Advertisement
پاکستان

تحریک خلافت کی نمایاں شخصیت مولانا محمد علی جوہر کا یوم وفات 

ویب ڈیسک: جدوجہد آزادی کے سرگرم رہنما، انگریزی دان ، بے باک صحافی مولانا محمد علی جوہر کی 91ویں برسی آج منائی جارہی ہے ۔ مولانا محمد علی جوہر نہ صرف جنگ آزادی بلکہ اسلام کی عظمت کے سپاہی بھی تھے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Jan 4th 2022, 1:58 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
تحریک خلافت کی نمایاں شخصیت مولانا محمد علی جوہر کا یوم وفات 

مولانا محمد علی جوہر 10 دسمبر 1978 کو رام پور ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔بچپن میں ہی والد کا انتقال ہوگیا ،انہوں نے بریلی سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ کالج میں داخلہ لیا  ۔ 1892 میں محمد علی کو بی اے کے بعد  سول سروس کے لیے انگلستان بھیجا گیا ۔سول سروس میں ناکامی کے بعدآکسفورڈ سے جدید تاریخ میں آنرز  کی ڈگری حاصل کی۔

ہندوستان آکر کچھ عرصہ ملازمت کی  لیکن 1910 میں ملازمت ترک کر دی  اور 1911 میں اخباری دنیا میں تہلکہ مچانے والا انگریزی ہفت روزہ   "کامریڈ" نکالا ۔ مولانا کو انگریزی    زبان  پر عبور حاصل تھا اسی طرح  اردوزبان پر بھی  انہیں خوب مہارت حاصل تھی ۔انھوں نے ایک اردو روزنامہ" ہمدرد" بھی جاری کیا جو بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ اظہار خیال کا کامیاب نمونہ تھا ۔ دونوں اخباروں نے مسلمانانِ پاک و ہند کا سیاسی تصور بیدار کرنے میں بڑی مدد کی ۔

مولانا محمد علی جو ہر  نے  دانشور اورصحافی   کی حیثیت  سے خوب نام کمایا اور اردو  کے ساتھ ساتھ  انگریزی اخبارات  کے لیے بھی   لکھ۔ا۔  جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔ تحریک عدم تعاون کی پاداش میں کئی سال جیل میں رہے۔مولانا محمد علی جوہر تحریک خلافت کے بانی بھی تھے ۔

پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا،تو ہندوستان کے مسلمان پریشان ہوگئے کہ  اگر انگریز کامیاب ہوگئے  تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے وزیر اعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہیں ہو گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ، جرمنی کو شکست اور برطانیہ کو فتح ہوئی ۔

جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کر دیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کو وعدے یاد دلانے کے لیے اور خلافت کے تحفظ کے لیے ایک تحریک شروع کی جسے "تحریک خلافت" کا نام دیا گیا ۔

تحریک خلافت  کے تین ہی مقاصد تھے کہ ترکی کی خلافت بر قرار رکھی جائے ،مقدس مقامات (مدینہ منورہ ،مکہ مکرمہ )  ترکی کی تحویل میں رہیں اور تر کی  کی سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔1920 میں مولانا محمد  علی جوہر نےتحریک خلافت کے سلسلے میں    انگلستان جانے والے وفد کی قیادت بھی کی اور تحریک خلافت میں اہم کردار ادا کیا ۔ 

مولانا محمد علی جوہر کے کردار کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ پہلے مسلمان لیڈر تھے جنہوں نے انگریز حکمرانوں اور کانگریس کے قائدین  مہاتماگاندھی، موتی لال نہرو اور لالہ لجپت رائے کو چیلنج کیا۔ حتیٰ کہ 1926میں موتی لال نہرو سے ہونے والی ملاقات میں یہاں تک کہہ دیا کہ " ماسوائے مہاتما گاندھی، موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو کے تمام کانگریسی قائدین مسلمانوں کے دشمن ہیں" ۔ 

1906 میں بننے والی مسلم لیگ کے بانیوں میں مولانا محمد علی جوہر کانام بھی شامل تھا ۔ انہوں نے 1918 میں مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت  سے خدمات سر انجام دیں  اور 1928 تک مسلم لیگ کے سرگرم رکن بھی رہے ۔ تحریکِ  پاکستان کی تاریخ میں  مولانا محمد علی جوہر کا کردار  ناقابلِ فراموش ہے۔

مولانا محمد علی جوہر جنوری 1931 میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے انگلستان گئے اور  گول میز کانفرنس  کے اجلاس میں ہنگامہ خیز تقریر کرتے ہوئے فرمایا " میں یا آزادی حاصل کرکے جاؤں گا یا  یہیں  مر جاؤں گا ، غلام ملک میں جانے سے  آزاد ملک میں مر جانا بہتر ہے "۔ اتفاق ایسا ہوا کہ وہیں 4 جنوری 1931 کو  رحلت فرما گئے ۔ انہیں  بیت المقدس  میں سپردِ خاک  کیا گیا ۔

 مولانا کو اُردو شعر و ادب سے بھی لگاؤ تھا انہوں نے بےشمار غزلیں اور نظمیں لکھیں جو مجاہدانہ رنگ سے بھرپور ہیں۔

            توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے          یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

Advertisement
مہمند: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک خارجی افغان شہری نکلا

مہمند: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک خارجی افغان شہری نکلا

  • 17 hours ago
اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال

اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال

  • 15 hours ago
اپنا گھر سکیم میں شہریوں کی بڑی تعداد کا حصہ لینا خوش آئند ہے،وزیراعظم

اپنا گھر سکیم میں شہریوں کی بڑی تعداد کا حصہ لینا خوش آئند ہے،وزیراعظم

  • 15 hours ago
بحری فاع کو مزید مظبوط بنانے کا عزم،پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوزکی کراچی پہنچ گئی

بحری فاع کو مزید مظبوط بنانے کا عزم،پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوزکی کراچی پہنچ گئی

  • 14 hours ago
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی، گزشتہ دوروز میں کئی ہزار روپے سستا

سونے کی قیمت میں حیران کن کمی، گزشتہ دوروز میں کئی ہزار روپے سستا

  • 17 hours ago
اقوام متحدہ نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی

اقوام متحدہ نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی

  • 19 hours ago
امریکی صدرکی ایک دفعہ پھر ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی دھمکی، تیل تنصیبات پر قبضے کا عندیہ

امریکی صدرکی ایک دفعہ پھر ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی دھمکی، تیل تنصیبات پر قبضے کا عندیہ

  • 16 hours ago
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں  تیز بارش  کے موشم خوشگوا ر ہو گیا،شہری خوشی سے نہال

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں تیز بارش کے موشم خوشگوا ر ہو گیا،شہری خوشی سے نہال

  • 15 hours ago
مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ

مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ

  • 19 hours ago
وزیر خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے،معاشی ترقی3.7 فیصد رہی

وزیر خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے،معاشی ترقی3.7 فیصد رہی

  • 19 hours ago
وزیراعظم سے وزیر خزانہ کی ملاقات،اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء پیش کر دیا

وزیراعظم سے وزیر خزانہ کی ملاقات،اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء پیش کر دیا

  • 19 hours ago
صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کی رہائی  کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ

صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ

  • 19 hours ago
Advertisement