اے ای کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان 

یو اے ای کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان 

  • ایک دن قبل
Advertisement