جی این این سوشل

پاکستان

جسٹس عمر عطا بندیال کی بطور چیف جسٹس پاکستان تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد:وزارت قانون نے جسٹس عمر عطاء بندیال کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

جسٹس عمر عطا بندیال کی بطور چیف جسٹس پاکستان تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس عمر عطابندیال سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں،  جسٹس عمر عطا بندیال 2 فروری کو عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔

وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت عارف علوی کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد یکم فروری کو ریٹائر ہوجائیں گے جس کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال 2 فروری کو بطور چیف جسٹس اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال 2 فروری 2022 کو 63 سال، چار ماہ اور 16 دن کی عمر میں ایک سال،6 ماہ اور 25 دن کے لیے 16 ستمبر 2023 تک کے لیے حلف اٹھائیں گے۔

پاکستان

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

خط میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ چیف جسٹسز اور سینئر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی طویل روایت رہی ہے، سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی روایت جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار نے متعارف کروائی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان لوگوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس کا نقصان ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں، حلف کا اہم تقاضا ہے کہ آئینی بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، انہیں روندا نہ جا سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرتے وقت دیکھا جائے کہ وہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت، کالعدم قرار دینےکی صلاحیت رکھتا ہے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد یقینی بنانا ایک لازم امر ہے، عوامی اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن کی ٹی وی پر غلطیوں کا اعتراف دیر آید درست آید کہا جا سکتا ہے، کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف سابق وزیراعظم کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ جسے ان کے احکامات پر موت دے دی گئی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کسے جج بنانا ہے کسے نہیں، تاثر یہ ہے کہ ایسا بیرونی عوامل کے باعث کیا جاتا ہے، عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں اس تاثر کو دور کیا جانا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، فرد واحد کی جانب سے ایک نام دینا، تقرری کے لیے ووٹنگ پر مجبور کرنا، ایک ووٹ سےجج بن جانا آئین کے مطابق نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے، آئین ججز تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا کہتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کمیشن کے پہلے اجلاس کا تجربہ بہت اچھا تھا، اجلاس ماضی کے اجلاسوں سے بہتر تھا کہ اختلاف کا بیج بونے کی روایت سے فاصلہ کیا گیا، توقع ہے آئندہ اجلاس میں بھی ججز تقرری کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو دور کریں گے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ججز کو منتخب کرنے کی آئینی ذمے داری ہمیں سونپی ہے، عدلیہ کو ججز تقرر کی ذمے داری آئین کے تحت ادا کرنا ہو گی، پاکستان کے عوام کو اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یوٹیلیٹی اسٹورزپر آٹے کی قیمت میں کمی

وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلان کے بعد آٹے کی قیمتوں میں واضح کمی،نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد 20 کلو آٹے کا تھیلا 800 جبکہ دس کلو کا تھیلا چار سو میں دستیاب ہو گا، قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

یوٹیلیٹی اسٹورزپر آٹے کی قیمت میں کمی

تفصیلات کےمطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یوٹیلیٹی اسٹورزپر آٹے کی قیمت میں کیا گیا اضافہ واپس لے لیا گیا۔ یوٹیلیٹی اسٹورز  پر آٹےکا 20 کلوکا تھیلا 180روپےکی کمی کے بعد 980 روپے سے دوبارہ 800 روپےکا ہوگیا ہے ۔

10 کلو کے آٹے کےتھیلےکی قیمت میں 90 روپے کی کمی کردی گئی ہے، جس کے بعد 10 کلوآٹے کے تھیلے کی قیمت 490روپےسےکم ہوکر 400 روپے ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی یوٹیلٹی اسٹورزپر بیس کلو آٹےکی قیمت میں ایک سو اسی روپے کا اضافہ کیا گیا تھا جب کہ 26 مئی تک 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 800 روپے تھی اور 10 کلو آٹےکے تھیلے کی قیمت 400 روپے تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

’سستا پیٹرول، ڈیزل سکیم‘، 40 ہزار سے کم آمدن والوں کو دو ہزار ماہانہ دینے کا اعلان

اسلام آباد : وفاقی حکومت  نے ’وزیراعظم سستا پیٹرول سستا ڈیزل‘ سکیم کے تحت ایک کروڑ 40 لاکھ گھرانوں کو جون سے دو ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

’سستا پیٹرول، ڈیزل سکیم‘، 40 ہزار سے کم آمدن والوں کو دو ہزار ماہانہ دینے کا اعلان

تفصیلات کے مطابق وزیرمملکت ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم سستاپیٹرول سستا ڈیزل سکیم کے تحت ایک کروڑ40 لاکھ پاکستانی گھرانوں کوماہانہ دوہزارروپے وظیفہ دیا جائے گا، سکیم سے 8 کروڑ 40لاکھ افراد یا ایک تہائی آبادی مستفید ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جون تک آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کامعاہدہ ہوجائے گا، اس کے بعد پاکستان کونئی قسط ملے گی، ہم سیاسی دباؤ کاسامنا کریں گے اوروہ فیصلے کریں گے جوملک اورقوم کے مفادمیں ہوں، نئے مالی سال کابجٹ 10 جون کوپیش کیاجائے گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیرعظم نے گزشتہ رات قوم سے خطاب میں جواعلانات کئے ہیں ان سے ملک کے غریب اورکم آمدنی رکھنے والے طبقات کوفائدہ پہنچے گا ، یہ حقیقت ہے کہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمت بڑھانے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا لیکن اگرایسا نہ کرتے توروپیہ کی قدرمزیدگرجاتی  اورملک اورمعیشت کانقصان ہوتا،مشکل اورسخت فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں کیاہے ، اس فیصلے سے روپیہ کی قدرپراچھا اثرپڑا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی آئی ہے ، اس سے لیکویڈیٹی کادباؤ کم ہوجائے گا۔

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ غریب پروری وزیراعظم شہبازشریف کی روایت ہے، سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کاجوطوفان آیاہے اس کے تدارک کیلئے حکومت سے جوکچھ ہوگا وہ کرے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ  مئی میں پیٹرول بڑھایا ہے، مناسب نہیں ہوگا کہ چند دن بعد پھر بڑھا دیا جائے، مجھے نہیں لگتا ہے پیٹرول کی قیمت میں یکم جون کو اضافہ ہوگا، بجلی کی قیمت بڑھانے کی کوئی سمری ہمارے پاس نہیں آئی ، اس بار آئی ایم ایف سے نجکاری پر بات نہیں ہوئی۔

مفتاح اسماعیل  نے کہا کہ وزیراعظم سستاپیٹرول سستاڈیزل سکیم کے تحت ایک کروڑ40 لاکھ پاکستانی گھرانوں کوماہانہ دوہزارروپے وظیفہ دیا جائے گا، یہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام سے حاصل معاونت سے اضافی ہوگا، اس سکیم سے 8 کروڑ 40لاکھ افراد یا ایک تہائی آبادی مستفید ہو گی۔

اس سکیم کی لاگت 28ارب روپے ہے، اس سکیم سے 73لاکھ وہ گھرانے جو بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہیں، مستفید ہوں گے اس کے علاوہ 67لاکھ وہ گھرانے بھی شامل ہیں جوبی آئی ایس پی میں شامل تونہیں مگر ان کا پاورٹی کاسکور37 سے کم ہے، ایسے گھرانے ٹیلی فون نمبر786 پراپنا شناختی کارڈ نمبرارسال کرکے یہ امداد حاصل کرسکیں گے، اس میں گھرانوں کی سربراہ خواتین اوربیواوں کوترجیح دی جائے گی۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان بیوروبرائے شماریات کے مطابق پاکستان میں ایک گھرانہ اپنی آمدنی کا 5 فیصد ٹرانسپورٹ پرخرچ کرتا ہے اسی پیمانہ کے مطابق آمدنی کے پانچ فیصد کے مطابق امداد دی جائے گی،اس سکیم کوآئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیاجائے گا۔انہوں نے سکیم میں معاونت فراہم کرنے پرڈاکٹرشازیہ مری اورسیکرٹری بی آئی ایس پی کاشکریہ اداکیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll