پاکستان میں موجود فلکیات کے شوقین افراد یہ دلکش نظارہ نہیں دیکھ سکیں گے تاہم پاکستانی وقت کے مطابق اس گرہن کا آغاز دوپہر 12:01 بجے ہوگا


ویب ڈیسک: دنیا بھر میں سال 2026 کا پہلا سورج گرہن ہوگا، جسے عام طور پر رنگ آف فائر یعنی آگ کا حلقہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس منفرد فلکیاتی منظر نے ماہرین فلکیات اور آسمان سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
اس حوالے سے معروف سرچ انجن گوگل کی جانب سے ایک خصوصی اینیمیشن فیچربھی متعارف کرایاگیا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو اس قدرتی عمل کو آسان اور دلچسپ انداز میں سمجھانا ہے۔ گوگل اس سے پہلے بھی اپنے ڈوڈلز اور انٹرایکٹو فیچرز کے ذریعے اہم عالمی واقعات کو نمایاں کرتا رہا ہے۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو لگے گا، یہ ایک ‘اینولر’ (Annular) سورج گرہن ہوگا، جس کے دوران چاند سورج کے درمیانی حصے کو چھپا لے گا اور سورج کا بیرونی کنارہ ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی کی طرح دکھائی دے گا، جسے "رنگ آف فائر” کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں موجود فلکیات کے شوقین افراد یہ دلکش نظارہ نہیں دیکھ سکیں گے تاہم پاکستانی وقت کے مطابق اس گرہن کا آغاز دوپہر 12:01 بجے ہوگا۔
کن ممالک میں دیکھا جا سکے گا؟
مکمل گرہن (رنگ آف فائر) صرف انٹارکٹیکا میں مکمل طور پر نظر آئے گا جبکہ جنوبی امریکہ کے ممالک (چلی، ارجنٹائن) اور جنوبی افریقہ کے کچھ حصوں میں سورج کو جزوی گرہن لگے گا۔
"رنگ آف فائر” کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ مظہر اُس وقت پیش آتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے، مگر چونکہ اس وقت چاند زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے، اس لیے وہ سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا۔ نتیجتاً سورج کے گرد روشن دائرہ یا آگ کی انگوٹھی جیسا منظر دکھائی دیتا ہے، جسے ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو بغیر حفاظتی عینک یا منظور شدہ سولر فلٹر کے براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے شدید نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشاہدے کے لیے صرف مستند اور محفوظ آلات استعمال کریں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط،سپریم لیڈر کی شہادت پر تعزیت کا اظہار
- 16 گھنٹے قبل

ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے ہیں،لیکن اگر جنگ کرنا پڑی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے،کم جونگ ان
- 18 گھنٹے قبل

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 16 گھنٹے قبل

وزیراعظم دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،کشیدگی کا سفارتی حل نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،وزیر قانون
- 19 گھنٹے قبل

اسحاق اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ،مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو
- 14 گھنٹے قبل

آپریشن غضب اللحق : پاک فوج کی افغان طالبان کیخلاف کارروائیاںجاری، اہم پوسٹیں اور مراکز تباہ
- 20 گھنٹے قبل

پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع،ملک میں توانائی بحران کا خدشہ ختم ہونے کا امکان
- 19 گھنٹے قبل

افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،عاصم افتخار
- 20 گھنٹے قبل

پی ٹی اے کے زیر اہتمام ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز
- 20 گھنٹے قبل

پاکستان سپر لیگ 11 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا،ٹورنامنٹ کب سے شروع ہو گا؟
- 16 گھنٹے قبل

مجتبیٰ خامنہ ای پر بھروسہ نہیں،ایران مذاکرات سے پہلے کچھ بنیادی شرائط کو قبول کرنا ہوگا،ٹرمپ
- 15 گھنٹے قبل

عاشورہ سے محبت کرنے والے ایرانی آپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے،ٹرمپ کےبیان پر ایران کاردعمل
- 14 گھنٹے قبل


















