اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہبازشریف نیب کے مجرم ہیں ان سے پوچھ کر اگلا چیئرمین نہیں لگایا جاسکتا۔


پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چیرمین نیب آرڈیننس کابینہ میں نہیں آیا لیکن مکمل ہوگیا ہے۔ اپوزیشن اپنا لیڈر تبدیل کرے تاکہ مشاورت ہو، شہبازشریف نیب کے مجرم ہیں ان سے پوچھ کر اگلا چیئرمین نہیں لگایا جاسکتا، ان سے مشاورت نہیں ہوگی، کل آرڈیننس آئے گا جو اس کو بہتر کرے گا کہ اگر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں سے کوئی خود نیب کو مطلوب ہو تو مشاورت کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر بات چیت ہوئی اور کابینہ کو وزیر قانون نے بریفنگ دی کہ کوشش کی گئی ہے کہ اپوزیشن سے بات چیت کی جائے تاہم اپوزیشن سے موثر جواب نہیں آرہا۔مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کی جانب بڑھیں گے اور دریں اثنا اپوزیشن سے بات چیت بھی جاری رہے گی۔ہمارا مقصد انتخابات کو شفاف بنانا ہے، تمام لوگوں کا ماننا ہے کہ اس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تو ہمیں اس میں آگے بڑھنا چاہیے، اپوزیشن سے کہوں گا کہ جلسوں میں رونے دھونے کے علاوہ سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے اس میں آگے بڑھا جائے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پینڈورا پیپرز کے معاملے پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی، 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام اس میں شامل ہیں، اس میں سے 3 سے 4 کیٹیگریز قائم کی گئی ہے جن میں سے ایک ظاہر کی گئی آف شور کمپنی، دوسری غیر ظاہر شدہ آف شور کمپنی اور تیسری آف شور کمپنی بناکر منی لانڈرنگ کرنا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم انسپیکشن سیل ابتدائی طور پر ان سب کو اس کے مطابق الگ کرکے پھر ان کے بارے میں اسی طرح سے ادارے کارروائی کریں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں نئی مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کیا جائے گا۔لوگوں کو جب گنا جاتا ہے تو ایک ہی وقت میں کرفیو لگاکر گنا جاتا ہے کہ کون کہاں ہے، لوگوں کو سوالنامہ بھیجا جاتا ہے کہ جہاں آپ ہیں وہاں 6 مہینے سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں اور کیا مزید 6 مہینے رہیں گے۔کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک طریقہ کار کے مطابق آگے چلیں گے، مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جس میں ٹیبلیٹس کا بھی استعمال کیا جائے گا، نادرا اور دیگر اداروں کی مدد لی جائے گی۔مردم شماری کے مکمل ہونے کے بعد نئی حلقوں کے لیے الیکشن کمیشن کو مطلع کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کابینہ کو بریفنگ دی، ڈاکٹرز ایسا پیشہ ہے کہ جس میں رسک نہیں لے سکتے، ڈاکٹر کی ڈگری کے لیے اسٹینڈرڈ اعلیٰ ہونے چاہیے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ڈاکٹرز کو دنیا میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا تاہم چند نے ہماری ڈگری کو ماننے سے انکار کردیا تھا، اب نئے ایم ڈی کیٹ کا فارمولا دنیا کے معیار کے مطابق ہے۔

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 2 دن قبل
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 2 دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 3 دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 3 دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 7 گھنٹے قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 2 دن قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 2 دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 2 دن قبل
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 2 دن قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 3 دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 2 دن قبل
