Advertisement

اسرائیل نے دو برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے ان دونوں برطانوی ارکان کو سرحد پر ہی روک دیا اور اسرائیل میں داخل ہونے سے منع کر دیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Sep 17th 2025, 5:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیل نے دو برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا

برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کے دو ارکان پارلیمنٹ کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت نہ دی گئی۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق رکنِ پارلیمنٹ سائمن اوفر اور پیٹر پرنسلے ایک پارلیمانی وفد کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر تھے، جہاں وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری طبی و امدادی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے ان دونوں برطانوی ارکان کو سرحد پر ہی روک دیا اور اسرائیل میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔

دونوں ارکان پارلیمنٹ نے اس رویے کو افسوسناک اور غیر ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں اور سہولیات کو قریب سے دیکھنا چاہتے تھے تاکہ پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھا سکیں، لیکن اسرائیلی حکام نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

ادھر لندن میں اسرائیلی سفارت خانے نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جب کہ برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل کی جانب سے اس اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق فارن آفس منسٹر ہمیش فالکنر اور دیگر اعلیٰ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیلی حکام سے اس طرزِ عمل پر باضابطہ طور پر اظہارِ ناپسندیدگی کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں، اس سے قبل بھی اسرائیلی حکام بعض برطانوی قانون سازوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روک چکے ہیں۔

Advertisement