Advertisement
پاکستان

فیلڈ مارشل کا ایرانی آرمی چیف سے رابطہ، سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمےکا عزم

جنرل موسوی نے سرحد پار دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کی نشاندہی کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 26th 2025, 10:34 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
فیلڈ مارشل کا ایرانی آرمی چیف سے رابطہ، سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمےکا عزم

راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی آرمی چیف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کے مابین رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں سربراہان نے  مشترکہ سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل موسوی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں فریقین نے سرحدوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خاتمےکے عزم کا اظہار کیا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنرل موسوی نے کہا کہ ایران دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

رابطے کے دوران جنرل موسوی نے سرحد پار دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کی نشاندہی کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیلڈ مارشل منیر نے بھی مشترکہ سرحدوں کے تحفظ کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ دونوں فریقین کو پاکستان-ایران سرحد کو دوستی، بھائی چارے اور اقتصادی ترقی کی سرحد میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔

بیان کے مطابق فیلڈ مارشل منیر نے پاکستانی قوم کے لیے جنرل موسوی کی ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے متاثرین کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

رابطے کے دوران میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان کے عزیز بھائیوں کو اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن مدد فراہم کرنے پر فخر محسوس کرے گا،انہوں نے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک مختلف سطحوں پر رابطے اور تعاون کر رہے ہیں۔

ایرانی آرمی چیف نے خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے لیے پاکستان کے مؤقف اور حمایت کو سراہا۔
خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 900 کلومیٹر طویل سرحد کو ایک لمبے عرصے سے کالعدم گروہوں، جن میں جیش العدل اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ایران نے رواں ماہ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سرحدی علاقوں میں امن و خوشحالی، دہشت گردی کے مؤثر مقابلے پر منحصر ہے۔

Advertisement