Advertisement

لاہور میں دو غیر ملکی خواتین اغوا، زیادتی اور ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان کے مقدمے میں 4 ملزمان گرفتار

وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس، سیف سٹی کی مدد سے لاہور پولیس کا 2 گھنٹے میں بڑا ریسکیو آپریشن

GNN Web Desk
شائع شدہ a month ago پر Jul 2nd 2026, 9:58 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین اغوا، زیادتی اور ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان کے مقدمے میں 4 ملزمان گرفتار

لاہور (سرفراز احمد): لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، مبینہ زیادتی اور ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان کی وصولی کے لیے انہیں یرغمال بنانے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سخت نوٹس اور پولیس کو دیے گئے دو گھنٹے کے ٹاسک کے بعد، لاہور پولیس نے سیف سٹی کی مدد سے برق رفتار ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کروا کر 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی اسٹیفنی ایڈانا ماؤ اور وینزویلا کی شہری مس آسٹریا رابنسن باراچو اپنے بیرونِ ملک مقیم دوست رضا ڈار کی دعوت پر 29 جون کو پاکستان پہنچی تھیں، جو انہیں ڈیفنس سی کی حدود میں واقع ایک گھر میں لے گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق، وہاں ملزمان نے خواتین کو اسلحے کے زور پر حبسِ بے جا میں رکھا، انہیں برہنہ کیا اور بیرونِ ملک ان کے اہلخانہ سے رابطہ کر کے 1.5 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ایک خاتون سے زیادتی کی کوشش جبکہ دوسری خاتون سے تین ملزمان کی جانب سے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔

واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ہالینڈ میں موجود ایک متاثرہ خاتون کے والد نے پاکستان میں ہنگامی ہیلپ لائن '15' پر کال کر کے بیٹی کے اغوا کی اطلاع دی۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق، پولیس نے اطلاع ملتے ہی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا اور دو گھنٹے کے اندر مغوی خواتین کو بازیاب کروا کر تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ نمبر 1560/26 درج کر لیا۔

مقدمے کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے پولیس نے دونوں غیر ملکی خواتین کو کینٹ کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں پیش کیا، جہاں انہوں نے اپنی وکیل بیرسٹر عاصمہ حمید کی موجودگی میں دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ متاثرہ خواتین کا طبی معائنہ کروا لیا گیا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی جاری ہے۔

ادھر پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزمان میں مبینہ طور پر ایک حکومتی شخصیت کا قریبی رشتہ دار (نواسا) بھی شامل ہے، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

 

Advertisement