راولپنڈی: ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آپریشن ردالفساد کو چار سال مکمل ہوگئے۔ 4سال میں 353دہشت گردوں کو ہلاک کیا ۔ اب تک 48ہزارسےزائد بارودی سرنگیں ناکارہ بنا دی گئیں۔دہشتگردی سےسیاحت تک کاسفرانتہائی کٹھن ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے آپریشن ردالفساد سے متعلق پریس بریفنگ میں کہا کہ دہشت گردو ں کے خلاف پاک فوج نے آپریشنز کیے۔ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف کی قیادت میں آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا۔ آج ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد ملک میں امن کا قیام تھا۔ آپریشن ردالفساد کا دائرہ پورے ملک پر محیط تھا۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا تھا۔ آپریسشن ردالفساد کا محور عوام تھے، آپریسن کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔ آپریشن کے حوالے سے ٹائمنگ بہت اہم ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن رد الفساد 2 نکاتی حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔ دہشتگردوں نے ملک کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ آپریشن ردالفساد کا مقصد دہشت گردوں کو غیر موثر کرنا تھا۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ قبائلی علاقے کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے۔ ملک بھر میں 3 لاکھ سے زائد انٹیلیجنس بنیاد پر آپریشن کیےجاچکے ہیں۔ دہشتگردوں نے پاکستان میں زندگی مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 72 ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحہ ملک بھر سے برآمد کیا گیا۔ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کو ناکام بنایا گیا۔ گوادر میں ہوٹل پر حملے کے دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ 750 مربع کلومیٹر سے زائد علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی۔انہوں نے کہا کہ ایک ہزار 684 کراس بارڈرواقعات ہوئے۔ آپریشن ردالفساد کے تحت خیبرآپریشن فور بھی کیا گیا۔ پاک افغان بارڈر کام 84 فیصد مکمل کر لیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشنز کے دوران بہت سے لوگ بے دخل ہوئے۔ خفیہ اداروں نے سخت محنت سے بڑے دہشت گردنیٹ ورک پکڑے۔ اب تک آپریشن کے دوران 48 ہزار سے زائد بارودی سرنگیں ریکور کی گئیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایک ہزار 200 سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔ پیغام پاکستان نے شدت پسندی کے بیانیے کو بڑی حد تک شکست دی۔ 195 دہشت گردوں کو مختلف سزائیں سنائی گئیں۔ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آج گوادرمیں ترقیاتی کام ہورہے ہیں اور کراچی میں امن ہے۔ بارودی سرنگوں کو غیرفعال کرتے ہوئے ہمارے 2 سپاہی شہید اور 119 زخمی ہوئے۔ شدت پسندی کیطرف مائل 5 ہزار افراد کو معاشرے کا کارآمد حصہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیررازم (دہشت گردی) سے ٹوورازم (سیاحت) کا سفر انتہائی کٹھن اور صبر آزما رہا۔ کراچی میں امن و امان سے متعلق واضح بہتری آئی۔ 23 مارچ کی پریڈ کا انعقاد بھرپور طریقے سے ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آج ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہیں۔ آج یوم پاکستان کا مقصد ہے ایک قوم، ایک منزل۔ امن کاسفر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال ہم قدرتی آفات سے بھی نبرد آزما تھے۔ کورونا کا مقابلہ حکمت عملی اور دانشمندی سے کیا۔ مردم شماری کا انعقاد کامیابی سے کیا گیا۔پاکستان مخالف بیانیے کوشکست دی گئی۔

پاکستان میں مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود کتنا ہو گیا؟
- 5 گھنٹے قبل
29 جولائی کوعام تعطیل کا سرکاری اعلان کر دیا گیا
- 6 گھنٹے قبل

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی، خریداروں کے چہرے کھل اٹھے
- 3 دن قبل

لاہور: غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم
- 3 دن قبل
آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ جاری
- 6 گھنٹے قبل
پنجاب حکومت کا پرواز کارڈ اسکیم کے تحت اوورسیز روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز سے اشتراک
- ایک دن قبل

اداکارہ و ماڈل روما مائیکل نے جیون ساتھی چن لیا
- ایک دن قبل
لیجنڈ گلوکارعطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا اپنی تدفین کے حوالے سے انکشاف
- 3 دن قبل
ملک میں یومِ تکریمِ شہداء پر خطباتِ جمعہ میں قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت
- 3 دن قبل
وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ''فور اسٹار جنرل''کے عہدے پر ترقی دینے کااعلان
- 3 دن قبل

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ڈیٹا سینٹر سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
- 3 دن قبل

مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، محکمۂ صحت ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے الرٹ
- 3 دن قبل


