پاکستان کے ساتھ اتحاد کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا : افغان وفد
پاکستان میں موجود افغان وفد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اتحاد کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا ۔


تفصیلات کے مطابق افغان وفد کا کہنا تھا کہ اب تک طالبان نے جو کچھ کہا وہ صرف الفاظ تھے ، ان کے عمل سے فرق پڑے گا ، جنگی طور پر قبضہ لوگوں پر حکمرانی کے برابر نہیں ہے۔
دورہ پاکستان میں افغان وفد نے وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں کیں ۔
پاکستان میں موجود افغان وفد کا کہنا ہے کہ طاقت اور ہتھیاروں کے زور سے حکومت قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ حکومت کرنے کا مقصد عوام کی نمائندگی ہوتا ہےجبکہ افغانستان میں ایک فریق کی حکومت کو مسترد کرتے ہیں ایسی حکومت کی ضرورت ہے جس میں ہر طبقے اور فرقے کی نمائندگی ہو۔
اسلام آباد میں افغان وفد نے پریس کانفرنس کی جس میں سابق افغان نائب صدر یونس قانونی نے کہا کہ وہ افغانستان کی عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ایسی حکومت چاہتے ہیں جس میں خون خرابے کے بغیر امن قائم ہو۔
وفد نے یہ بھی کہا کہ اگر طالبان ماضی کی غلطیاں دہرائیں گے تو ٹِک نہیں سکیں گے۔
افغان وفد کا کہنا تھا کہ ہم نےدورے میں پاکستان کی حکومت ،آرمی چیف،ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی۔افغان وفدکا کہنا تھا کہ ہمارے دورے کا مقصد ایک جامع حکومت بنانااور عورتوں ،بچوں اور عوام کو تحفظ دینا ہے۔ہم پاکستانی حکام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہماری آمد کا مقصد پاکستان سے بہتر تعلقات بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تمام دھڑوں اور لوگوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک حکومت اور مختلف نسل پرست گروپس، عورتوں کے حقوق اور پریس فریڈم چاہتے ہیں ، ہم ایک دھڑے کی حکومت کو مسترد کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغان حکومت آئین کی بالادستی اور قانون پر چلے۔
افغان وفد نے کہا کہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ افغانستان میں ایک پر امن دور آسکتا ہے جو ہوا وہ ماضی ہے، ہم پاکستان اس لیے آئے کہ نئی حکومت کی بات کی جاسکے۔
ایک سوال کے جواب میں وفد کے اراکین نے کہا کہ شروع سے واضح تھا کہ اشرف غنی بھاگ جائیں گےاور الزامات کے مطابق 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر نقد لے کر بھاگئے ہیں جبکہ اشرف غنی کی ناکامی کی وجہ پاور شیئرنگ کا نہ ہونا تھا۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل افغان رہنماؤں کا وفد اسلام آباد پہنچا تھا جس میں ہزارہ کمیونٹی کے 2 اہم رہنما استاد محقق اور کریم خلیلی بھی کابل سے پاکستان پہنچے تھے ان کے علاوہ بلخ کے سابق گورنرسردارعطانور کے بیٹے خالد نور بھی کابل سے پاکستان پہنچے تھے۔
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 2 days ago
تیسرے ہاکی ٹیسٹ میں پاکستان کی جنوبی کوریا کو 3-4 سے شکست
- 18 hours ago
دوسرا ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز 117 رنز پر ڈھیر، پاکستان کی جانب سے 75 رنز کے ہدف کا تعاقب جاری
- 13 hours ago
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 4 days ago
عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر اتفاق ہو گیا، اعلان جلد متوقع: ایران
- 12 hours ago

سونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 18 hours ago

جموں وکشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم
- 12 hours ago
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 2 days ago
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 2 days ago
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 2 days ago
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 2 days ago

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- 2 days ago

