مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کا جنگ بندی فریم ورک ایران اور امریکا کو موصول، رائٹرز کا دعویٰ
فیلڈ مارشل عاصم منیر جنگ بندی کی تجویز کے حوالے سے گزشتہ رات جے ڈی وینس، مشیر اسٹیو وٹکوف اور عباس عراقچی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے،رائٹرز


اسلام آباد: برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر ز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحران کے خاتمے کیلئے پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ ابتدائی فریم ورک امریکا اور ایران کو موصول ہو گیا ہے جس کی ایرانی حکام کی جانب سے تصدیق کر دی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق جنگ بندی تجویز سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہےکہ پاکستان کی جانب سے شیئر کیا گیا جنگ بندی فریم ورک 2 مراحل پر مشتمل ہے،پہلے مرحلےمیں فوری جنگ بندی اور بعد میں جامع جنگ بندی معاہدہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق تمام نکات پر آج ہی اتفاق ضروری ہے اور ابتدائی مفاہمت کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دی جائے گی۔ ان مذاکرات میں پاکستان واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر جنگ بندی کی تجویز کے حوالے سے گزشتہ رات امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ممکنہ طور پر 45 روزہ جنگ بندی پر بھی بات چیت جاری ہے، جو دو مرحلوں پر مشتمل ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے جو بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے پر نتیجہ خیز ہو۔
پاکستا ن کی جانب سے تجویز کر دہ منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع تر تصفیہ طے کیا جائے گا، جس کو ممکنہ طور پر اسلام آباداکارڈ کا نام دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب سینئر ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہو گئی ہے، ایران پاکستان کی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، کسی فیصلے کے لیے کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
دفتر خارجہ کا تصدیق یا تردید سے گریز
دوسری جانب پاکستانی حکام نے ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مجوزہ فریم ورک پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حاندرانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مجوزہ فریم ورک کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا 45 دن کی جنگ بندی کی پیشکش یا 15 نکاتی تبادلے سے متعلق کئی رپورٹس سامنے آئی ہیں تاہم ہم انفرادی اور مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں امن کے لیے سفارتی عمل اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی حکام اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے، بشرطیکہ اسے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت مختلف ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 4 days ago

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 2 days ago
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- 3 days ago
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 2 days ago
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 3 days ago
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 2 days ago

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 3 days ago
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 3 days ago
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 3 days ago

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 3 days ago
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 3 days ago
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 3 days ago
