لاہور میں ویب کون 2026 کا انعقاد:ورک پلیس پر صنفی عدم مساوات اور خواتین کی قیادت پرزور
کانفرنس سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ پاکستان میں خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، مگر رسمی شعبہ روزگار میں ان کی شرکت 25 فیصد سے بھی کم ہے


لاہور:(واصف محمود) صوبائی دارالحکومت لاہور میں 18ویں سالانہ ویمن اِن بزنس اینڈ لیڈرشپ کانفرنس (WIBCON 2026) منعقد ہوئی، جس میں 700 سے زائد چیف ایگزیکٹوز، کارپوریٹ رہنماؤں، ماہرین اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ “دی اِنکلیوسِو شفٹ” کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس میں شمولیت، قیادت اور کام کی جگہ پر مساوات جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق یہ کانفرنس پاکستان سوسائٹی فار ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (PSTD) کے زیر اہتمام جبکہ گورمیٹ فوڈز اینڈ بیوریجز پاکستان کے تعاون سے منعقد کی گئی۔
کانفرنس سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ پاکستان میں خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، مگر رسمی شعبہ روزگار میں ان کی شرکت 25 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ اعلیٰ کارپوریٹ عہدوں اور بورڈ رومز میں خواتین کی نمائندگی نہایت محدود ہے۔
دوران کانفرنس شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو ملازمت کی جگہوں پر امتیازی سلوک، تنخواہوں میں عدم مساوات، ترقی کے محدود مواقع اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جو انہیں قیادت کے عہدوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔
پاکستان سوسائٹی فار ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے صدر فہد چنائے نے اپنے افتتاحی خطاب میں اداروں پر زور دیا کہ وہ صرف نمائشی وعدوں کے بجائے ایسے کام کے ماحول تشکیل دیں جہاں تنوع اور شمولیت کو فیصلہ سازی اور قیادت کا مستقل حصہ بنایا جائے۔
کانفرنس کے اہم سیشنز میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی گفتگو شامل تھی، جنہوں نے سفارت کاری کے تناظر میں قیادت، مکالمے، ہمدردی اور باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو قیادت اور پالیسی سازی سے الگ رکھ کر معاشرے ترقی نہیں کر سکتے۔
کانفرنس میں “Leadership in Practice: Closing the Advancement Gap” کے عنوان سے ایک خصوصی CEO پینل بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف کارپوریٹ اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ پینل میں کام کی جگہوں پر صنفی، مذہبی، ثقافتی اور جسمانی امتیاز کے خاتمے، مساوی تنخواہوں، قیادت کے مواقع اور خواتین کو درپیش رکاوٹوں پر گفتگو کی گئی۔
مقررین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان میں خواتین کو اکثر مردوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے تاکہ انہیں برابر کی شناخت اور ترقی کے مواقع مل سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شمولیت کو کاروباری حکمت عملی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
کانفرنس میں ترکیہ کی مثال بھی دی گئی، جہاں خواتین کے لیے نسبتاً محفوظ اور شمولیتی کام کے ماحول کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان ایسے ممالک سے سیکھ کر خواتین کے لیے مزید محفوظ اور بااختیار ورک پلیسز تشکیل دے سکتا ہے۔
ایک اور سیشن “From Visibility to Voice” میں سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی اور لیڈرشپ کوچ اندلیب عباس نے خواتین کی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں ان کی مؤثر شمولیت پر گفتگو کی۔ مقررین نے کہا کہ صرف نمائندگی کافی نہیں بلکہ خواتین کی آواز کو سننا اور انہیں فیصلہ سازی میں حقیقی اختیار دینا ضروری ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں شمولیت کی بحث اب صرف نمائندگی تک محدود نہیں رہی بلکہ اب توجہ مساوی مواقع، احتساب، اثر و رسوخ اور خواتین سمیت مختلف طبقات کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے۔
حماس کے نئے سربراہ مقرر، خاص شخصیت کون ہیں؟
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 5 گھنٹے قبل
رجب بٹ کی اہلیہ ایمان سے صلح؟ حقیقت سامنے آگئی
- 6 گھنٹے قبل
برسبین میں مینگو ملٹی کلچرل میلہ، پاکستانی ثقافت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ
- 6 گھنٹے قبل

امریکا ایران حملوں میں شدت، خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ
- ایک دن قبل
تھانیدار نے اپنے ہی ایس پی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا
- ایک دن قبل

11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 کامیابی سے اختتام پذیر، صنعتی تعاون کو نئی تقویت
- 2 دن قبل
سعودی عرب نے ایک سالہ نیا ویزا متعارف کرا دیا
- ایک دن قبل
سینئر پولیس افسر بدعنوانی پر نوکری سے فارغ، وجہ سامنے آگئی
- ایک گھنٹہ قبل
شیخوپورہ: اسٹیج اداکارہ پر دوران ڈرامہ مسلح شخص کا ساتھیوں سمیت تشدد
- 2 دن قبل
ڈالر ہی ڈالر: فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین کو تاریخی انعامی رقم ملی
- ایک دن قبل
بجلی کی خرید و فروخت میں اربوں کی مبینہ کرپشن، فیسکو کے دو سابق چیف ایگزيکٹو گرفتار
- 2 دن قبل


.jpeg&w=3840&q=75)

