Advertisement
پاکستان

 افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر درست انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں،عطا اللہ تارڑ

پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا اور کارروائیوں کا ہدف صرف دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ اور ان کا معاون نظام ہے،عطا تارڑ

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 months ago پر Mar 9th 2026, 4:53 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر درست انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں،عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر ملکی جریدوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا اور کارروائیوں کا ہدف صرف دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ اور ان کا معاون نظام ہے۔

دوران گفتگو عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے خیالی اعداد و شمار کسی سنجیدہ تبصرے کے بھی قابل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوے درست نہیں بلکہ محض پراپیگنڈا ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے افغان طالبان رجیم اور افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق خبروں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی کی ان معلومات کا مکمل انحصار طالبان حکومت پر ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے مشترکہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم متعدد دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کے تمام حملوں کا فوری اور مؤثر انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کے معاونین بشمول افغان طالبان کے فوجی اڈوں کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔

Advertisement
Advertisement