ویب ڈیسک : ماضی کی معروف ادکارہ روحی بانو کو مداحوں سے پچھڑے تین برس بیت گیا ۔ روحی بانو ادکاری میں اپنے منفرد انداز کی وجہ سے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔


70 اور 80 کی دہائی میں شوبز انڈسٹری پر راج کرنے والی ادکارہ روحی بانو 10 اگست 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ روحی بانو کے والد اللہ رکھا خان معروف طبلہ نواز تھے ۔ ورسٹائل ادکارہ نے اپنے فن کا آغاز دوران تعلیم کیا جب وہ ایم اے نفسیات کررہی تھیں ۔ فاروق ضمیر کی جانب سے ایک کوئز شو کے دوران انہیں ادکاری کی پیش کش کی گئی جسے انہوں نے قبول کیا ، یوں روحی بانو نے ادکاری کی دنیا میں اپنا قدم رکھا ۔
حسینہ معین کی "کرن کہانی " کا شمار روحی بانو کے ابتدائی ڈراموں میں ہوتا ہے جسے 1973 میں پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔اس کے بعد 1974 میں ان کا ڈرامہ" زیر زبر "بھی پی ٹی وی پر پیش کیا گیا ۔ کرئیر کے آغاز میں ہی روحی بانو نے اداکاری کے جوہر دکھائے جو ان کی صلاحیتوں کو منہ بولتا ثبوت تھے ۔
ڈراموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد روحی بانو نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں بھی اپنا قدم رکھا اور یہاں بھی خوب داد وصول کی۔انہوں نے زینت ،پہچان، آج کا انسان، پالکی، اناڑی، کائنات، خدا اور محبت، کرن اور کلی ، راستے کا پتھر، تیرے میرے سپنے، نوکر ، دشمن کی تلاش سمیت بے شمار فلموں میں اداکاری کی ۔
روحی بانو نے کرن کہانی، زرد گلاب، دروازہ سمیت دیگر بے شمار سپر ہٹ ڈراموں میں اپنے کردار ادا کیے ۔ ان کا شمار پاکستانی شوبز انڈسٹری کے ان چند ادکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت ہی کم عرصے میں اپنی صلا حیتوں کے بل بوتے پرانڈسٹری پر راج کیا ۔ 1981 میں روحی بانو کو ان کی خدمات کے صلے میں حکومت ِ پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن ِ کارکردگی سے نوازا ۔ روحی بانو نے دو شادیاں کیں لیکن دونوں ہی ناکام رہیں ۔
2005 میں ان پر اچانک غموں کا پہاڑ اس وقت ٹوٹ پڑ ا جب ان کے20 سالہ اکلوتے بیٹے علی کو فائرنگ کر کےقتل کردیا گیا ۔ روحی بانو اپنے بیٹے کے قتل کا صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں ۔ ذہنی توازن کھونے کے بعد وہ بہت عرصہ تک لاہور میں واقع "فاؤنٹین ہاوس" میں رہائش پذیر رہیں ۔
2017 میں کافی عرصہ ان کے لاپتہ ہونے کے خبر یں بھی سامنے آتی رہیں لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ وہ اپنے بھائی کے گھر قیام پذیر ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے نومبر 2018 میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے وزیر اعظم اور چیف جسٹس سے اپیل کی کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ انہیں قبضہ مافیا کی جانب سے جائیداد کے حوالے سے دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ جس کے بعد انہیں فاؤنٹین ہاؤس بھیجوادیا گیا ۔ وہ پھر کچھ عرصے کے لئے منظرسے غائب رہیں ا ور اس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ترکی میں اپنی بہن روبینہ یاسمین کے پاس استنبول کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھیں ۔روحی بانو 10 دن وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد 25 جنوری 2019 کو انتقال کر گئیں ۔
فٹبال لیجینڈ میسی نے انٹرنیشنل فٹبال کو خیربادکہہ دیا
- 4 hours ago

اہلیہ پرتشدد کے الزام میں خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے شوہرگرفتار کر لیا گیا
- 2 days ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے قبضے سے بازیاب تین پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے
- 7 hours ago

سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریزکیلئے صاحبزادہ فرحان کپتان مقرر، ون ڈے ٹرائی سیریزمیں شاہین آفریدی کپتان برقرار
- 2 days ago

پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح 4‘ کروز میزائل کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ
- a day ago

سابق خطیب داتا دربار پر مالی بدعنوانی کے الزامات ثابت، لاکھوں روپے کی ریکوری کا حکم
- 9 hours ago

لاہور: آوارہ کتے کے حملے میں ڈاکٹر زخمی
- 11 hours ago

پاکستان کے ثقافتی اور میوزک کے رنگ اب سعودی عرب میں سجیں گے
- a day ago
نواب شاہ کے رہائشی مریض میں منکی پاکس کی تصدیق
- a day ago

نائب وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، فلسطین، کشمیر و علاقائی امور پر گفتگو
- a day ago

ٹرمپ کا سابق امریکی میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم
- a day ago

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا عالمی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
- 4 hours ago








