جی این این سوشل

پاکستان

وزیر اعظم سے گورنر سندھ، وفاقی وزراء، سندھ کےارکان قومی اسمبلی کی ملاقات

اسلام آباد: ترجمان وزیر اعظم ہاوس کے مطابق ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیر اعظم سے گورنر سندھ، وفاقی وزراء، سندھ کےارکان قومی اسمبلی کی ملاقات
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے گورنر سندھ عمران اسماعیل ، وزیر دفاع پرویزخٹک اور وزیربحری امورسید علی حیدر زیدی کے ہمراہ سندھ سے تعلق رکھنے والےارکان قومی اسمبلی نے ملاقات کی ہے۔

ملاقات میں ارکان قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، سیف الرحمان، عطاءاللہ، اکرم چیمہ، فہیم خان، اسلم خان، عالمگیر خان، عبدالشکور شاد، کیپٹن جمیل، آفتاب جہانگیر، صائمہ ندیم اور نصرت وحید کی شرکت۔ؤوزیر اعظم کے معاون خصوصی ملک محمد عامر ڈوگر بھی ملاقات میں موجود تھے۔

ترجمان وزیر اعظم ہاوس کے مطابق ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی میں جاری وفاقی حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔

پاکستان

آرمی چیف کا فوجی فاؤنڈیشن کے مختلف منصوبوں کا افتتاح

آرمی چیف جنرل باجوہ نے فوجی فاؤنڈیشن کے مختلف منصوبوں کا افتتاح کر دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آرمی چیف کا فوجی فاؤنڈیشن کے مختلف منصوبوں کا افتتاح

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے فوجی فاؤنڈیشن کے صحت عامہ کے منصوبوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ آرمی چیف کو مصنوعی اعضالگانےکی جدیدترین سہولت پربریفنگ دی گئی،

آرمی چیف کو فاؤنڈیشن یونیورسٹی نرسنگ کالج کےحوالےسےبھی آگاہ کیاگیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے نوتعمیرشدہ ایسٹ رج اسپتال کابھی دورہ کیا۔ 146بستروں پرمشتمل اسپتال میں پرائیویٹ مریضوں کابھی علاج کیا جاتا ہے۔

آرمی چیف نےصحت عامہ کیلئےفوجی فاؤنڈیشن کی کوششوں اور کردار کو سراہا۔ فوجی فاؤنڈیشن سابق فوجیوں اور ان کے اہلخانہ کو ملازمت کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

متنازع ٹوئٹس کیس ، ایف آئی اے کی اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹس کے کیس میں اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

متنازع ٹوئٹس کیس ، ایف آئی اے کی اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

 

میڈیا ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے اعظم سواتی کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا،اعظم سواتی کو ڈیوٹی جج وقاص احمد راجہ کی عدالت میں پیش کیاگیا،

ایف آئی اے پراسیکیوٹر ، پی ٹی آئی کی جانب سے بابراعوان، فیصل چودھری عدالت میں پیش ہوئے۔

ایف آئی اے نے اعظم سواتی کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی،تفتیشی افسر نے کہا کہ کچھ متنازعہ ٹوئٹس ہیں جس کے باعث گرفتار کیاگیا،

بیانیہ بنایا جا رہا ہے ان چیزوں پر پہلے بھی ان پر ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے،انہوں نے ٹوئٹ سے انکار نہیں کیا،انہوں نے دوسری بار اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

بابراعوان نے کہاکہ ٹوئٹس ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات پر پورا نہیں اترتیں،پولیس کی جانب سے لئے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،انہوں نے کہاکہ اعظم سواتی کا 164 کا بیان نہیں لیاگیا،

سینیٹراعظم سواتی پر پچھلی بار بہیمانہ تشدد کیا گیا تھا،اعظم سواتی ابھی تک اس تشدد سے ریکور نہیں ہو سکے، اعظم سواتی کی جان کو بھی خطرہ ہے،

یہ بیان دیں اگر ان کی کسٹڈی میں اعظم سواتی کو کچھ ہوا تو یہ ذمہ دارہوں گے ، یہاں جو ایف آئی اے کے لوگ موجود ہیں ان کا نام آرڈر شیٹ میں ڈالا جائے۔

جج نے کہاکہ صرف ان لوگوں کے نام شامل کروں گا جویہاں موجود ہیں ،عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

فیصل آباد :10 سالہ لاپتہ بچی کی لاش پڑوسی کی چھت سے برآمد

فیصل آباد : گزشتہ روز لاپتہ ہونے والی 10 سالہ بچی ایمان فاطمہ کی لاش پڑوسی کی چھت سے برآمد ہوئی ہے، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل آباد :10 سالہ لاپتہ بچی کی لاش پڑوسی کی چھت سے برآمد

تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے علاقے سے گزشتہ روز لاپتہ ہونے والی 10 سالہ بچی کی لاش مل گئی، لواحقین نے مظاہرہ کرکے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

10 سالہ ایمان فاطمہ کے قتل کیخلاف مقتولہ کے لواحقین اور عزیز و اقارب نے سمندری مین چوک پر ٹائرجلا کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مشتعل مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی، اور ایمان فاطمہ کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 10 سالہ ایمان فاطمہ گزشتہ روز گھر سے باہر ایک دکان پر گئی اور لاپتہ ہوگئی، تلاش کرنے پر 24 گھنٹے بعد تشدد زدہ لاش ہمسائے کی چھت سے ملی۔

مقتولہ کے ورثاء کا کہنا ہے کہ ہمسائے نے دکان پر چاول لینے کیلئے بھیجا، دوکاندار سے پوچھا تو اس کہا کہ بچی واپس چلی گئی تھی، کافی دیر تک تلاش کے بعد جب نہیں ملی تو پھر رپورٹ درج کروائی،  بچی کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ مقامی تھانہ میں درج ہونے کے بعد اس کی تلاش جاری تھی کہ گھر کے پڑوسی کی چھت سے اس کی لاش مل گئی۔

پولیس نے لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی جبکہ 4 مشکوک افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے مطابق بچی کو جنسی زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll