Advertisement
پاکستان

سپریم کورٹ کا ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دینے اور قانون سازی کا حکم

سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انٹرا کورٹ اپیلوں پر فیصلہ سنایا تھا جن میں سے  پانچ ججز نے انٹراکورٹ اپیلوں کو منظور اور دو ججز نے مسترد کیا تھا

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Sep 22nd 2025, 9:22 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سپریم کورٹ کا ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دینے اور قانون سازی کا حکم

اسلام آباد:پاکستان سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان  کو اپیل کا حق دینے اور  45 دن میں قانون سازی  کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے طابق پاکستان سپریم کورٹ نے سویلین کے کورٹ مارشل کے حوالے سے انٹراکورٹ اپیلوں کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا،اکثریتی فیصلہ جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا۔

سویلین کے کورٹ مارشل کے حوالے سے انٹراکورٹ اپیلوں پر فیصلہ7مئی 2025 کو سنایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انٹرا کورٹ اپیلوں پر فیصلہ سنایا تھا جن میں سے  پانچ ججز نے انٹراکورٹ اپیلوں کو منظور اور دو ججز نے مسترد کیا تھا۔

جسٹس امین الدین خان نے 68 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،جسٹس محمد علی مظہر نے 47 صفحات کا اضافی نوٹ بھی لکھا،جسٹس امین،جسٹس حسن رضوی،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال نے اضافی نوٹ سے اتفاق کیا،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم افغان نے اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا،سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلوں میں ملٹری ٹرائل کی اجازت دی تھی۔

 فیصلے میں ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ مجرموں کو اپیل کا حق دینے  اور اپیل کا حق دینے کےلیے45 دن میں حکومت کو قانون سازی کا حکم دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے اپیل کا حق دینے کیلئے 45 دن میں حکومت کو قانون سازی کا حکم بھی دیا۔

Advertisement