مذاکرات کے دور میں مخالف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا،باقر قالیباف
میں 21 گھنٹوں پر مشتمل سخت مذاکرات میں شریک اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں: شاباش، اللہ آپ کو قوت دے،باقر قالیباف


تہران: یرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ اور سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں بھی مخالف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ثالثی اور میزبانی میں امریکا اور ایران کےمابین ہونے والےمذاکرات کے حوالے ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں؟
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی وفد میں میرے ساتھیوں نے مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے تجاویز پیش کیں، مخالف فریق اس مرحلے میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ایک پوسٹ میں باقر قالیباف نے لکھا کہ مذاکرات سے قبل انہوں نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کے پاس نیک نیتی اور سنجیدہ ارادہ موجود ہے، تاہم گزشتہ دو جنگوں کے تجربات کی بنیاد پر مخالف فریق پر کوئی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر محاذ کو، فوجی جدوجہد کے ساتھ ساتھ، اقتدار کی سفارت کاری کا ایک اور ذریعہ سمجھتے ہیں تاکہ ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، اور ہم ایران کے قومی دفاع کے چالیس دنوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں ایک لمحے کے لیے بھی کمی نہیں آنے دیں گے۔
ایکس پرجاری بیان میں ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ وہ اس مذاکراتی عمل کو ممکن بنانے میں پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کی کوششوں پر شکر گزار ہیں، اور پاکستان کے عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزیدکہا کہ ایران 9 کروڑ افراد پر مشتمل ایک قوم ہے، میں ایران کے تمام بہادر عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے رہبرِ اعلیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر اپنے بچوں کی حمایت کی اور ہمیں اپنی دعاؤں کے ساتھ روانہ کیا، اس پر میں ان کا ممنون ہوں، اور ان 21 گھنٹوں پر مشتمل سخت مذاکرات میں شریک اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں: شاباش، اللہ آپ کو قوت دے۔
انہوں نے ایکس پر آخر میں لکھا کہ زندہ باد اور ہمیشہ قائم رہے ہمارا پیارا ایران!
دوسری جانب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے، دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کےلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں، امید ہے کہ امریکہ اور ایران امن کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے، پاکستان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات 21 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے خاتمے پر اسے ایران کے لیے بری خبر قرار دیا اور کہا کہ ان کی ٹیم اپنی آخری اور بہترین پیشکش سامنے رکھنے کے بعد اب واپس جا رہی ہے۔

وزیر اعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات،عالمی و علاقائی امن کی صورتحال اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھیں گے،اسحاق ڈار
- 4 گھنٹے قبل

پاکستانی کسان اور موسمیاتی تبدیلی:سیلاب اور بے موسمی بارشوں کے اثرات
- ایک دن قبل

"خون پانی سے گاڑھا ہوتا ہے" کہنے والی آشا بھوسلے دنیا سے رخصت ہو گئیں، بھارتی موسیقی کا سنہری باب بند
- 2 گھنٹے قبل

وزیر اعظم شہباز شریف کا جون میں دورہ روس کا امکان، پیوٹن سے ملاقات متوقع
- ایک دن قبل

ہر نسل کے دلوں پر راج کرنے والی معروف بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے انتقال کر گئیں
- 3 گھنٹے قبل

ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے،ابھی تک حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے،جے ڈی وینس
- 4 گھنٹے قبل

جے ڈی وینس کی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم سےملاقات،دو طرفہ تعلقات اورعلاقائی امور پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد واپس امریکا روانہ
- 4 گھنٹے قبل

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات جاری
- 21 گھنٹے قبل

جنگ بندی کے بعد ایران میں تباہ شدہ توانائی تنصیبات کی بحالی کاعمل شروع
- 4 منٹ قبل

بات چیت میں متعدد نکات پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے،ہم نےسفارتکاری کا راستہ بند نہیں،ایران
- 4 گھنٹے قبل



.jpg&w=3840&q=75)

.webp&w=3840&q=75)






