وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کا ساڑھے 17 ہزار ارب کے وفاقی بجٹ کا مسودہ منظورکرلیا
موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے،طارق فضل چودھری


اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے اگلے مالی سال کا ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ کا مسودہ منظور کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کابینہ ارکان کو نئے بجٹ کے اہم نکات پر تفصیلی بریفنگ دی، جس کے بعد کابینہ نے باقاعدہ طور پر بجٹ کی منظوری دے دی۔اب یہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا جس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بجٹ کو محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے، اور اس میں قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر پارلیمانی امورز ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی کے بعد بجٹ دستاویز شام 5:00 بجے سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔
اسی طرح نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائیگی۔ اس کے علاوہ ملکی دفاع کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 3 ہزار ارب روپے رکھا جائیگا۔
علاوہ ازاں حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان تیار کیا ہے جبکہ بجٹ میں برآمدات کا ہدف 32 اعشاریہ 8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف کے طور پر ان کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے جس کے تحت اگلے مالی سال میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا بلکہ پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر کام جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی نئے مالی سال کے دوران سابق فاٹا کے علاقوں کو حاصل ٹیکس استثنا بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے مسلم لیگ نے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تمام اتحادی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے۔
طارق فضل چودھری نےاپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین کو بجٹ اجلاس کے دوران مثبت جمہوری کردار ادا کرنا چاہیے اور ہنگامہ آرائی کے بجائے وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کو غور سے سننا چاہیے تاکہ وہ اس پر تعمیری اور مثبت معاشی تجاویز دے سکیں۔

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 5 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 5 دن قبل
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- 3 دن قبل
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- 3 دن قبل

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- 3 دن قبل

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 3 دن قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 2 دن قبل
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- 3 دن قبل
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 2 دن قبل
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- ایک دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 3 دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 5 دن قبل


