اسلام آباد: سینٹ انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہی ہونگے ، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے سنا دی ، سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹ ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا، الیکشن کمیشن کرپشن ختم کرنے کیخلاف ٹیکنالوجی کی مدد سے اقدامات کرے ۔

جی این این کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات پر رائے دی ، جبکہ رائے چار ایک کی اکثریت سے دی گئی ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے رائے پڑھ کر سنائی ، سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ سینٹ الیکشن آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہونگے، اور الیکشن کیلئے خفیہ ووٹنگ ہوگی۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ووٹ ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا، الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کیلئے تمام اقدامات کر سکتا ہے، انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، تمام ادارے الیکشن کمیشن کےساتھ تعاون کے پابند ہیں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کیلئے تمام ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ کرپٹ پریکٹس کے خلاف کارروائی کرے، تمام ایگزیکیٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن سے تعاون کی پابند ہیں۔عدالت نے کہا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تابع ہیں، الیکشن کمیشن 218 تین کے تحت کرپشن روکنے کے تمام اقدامات کرے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے رائے سے اختلاف کیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے 8 صفحات پر مشتمل تحریری رائے بھی جاری کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ 1967ء کے فیصلے میں قرار دے چکا ہے کہ ووٹ کی سیکریسی دائمی نہیں ہے۔سپریم کورٹ کی تحریری رائے کے مطابق ووٹ کے خفیہ ہونے پر آئیڈیل انداز میں کبھی عمل نہیں کیا گیا، خفیہ ووٹنگ کے عمل کو انتخابی ضروریات کے مطابق ٹیمپر کیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق سینیٹ انتخابات آئین وقانون کے تحت ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن آرٹیکل 218(3) کے تحت شفاف انتخابات کرانے کا پابند ہے۔
تحریری رائے میں جسٹس یحیٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کا سوال آرٹیکل 186 کے زمرے میں نہیں آتا، صدر مملکت کے ریفرنس کو بغیر کسی جواب کے واپس بھیجا جاتا ہے، صدر مملکت کا ریفرنس واپس بھیجنے کی وجوہات بعد میں بتائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت عظمیٰ نے رائے محفوظ کی تھی۔ جبکہ سپریم کورٹ نے 4 جنوری کو ریفرنس پر سماعت کاآغاز کیا اور تمام صوبائی حکومتوں، چیئرمین سینیٹ، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کونوٹسز جاری کیے، سپریم کورٹ میں ریفرنس پر 20 سماعتیں ہوئی۔اٹارنی جنرل پاکستان نے ریفرنس پر 17 سماعتوں میںدلائل مکمل کئے۔صدارتی ریفرنس کیخلاف سینٹر رضا ربانی، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹیپارلیمنٹرین، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان بار کونسل اور دیگر نے درخواستیں دائرکیں اور اپنے دلائل میں عدالت سے صدارتی ریفرنس مسترد کرنے کی استدعا کی ۔

کیا ٹک ٹاک پر اب رقم بھی بھیجی جا سکے گی؟
- ایک دن قبل

سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 13 گھنٹے قبل
’عمران خان کو صحت مند قرار'، عطا تارڑ نے پمز اسپتال میں معائنے اور واپسی اڈیالہ جیل منتقلی کی تصدیق کردی
- 14 گھنٹے قبل
ملک بھرمیں اچانک تعطیل کا اعلان، کس دن چھٹی ہو گی؟
- 13 گھنٹے قبل
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا بڑا اضافہ
- 2 دن قبل
عمران خان سخت سکیورٹی میں اڈیالا جیل سے شفا اسپتال روانہ
- ایک دن قبل

لاہور: پاسپورٹ آفس سے چار ملزمان گرفتار
- 13 گھنٹے قبل

لاہور میں مبینہ ویزہ فراڈ، چشم کشا تفصیلات سامنے آگئیں
- 2 دن قبل
ڈیزل سستا ہونے پرکرایوں میں کمی کا اعلان
- 2 دن قبل
چارٹر طیارہ حادثے کا شکار، دو پائلٹ سمیت 8 افراد ہلاک
- 12 گھنٹے قبل

بھارتی ایئرلائنز کے لیے ایک اور مشکل
- ایک دن قبل
مصباح ارشد کو مس یونیورس پاکستان منتخب کر لیا گیا
- 2 دن قبل

