متحدہ اپوزیشن کی جانب سے فاروق ایچ نائیک کیس کی پیروی کررہے ہیں، جب کہ تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان ہیں، جب کہ وکیل نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔


قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پرازخود نوٹس کی سماعت کل بروز بدھ صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔
متحدہ اپوزیشن کی جانب سے فاروق ایچ نائیک کیس کی پیروی کررہے ہیں، جب کہ تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان ہیں، جب کہ وکیل نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
خاتون کی استدعا :
سماعت کے آغاز میں خاتون وکیل افشاں غضنفر نے کہا کہ اسد مجید (امریکا میں پاکستانی سفیر) کو بلایا جائے جنہوں نے یہ خط لکھا ہے۔ اس موقع پرچیف جسٹس نے کہا کہ محترمہ کیا بات کررہی ہیں، ایسا ممکن نہیں، فی الحال کسی کی انفرادی درخواست نہیں سن رہے، صرف سیاسی جماعتوں کے وکلاء کو ہی سنیں گے۔ بعد ازاں رضا ربانی نے دلائل کا آغاز کیا۔
رضا ربانی :
دورانِ سماعت رضا ربانی نے کہا کہ چاہتے ہیں آج دلائل مکمل ہوں اور عدالت مختصر حکم نامہ جاری کردے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکم جاری کریں گے اگر سارے فریقین دلائل مکمل کرلیں۔
رضا ربانی نے کہا کہ میں عدالت کو تحریری دلائل دےرہا ہوں،15 منٹ میں دلائل مکمل کرلوں گا۔
رضا ربانی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ بدنیتی پرمبنی ہے،عدم اعتماد جمع کرانےکے بعد سے 9 باربدنیتی پرمبنی اقدامات کیےگئے، تحریک عدم اعتماد 8 مارچ سے زیر التوا تھی، ڈپٹی اسپیکر نےپارلیمنٹ کے سامنے دستاویزات رکھے بغیر رولنگ دےدی، قومی اسمبلی رولز28 کے تحت ڈپٹی اسپیکرکے پاس اختیارات ہوں تب بھی رولنگ نہیں دےسکتا، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیرقانونی ہے، تحریک عدم اعتمادووٹنگ کے بغیر مسترد نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ پڑھی اور تمام ارکان کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے یہ بھی اعلان نہیں کیا تھا کہ تفصیلی رولنگ جاری کرینگے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کس بنیاد پر رولنگ دی کچھ نہیں بتایا گیا۔ ڈپٹی اسپیکر کے سامنے عدالتی حکم تھا اور نہ ہی سازش کی کوئی انکوائری رپورٹ تھی۔ ڈپٹی اسپیکر نے تحریری رولنگ دیکر اپنی زبانی رولنگ کو غیر مؤثر کر دیا۔ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کے خلاف ہے۔ عدم اعتماد پر ووٹنگ صرف وزیراعظم کے استعفے پر ہی روکی جا سکتی ہے۔ صدر مملکت ازخود بھی وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ تک وزیراعظم اسمبلی بھی تحلیل نہیں کرسکتے۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے تک اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی نہیں ہوسکتا۔ آرٹیکل 95 کو اسپیکر غیر موثر نہیں کر سکتا۔ اسپیکر ہمیشہ ہی حکومتی جماعت کا ہوتا ہے۔
تحریک عدم اعتماد کو آئین کے تحت مسترد کیا نہیں جاسکتا، تحریک عدم اعتماد صرف تب ختم ہوسکتی ہےجب جمع کرانے والے واپس لے لیں۔
انہوں نے کہاکہ عدم اعتماد آنے کے بعد اسپیکر کے پاس ماسوائے ووٹنگ تحریک مسترد کرنے کا اختیار نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آرٹیکل 69 کا تحفظ نہیں رکھتی،ڈپٹی اسپیکرکی آرٹیکل 5 کو بنیاد بنا کر رولنگ خلاف آئین ہے، آئین کےمطابق تحریک عدم اعتماد پر دی گئی مدت میں ووٹنگ ہونا لازمی ہے۔
ن لیگ کے دلائل :
پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کیا۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ 28 مارچ کو وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری دی گئی۔ 3 اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی۔ جس پر عدالت نے 31 مارچ کی اسمبلی کارروائی کا ریکارڈ فوری طلب کرلیا۔ عدالت نے اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری کو ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کردی۔ بات جاری رکھتے ہوئے اس موقع پر ن لیگی وکیل نے کہا کہ 3 اپریل کو جو ہوا پوری قوم نے دیکھا۔ سارا مقدمہ ہی ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا ہے۔ معاملہ اسمبلی قواعد پر عملدرآمد کا نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی کا ہے۔ اکثریت نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم کا رہنا جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔
جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ تحریک عدم اعتماد پر کب کیا ہونا ہے یہ رولز میں ہے آئین میں نہیں۔ جواباً ن لیگی وکیل نے کہا کہ رولز بھی آئین کے تحت ہی بنائے گئے ہیں۔ پارلیمانی کارروائی میں ہونے والی بے ضابطگی کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اسپیکر کی غیرآئینی رولنگ کو آرٹیکل 69 کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
مخدوم علی خان نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر نے لکھی ہوئی رولنگ پڑھی جس کے نیچے اسپیکر کے دستخط بھی ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر نے اختیارات ڈپٹی اسپیکر کو تقویض نہیں کیے تو یہ قواعد کی خلاف ورزی ہوگی یا نہیں؟
مخدوم علی خان نے کہا کہ اسپیکر نے رولنگ کی تصدیق کی ہے،معلوم نہیں کہ اسپیکر نےاختیارات ڈپٹی اسپیکر کو منتقل کیے تھے یا نہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ نعیم بخاری اس نکتے پرعدالت کی معاونت کرینگے۔
اس موقع پر ن لیگی وکیل سے استفسار کرتے ہوئے جسٹس منیب نے کہا کہ ووٹنگ نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی کیسے ہوگئی؟ آئین کے مطابق سات دن میں عدم اعتماد پر ووٹنگ ضروری ہے، اگر کسی وجہ سے ووٹنگ آٹھویں دن ہو تو کیا غیرآئینی ہوگی؟۔ ن لیگی وکیل نے کہا کہ آٹھویں دن ووٹنگ غیرآئینی نہیں ہوگی۔ مقررہ مدت کے بعد ووٹنگ کی ٹھوس وجہ ہو تو آرٹیکل 254 کا تحفظ حاصل ہوگا۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیےکہ پارلیمنٹ میں چھوٹی سی غیرقانونی حرکت پر عدالت کو مداخلت کا اختیار ہوگا، آپ عدالت کے دروازے پارلیمنٹ کی کاروائی کے لیے کھول رہے ہیں، کیاآئین یہ کہتاہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کی ہر غیر قانونی حرکت پر فیصلہ دے سکتی ہے؟ سپریم کورٹ پارلیمانی کاروائی یارولنگ غیر قانونی قرار دینا شروع کر دے تو مقدموں کے انبار لگ جائیں گے۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت پریمیئرانٹیلیجنس ایجنسی چیف کو اِن کیمرا سماعت میں بلا کر بریفنگ لے سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری پریکٹس نہیں کہ ریاستی پالیسی یا فارن پالیسی کے معاملات میں مداخلت کریں، عدالت کی پالیسی معاملات کو دیکھنے کی پریکٹس نہیں، ہمارےلیے آسان ہوگا کہ اگر معاملےکو قانونو آئین کے تناظر میں پرکھا جائے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالے جانے کے معاملے پر اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا، آصف نذرل
- 17 hours ago

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ’’رد الفتنہ ون‘‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد جہنم واصل
- 17 hours ago

امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے والا معاہدہ ختم،اسلحہ دوڑ کے خدشات میں اضافہ
- 15 hours ago

اقوام متحدہ کالعدم بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرے،پاکستان کا مطالبہ
- 17 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
کشمیر جلد آزادی کی صبح دیکھے گا،مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے،فیلڈ مارشل
- 11 hours ago

پشاور:وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس،دشہتگردی کے خاتمے ،امن و استحکام کے لائحہ عمل پر غور
- 13 hours ago

ازبکستان کے صدردو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے،ائیرپورٹ پرشانداراستقبال، 21 توپوں کی سلامی
- 16 hours ago
.webp&w=3840&q=75)
ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا جی آئی ڈی ایس کا دورہ، دفاعی و صنعتی تعاون کووسعت دینے کا مشترکہ عزم
- 11 hours ago

کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،بھارت جس زبان میں بات کرے گا، اسی میں جواب دیں گے، وزیراعظم
- 16 hours ago

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی کشمیر آج منایا جا رہا ہے
- 16 hours ago

ازبک صدر کی وزیر اعظم ہاؤس آمد،دونوں ممالک کے مابین 28معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
- 10 hours ago

پشاور:وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس،دشہتگردی کے خاتمے ،امن و استحکام کے لائحہ عمل پر غور
- 13 hours ago








