Advertisement

پیوٹن کا چینی صدر سےٹیلیفونک رابطہ، یوکرین سے مذاکرات کا خواہاں

روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ سے فون پر بات کرنے اور یوکرین کے ساتھ تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کے بعد یوکرینی نمائندے سے بات کرنے کے لیے اپنا وفد منسک بھیجنے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Feb 26th 2022, 2:46 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
پیوٹن کا چینی صدر سےٹیلیفونک رابطہ، یوکرین سے مذاکرات کا خواہاں

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ میں جاری بیان میں کہا کہ صدر شی جن پنگ نے دونوں فریقین سے سرد جنگ کی ذہنیت دور کرنے اور تمام ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شی جن پنگ نے زور دیا کہ مذاکرات کے ذریعے متوازن، مؤثر اور پائیدار یورپی سیکیورٹی کا طریقہ کار تیار کریں۔ 
چینی صدر نے کہا کہ چین تمام ممالک کی خود مختاری اور سرحدی آزادی کا احترام کرتا ہے۔

ادھر کریملن نے بیان میں بتایا کہ صدر شی کو روسی اقدامات کا احترام ہے اور قریبی رابطے، اقوام متحدہ میں دوطرفہ تعاون کے لیے تیار ہیں جہاں دونوں ممالک ویٹو کے اختیارات کے ساتھ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین ہیں۔

کریملن کے مطابق پیوٹن نے صدر شی کو بتایا کہ یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی لوگوں کے تحفظ اور نسل کشی کے خلاف ضروری تھی، جس کو مغرب بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دے رہا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پیوٹن نے چینی صدر کو بتایا کہ امریکا اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے طویل عرصے سے روس کے جائز سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور نیٹو کے حوالے سے پیوٹن نے بتایا کہ وہ اپنے وعدے سے مستقل مکر رہے تھے، مشرقی علاقے میں فوجی تعنیاتی میں اضافہ کردیا تھا اور روس کی حکمت عملی کی بنیاد کو چیلنج کر رکھا تھا۔

بیان کے مطابق پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مذاکرات کرنے کا خواہاں ہے۔

Advertisement