ناسا نے چاند پر بھیجے جانے والے انسان بردار مشن کو مارچ تک کیلئے ملتوی کر دیا
مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے


ویب ڈیسک:امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر بھیجے جانے والے تاریخی انسان بردار مشن آرٹیمس 2 کو مارچ تک کیلئے ملتوی کر دیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مشن کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار پر بھیجا جانا تھا۔جبکہ اس سے قبل ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ آرٹیمس 2 مشن کو 8 فروری کو چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا مگر اب اسے مارچ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ناسا نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ یہ فیصلہ مشن کی ڈریس ریہرسل مکمل کرنے کے بعد کیا گیا جس کا مقصد راکٹ سسٹم کی آزمائش کرنا تھا،بیان میں بتایا گیا تھا کہ ریہرسل کے دوران کافی مسائل کا سامنا ہوا، پہلے سرد موسم کے باعث ریہرسل تاخیر سے شروع ہوئی جبکہ راکٹ انجن میں ہائیڈروجن لیکج کے مسائل کا بھی سامنا ہوا۔
بیان کے مطابق مشن کو ملتوی کرنے سے ہمیں ڈیٹا کا تجزیہ کرکے دوسری لانچ ریہرسل کے لیے تیار ہونے کا موقع ملے گا۔
10روزہ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں،یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔
آرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
آرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا،اس کے مقابلے میں آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا،اس راکٹ کو آرٹیمس 1 کو چاند پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔
ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے ایک ایکس پوسٹ میں بتایا کہ آخری بار ایس ایل ایس راکٹ کو آرٹیمس ون مشن کے لیے 3 سال قبل لانچ کیا گیا تھا تو ہمیں پہلے سے توقع تھی کہ چیلنجز کا سامنا ہوگا،انہوں نے مزید بتایا کہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ریہرسل کی اور اس کا مقصد مسائل کو جاننا تھا۔
خیال رہے کہ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کے خلاف ونڈے سیزیز کیلئے ٹکٹوں کی فروخت شروع،قیمت انتہائی کم،سن کر آپ ہوش اڑ جائیں گے
- 7 hours ago

بنگلادیش میں ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ نامی بھینسا سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا
- 3 hours ago

سندھ حکومت نے عید الاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کر دیا، کتنی چھٹیاں ملیں گی؟
- 2 hours ago

امید ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا،پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں،مارکو روبیو
- 3 hours ago

پاکستان کے دورے پر آئےاسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا کی گلگت آمد،ایئرپورٹ پر شایانِ شان استقبال
- 7 hours ago

چین اور روس کا افغان سرزمین سے پنپتی دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار
- 5 hours ago

پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے،ترجمان دفتر خارجہ
- 8 hours ago

فیلڈ مارشل اہم سرکاری دورے پر تہران روانہ،امن معاہدے پر بات چیت متوقع،سیکیورٹی ذرائع
- 5 hours ago

ایئرچیف کی ترک ہم منصب سے ملاقات،دفاعی و ایرو سپیس تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق
- 6 hours ago

آسٹریلیا کے خلاف ونڈے سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان
- 7 hours ago

منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ پنکی تمام مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
- 7 hours ago

محسن نقوی کی عباس عراقچی سےدوسری مرتبہ ملاقات، جنگ کے خاتمے کیلئے مسودے پر تبادلہ خیال
- 7 hours ago









.jpeg&w=3840&q=75)