اسلامی دنیا میں نئی پراکسی وار:سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر کھڑے اماراتی جہازوں پر فضائی حملے
یہ کارروائی منگل کو یمن کے ایک علیحدگی پسند گروہ کے لیے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،سعودی حکام


صنعا: اسلامی دنیا میں ایک نئی پراکسی وار شروع ہونے کے قریب ہے، سعودی عرب نے یمن کے ساحلی شہر المُکلّہ کی بندرگاہ پراماراتی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کر دیا ہے۔
اس حوالے سے سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی منگل کو یمن کے ایک علیحدگی پسند گروہ کے لیے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے حالیہ اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو اس بات پر تشویش ہے کہ فجیرہ کی بندرگاہ سے المُکلہ بندرگاہ تک اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں لے جانے والے اماراتی جہاز سعودی اتحاد کی مشترکہ کمان کی باضابطہ منظوری کے بغیر منتقل کیے گئے۔
سعودی اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے مکلا بندرگاہ پر اتارے گئے اسلحے اور فوجی گاڑیوں کو ایک محدود کارروائی میں نشانہ بنایا ہے،یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب دو بحری جہاز بغیر اجازت بندرگاہ میں داخل ہوئے اور مشرقی یمن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے لیے اسلحہ اور عسکری سامان اتارا گیا۔
اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ دونوں جہاز 27 اور 28 دسمبر 2025 کو فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر مکلا پہنچے، تاہم انہوں نے اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ عملے نے اسلحہ اور فوجی گاڑیوں کی بڑی مقدار اتارنے سے قبل جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز کو بھی بند کر دیا تھا۔
جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) 2015 میں سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف بننے والے اتحاد کا حصہ تھی، تاہم بعد میں اس نے جنوبی یمن کی خودمختاری کی مہم شروع کر دی۔
حالیہ دنوں میں جنوبی یمن کے پرچم بھی لہرائے جا رہے ہیں اور مظاہروں میں علیحدگی کے حق میں نعرے لگائے جا رہے ہیں۔
سعودی عسکری اتحاد کے بیان میں کہا گیا کہ ان جہازوں نے المکلہ پہنچنے کے بعد اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے اور بھاری مقدار میں ہتھیار اور فوجی گاڑیاں اتاریں، جو امن اور استحکام کے لیے فوری خطرہ سمجھی گئیں۔ اسی بنیاد پر اتحادی فضائیہ نے محدود فضائی کارروائی کرتے ہوئے ان ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ رات کے وقت کیا گیا تاکہ کسی قسم کے جانی یا ضمنی نقصان سے بچا جا سکے، سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر اس حملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم یمن کی جنوبی عبوری کونسل کے زیر انتظام سیٹلائٹ چینل نے حملے کی تصدیق کی، البتہ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایران کا دوٹوک پیغام:اگر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے،عباس عراقچی
- ایک دن قبل

بھارتی ریاست ہریانہ میں جھولا گرنے سے پولیس انسپکٹر ہلاک اور 17 زخمی
- ایک دن قبل

اسحا ق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،باہمی تعلقات،مشترکہ مفادات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

اسلام آبادخود کش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہو گئی، درجنوں زیرِ علاج
- ایک دن قبل

اسلام آباد راولپنڈی میں چلنے والی میٹرو بس سروس بند کر دی گئی
- ایک دن قبل

مریم نواز نے عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے بسنت کا وقت بڑھا دیا،دیگر شہروں میں بھی منانےکا عندیہ
- 21 گھنٹے قبل

سربراہ پاک بحریہ کا ملائیشیا کا سرکاری دورہ ،ملائیشین نیوی کی اعلی قیادت سے ملاقات
- ایک دن قبل

سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
- ایک دن قبل

غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ رواں ماہ امریکا میں ہوگی،اراکین کو دعوت نامے ارسال
- ایک دن قبل

طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون کے پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں،صدر مملکت
- 21 گھنٹے قبل

پاکستان کی فارما صنعت میں تاریخی سنگِ میل، ملک عالمی معیار کے جدید پیداواری پلانٹ کا آغاز
- 18 گھنٹے قبل

پی سی بی اور آئی سی سی کی ہنگامی میٹنگ: بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر لاہور پہنچ گئے
- ایک دن قبل








.jpg&w=3840&q=75)

