Advertisement

طالبان کی امریکا کو دھمکی

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امریکانے یکم مئی تک افغانستان سے فوج نہ نکالی تو نتائج بھگتنے کیلئے تیاررہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Mar 18th 2021, 11:46 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے غیر ملکی  خبرایجنسی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ  امریکانے یکم مئی تک افغانستان سے فوج نہ نکالی  تو نتائج بھگتنے کیلئے تیاررہے، دوحہ معاہدے کے تحت یکم مئی تک امریکا کو افغانستان سے اپنی فوجیں مکمل طور پر نکالنی ہیں۔

طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ  اگر کسی بھی وجہ سےوہ ایسا نہیں کرتے تو نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

یاد رہے کہ طالبان اور امریکا نے 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکا نے فوجیوں کی واپسی کی یقین دہانی کروائی تھی۔چار صفحات پر مشتمل معاہدے میں کہا گیا تھا کہ طالبان، افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔

امریکا نے وعدہ کیا تھا کہ افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔طالبان نے کہا تھا کہ وہ 10 مارچ 2020 سے بین الافغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے، بین الافغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

معاہدے میں واضح کیا گیا تھا  کہ اس کے پہلے دو حصوں کی تکمیل بنیادی طور پر اگلے دو حصوں کی کامیابی سے مشروط ہے۔

معاہدے کے تحت امریکا اور طالبان نے اتفاق کیا تھا کہ 'اعتماد سازی' کے لیے ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا اور کہا گیا تھا کہ '10 مارچ تک طالبان کے تقریباً 5 ہزار اور افغان فورسز کے ایک ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے'۔

Advertisement
Advertisement