اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہوں گے، وزیر اعظم لوک فریڈن


یورپی ملک لکسمبرگ نے بھی فلسطین کو بطور ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم لوک فریڈن کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہوں گے، حتمی فیصلہ فرانس اور بیلجیئم کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے عرب نیوز کے مطابق لکسمبرگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہوگا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل کی تقریباً دو سالہ کارروائی پر عالمی سطح پر مذمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون فلسطینی ریاست کے باضابطہ اعتراف کے لیے یورپی اور عالمی سطح پر کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
لکسمبرگ کے وزیرِ اعظم لوک فریڈن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’گزشتہ چند ماہ میں زمینی صورتحال میں نمایاں بگاڑ آیا ہے،‘‘ اور اب یورپ و دنیا میں ایک نئی تحریک ابھر رہی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ دو ریاستی حل آج بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں لکسمبرگ کی حکومت آئندہ ہفتے فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہوگی۔ اس سے قبل برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بیلجیم سمیت کئی ممالک اس فیصلے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل اور اس کا قریبی اتحادی امریکا اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اسے ’’حماس کے حوصلے بڑھانے‘‘ کے مترادف قرار دیا۔
اس وقت اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے149 فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔
دریں اثنا، ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی حکومت نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے لکسمبرگ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی ایسا کرنے کی اپیل کی۔
ایک بیان میں فلسطینی وزارتِ خارجہ نے وزیرِاعظم لوک فریڈن اور وزیرِخارجہ زاویئر بیٹل کو سراہا اور اسے ’ ایک بہادرانہ مؤقف قرار دیا جو بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ ہے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔’
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے ان ممالک پر زور دیا جنہوں نے ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ فوری طور پر ایسا کریں، اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات جنگ کے خاتمے اور امن کے فروغ پر عالمی اتفاقِ رائے کو مضبوط کریں گے۔
یاد رہے کہ غزہ میں جنگ کا آغاز اکتوبر 2023 میں ہوا جب حماس کے حملے میں 1,219 افراد مارے گئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 64,905 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت شہریوں کی ہے۔ ان اعداد و شمار کو اقوامِ متحدہ بھی معتبر مانتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے تحقیق کاروں نے منگل کو اپنی رپورٹ میں اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ میں ’’نسل کشی‘‘ کے مرتکب ہوئے ہیں اور فلسطینی عوام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں اسرائیلی وزیرِ اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کو اشتعال انگیزی اور نفرت پر مبنی بیانات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

قومی اسمبلی میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حق میں قرارداد منظور
- 3 days ago

نوشکی: مسلح افرادکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
- 3 days ago

بھارتی سکیورٹی فورس نے سرکریک سے 4 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتارکرلیا
- 4 days ago

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- a day ago

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 4 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 14 hours ago

ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور
- 4 days ago

لام فیشن ویک تمام ترجلوے اور رنگینیاں بکھیرتا اختتام پذیر
- 3 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 14 hours ago

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا
- 4 days ago

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود میں اضافہ
- 4 days ago

گلوکار جبران راحیل کی عالمی سطح پر کامیابیاں، بطور پلے بیک سنگر بھی مداحوں کے دل جیت لیے
- 3 days ago





