Advertisement
پاکستان

شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ لاپتا، بحیرۂ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق طیارے نے کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول سے آخری بار کل رات تقریباً 9:21 بجے رابطہ کیا، جس کے چند لمحوں بعد اس کا ریڈیو اور ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگی

GNN Web Desk
شائع شدہ a month ago پر Jul 8th 2026, 5:10 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ لاپتا، بحیرۂ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

ویب ڈیسک: شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ کراچی پہنچنے سے قبل لاپتا ہوگیا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق طیارے نے کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول سے آخری بار کل رات تقریباً 9:21 بجے رابطہ کیا، جس کے چند لمحوں بعد اس کا ریڈیو اور ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

آخری لوکیشن کہاں تھی؟

پاکستانی حکام کے مطابق طیارے سے آخری رابطہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں بحیرۂ عرب کے اوپر ہوا تھا۔

طیارے میں کون سوار تھا؟

ایئرلائن کے مطابق طیارے میں  پانچ پاکستانی عملے کے ارکان سوار تھے۔ کمپنی نے عملے کی شناخت بھی جاری کر دی، جن میں کپتان محمد رضوان ادریس اور فرسٹ آفیسر فیصل محمد محمود شامل ہیں، جبکہ دیگر عملے کے ارکان کی تفصیلات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کہاں اور کیسے جاری ہے؟

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق طیارے سے آخری رابطہ کراچی کے مغرب میں بحیرۂ عرب کے اوپر ہوا۔ جس کے بعد پاکستان نیوی، پاک فضائیہ اور دیگر ادارے بحیرۂ عرب میں مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔ خراب موسم اور بلند لہروں کے باوجود تلاش کا عمل جاری ہے۔

ایئرلائن کا مؤقف کیا ہے؟

ایئرلائن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور عملے کی محفوظ بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاحال طیارے یا عملے کے بارے میں کسی حتمی نتیجے یا حادثے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔

حکومتی مؤقف

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی پیش رفت سامنے آئے گی، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

Advertisement
Advertisement