جی این این سوشل

پاکستان

این سی او سی اجلاس، ملک میں نئی کورونا پابندیاں نافذ

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر این سی او سی نے ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر ایس او پیز  تجویز کرنے کے لیے17 جنوری کو صوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس طلب کرلیا جبکہ پروازوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں کھانے کی خدمات فراہم کرنے پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

این سی او سی اجلاس، ملک میں نئی کورونا پابندیاں نافذ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

این سی او سی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے رجحان کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک میں خاص طور پر شہری مراکز میں کورونا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں وبائی مرض کے چارٹ کے اعداد و شمار، بیماری کے پھیلاؤ اور تجویز کردہ ایس او پیز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں موجودہ ایس او پیز کا جائزہ لیتے ہوئے 17 جنوری 2022 کو صوبائی وزرائے صحت اور تعلیم کا اجلاس طلب کیا گیا تاکہ نئے ایس او پیز تجویز کی جائیں، جس میں تعلیم کے شعبے، عوامی اجتماعات، شادی کی تقریبات، انڈور اور آؤٹ ڈور کھانے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر توجہ دی جائے۔

این سی او سی نے 17 جنوری 2022 سے ہوائی سفر میں کھانے اور ناشتے پر مکمل پابندی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق سول ایوی ایشن سی اے اے سے کہا ہے کہ وہ پرواز کے اندر ماسک پہننے کو یقینی بنائے اور تمام ہوائی اڈوں پر کورونا ایس او پیز کو بھی نافذ کرے۔

این سی او سی نے بیان میں کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی کھانے اور ناشتے کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور بالخصوص کراچی میں کورونا کی بڑھتی ہوئی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صوبے بھر میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ عوامی مقامات پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت تمام شادی ہالز، مارکیٹس اور  عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہوگا، اس کے علاوہ شادی کی تقریبات میں کھانا ڈبوں میں فراہم کیا جائے گا۔

مارکیٹس میں ویکسین شدہ افراد کے داخلے کی اجازت ہوگی اور انتظامیہ کو ویکسی نیشن کارڈ کا ریکارڈ چیک کرانا لازمی ہوگا۔

حکومت نے ویکسی نیشن مہم پورے صوبے میں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔

اس کے علاوہ ریسٹورینٹس پر نگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جو ریسٹورینٹس ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز میں اضافہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے کا نتیجہ ہے، عوام تعاون کریں گے تو اس جاری کورونا لہر پر بھی کنٹرول ہوجائے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ دنوں بعد دوبارہ ٹاسک فورس اجلاس ہوگا جس میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے 4 ہزار 286 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ گزشتہ روز کے 3 ہزار 571 کیسز سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔

آج ریکارڈ کیے گئے کیسز کی تعداد 28 اگست کے بعد ایک روز میں سامنے آنے والے سب سے زیادہ ہے جب 4 ہزار 467 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔

ملک میں عالمی وبا کے مثبت کیسز کی شرح 8.2 فیصد ہوچکی ہے جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد 13 لاکھ 20 ہزار 120 ہوگئی۔

گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پاکستان میں مزید 4 افراد کورونا وائرس کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار گئے جس کے بعد وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 29 ہزار 3 ہوگئی ہے۔

ناظرین پاکستان میں کورونا سے مزید 2 ہزار 598 افراد صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد شفایاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 10 لاکھ 26 ہزار 305 ہوگئی۔

ملک میں کورونا سے متاثر ہو کر تشویشناک حال میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 709 ہوگئی ہے۔

دوسری جانب حکومت سندھ نے کورونا وائرس کے ویرینٹ ’اومیکرون‘ کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ایس او پیز پر عمل درآمد میں سختی برتنے کا فیصلہ کیا لیکن تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں صوبے میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھتے ہوئے اسکول کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان

پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر پر چھا پہ ،ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کو طلب کرلیا

پی ٹی آئی نے گرفتاریوں اور مرکزی سیکرٹریٹ پر چھاپوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر پر چھا پہ ،ہائی کورٹ نے  ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد  کو طلب کرلیا

اسلام آباد : پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر پر پولیس کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کو طلب کرلیا ۔ 

چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے حکام کو بھی طلب کر لیا ہے ۔ 

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے گرفتاریوں اور مرکزی سیکرٹریٹ پر چھاپوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی پر پابندی لگانا حکومت کی خواہشات ہو سکتی ہے مگر یہ ان کے بس کی بات نہیں، اسد قیصر

ہمارے ایم این ایز کو ڈرایا جا رہا ہے، دھمکیاں مل رہی ہیں، آفرز مل رہی ہیں، رہنما پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی پر پابندی لگانا حکومت کی خواہشات ہو سکتی ہے مگر یہ ان کے بس کی بات نہیں، اسد قیصر

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانا حکومت کی خواہشات ہو سکتی ہے مگر یہ ان کے بس کی بات نہیں۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہمارے ایم این ایز کو ڈرایا جا رہا ہے، دھمکیاں مل رہی ہیں، آفرز مل رہی ہیں، 2024ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن بری طرح ہار گئی، مسلم لیگ ن نے اس الیکشن میں ٹوٹل 17 سیٹیں لی تھی۔

سابق سپیکر نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی باتوں کو کوئی سنجیدگی سے لیتا ہی نہیں ہے، پارلیمنٹ بے توقیر ہو گئی ہے، آئین بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے، اگر آپ پارلیمنٹ کے اختیارات بھی ہم سے چھین رہے ہیں تو ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔ہمارے ایم این ایز کے خلاف پورا کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے، ، ملک میں اس وقت انارکی ہی انارکی ہے، پارلیمنٹ ہمارا ڈیبیٹنگ کلب بن گیا ہے، پارلیمنٹ میں صرف باتیں ہی باتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کہتا تھا ووٹ کو عزت دو، جتنا نوازشریف نے ووٹ کو بے عزت کیا یہ تاریخ کا حصہ ہے، مسلم لیگ ن کی پارٹی کا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا، بہت برا حال کر دیا ہے اس ملک کا، مسلم لیگ ن چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگے لیکن اصل میں عوام نے ان پر پابندی لگا دی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی کو اللہ نے عزت دی ہے، پوری دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہے، عوام ان کے ساتھ ہے، میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ آئندہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینے والا کوئی نہیں ہو گا اور نہ کوئی نام لینے والا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جلسے ہم پورے ملک میں کریں گے لیکن این او سی کے بغیر نہیں کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

ریسٹورینٹس اور ہوٹلز میں کارڈ سے ادائیگیوں پر ٹیکس میں اضافہ

سندھ ریونیو بورڈ کے مطابق کراچی کے 58 ریسٹورینٹس اور ہوٹلز کو عوام سے بدستور 15 فیصد سروس ٹیکس کاٹنے کی اجازت دیدی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ریسٹورینٹس اور ہوٹلز میں کارڈ سے ادائیگیوں پر ٹیکس میں اضافہ

سندھ میں ریسٹورینٹس اور ہوٹلز کو ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے ادائیگیوں پر ٹیکس دوبارہ بڑھا دیا گیا۔

سندھ کے بجٹ میں کارڈز سے ادائیگیوں پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کیا گیا تھا لیکن اب ریسٹورینٹس اور ہوٹلز کو ڈیبٹ اور کریڈٹ کارٹ سے ادائیگیوں پر ٹیکس دوبارہ 8  فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کردیا گیا۔ 

سندھ ریونیو بورڈ کے مطابق کراچی کے 58 ریسٹورینٹس اور ہوٹلز کو عوام سے بدستور 15 فیصد سروس ٹیکس کاٹنے کی اجازت دیدی گئی ہے، یہ سہولت ریسٹورینٹس کی خریداریوں پر ٹیکس ادائیگیوں کی ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے دی گئی ہے اور کم تعداد میں ریسٹورینٹس کو یہ اجازت ملی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریسٹورینٹس کی زیادہ فروخت کارڈز کے ذریعے ہونے سے اصل فروخت یا اصل انکم ٹیکس آشکار ہونے کا امکان تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll