کے سی این اے کا کہنا تھا کہ ’ہائپرسونک میزائل کے شعبے میں تجرباتی لانچوں میں پے در پے کامیابیاں اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں‘۔


سیول: سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے جمعرات کے روز ایک ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، یہ اس ایٹمی ملک کی جانب سے پہلا بڑا تجربہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے بین الاقوامی پابندیوں اور مذمت کے باوجود جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں میں یہ دوسرا رپورٹ شدہ ٹیسٹ تھا جس کے بارے میں شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہائپرسونک گلائیڈنگ میزائل ہے۔
ہائپر سونک میزائل روایتی میزائلوں کی نسبت بہت زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہیں اور بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں، یوں امریکا میزائلوں سے تحفظ کے جن نظاموں پر کام کررہا ہے ان کے لیے اس میزائل کو ہدف بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔
کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے میزائل کے لانچر کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ بدھ کے روز فائر کیے گئے میزائل پر ’ہائپر سونک گلائیڈنگ وارہیڈ‘ نصب تھا جس نے ’7 سو کلومیٹر دور ہدف کو باریکی سے نشانہ بنایا‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس وار ہیڈ نے ایک نئی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا اور لانچر سے الگ ہونے کے بعد 120 کلومیٹر عمودی پرواز کی۔
کے سی این اے کا کہنا تھا کہ ’ہائپرسونک میزائل کے شعبے میں تجرباتی لانچوں میں پے در پے کامیابیاں اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں‘۔
ہائپرسونک میزائلوں کو شمالی کوریا کے موجودہ 5 سالہ منصوبے میں اسٹریٹجک ہتھیاروں کے لیے ’اولین ترجیح‘ کے کاموں میں شامل کیا گیا تھا اورشمالی کوریا نے اپنے ہائپر سونک میزائل ہواسنگ 8 کے پہلے تجربے کا اعلان گزشتہ سال ستمبر میں کیا تھا۔
اپنے ڈیزائن کے مطابق ہائپر سونک میزائل روایتی اور جوہری وار ہیڈز لے جا سکتے ہیں اور یہ اسٹریٹجک توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، عام طور پر یہ آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ یا ماک 5 رفتار پر اڑتے ہیں۔
ایک امریکی تھنک ٹینک کارنیگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے تعلق رکھنے والے انکت پانڈا نے اپنی ٹوئیٹ میں بیلیسٹک میزائل ڈیفینس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ شمالی کوریا نے ہائپرسونک گلائیڈرز کو فوجی ضرورت کے طور پر پہچان لیا ہے (شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیلسٹک میزائل ڈیفینس سے نمٹنے میں کارگر ہیں)‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویسے اس کے کارگر ہونے سے متعلق آزاد اور تفصیلی ڈیٹا کی ضرورت ہوگی تاہم اگر سرکاری بیانات کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ یہ تجربہ ستمبر میں ہونے والے تجربے سے بہتر رہا ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق ہائپرسونک ہتھیاروں کے فوائد محدود ہیں جبکہ دیگر نے خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر تیار کرلیتا ہے تو اس سے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
کم جونگ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کی دہائی میں شمالی کوریا نے بین الاقوامی پابندیوں کی قیمت پر اپنی فوجی ٹیکنالوجی کو تیزی سے ترقی دی ہے۔
سال 2021ء میں شمالی کوریا نے ہائپرسونک میزائل علاوہ آبدوز سے لانچ کیے جانے والے ایک نئی قسم کے بیلسٹک میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل، اور ٹرین سے لانچ کیے جانے والے ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔
امریکا، جاپان، کینیڈا اور جرمنی نے حالیہ تجربے کی مذمت کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ (شمالی کوریا کے) پڑوسی ممالک اور عالمی برادری کے لیے خطرہ ہے‘۔

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- 2 دن قبل

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- ایک دن قبل

گلوکار جبران راحیل کی عالمی سطح پر کامیابیاں، بطور پلے بیک سنگر بھی مداحوں کے دل جیت لیے
- 4 دن قبل

لام فیشن ویک تمام ترجلوے اور رنگینیاں بکھیرتا اختتام پذیر
- 4 دن قبل

ہانگ کانگ سپر سکسز: پاکستان نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی
- 18 گھنٹے قبل

سرگودھا ریجن پولیس کے 8 شہداء کے ورثاء میں پلاٹوں کے کاغذات تقسیم
- 13 گھنٹے قبل

کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری
- 18 گھنٹے قبل

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 5 دن قبل

قومی اسمبلی میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حق میں قرارداد منظور
- 4 دن قبل

نوشکی: مسلح افرادکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
- 4 دن قبل

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- ایک دن قبل

پاکستان، سنگاپور کا مختلف شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار
- 14 گھنٹے قبل






