جی این این سوشل

پاکستان

صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلےکا شیڈول جاری

اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے الیکشن شیڈول جاری کر دیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلےکا شیڈول جاری
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا  شیڈول جاری کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی 21 اپریل سے 25 اپریل تک جمع کرائے جا سکیں گے۔

جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ  پڑتال 27 اپریل سے 9  مئی تک ہو گی۔ 

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 10 سے 12 مئی تک دائر کی جائیں گی اور ان اپیلوں پر کارروائی کا عمل 14 مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔

امیدواران کی جانب سے کاغذات نامزدگی 19 مئی تک واپس لیے جا سکیں گے جبکہ انتخابی نشان 20 مئی کو الاٹ کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات دو مرحلوں میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پہلے مرحلے میں ڈی جی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، لیہ، خانیوال، ویہاڑی، بہاولپور، ساہیول، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، سیالکوٹ، خوشاب، سیالکوٹ، حافظ آباد، منڈی بہاولدین، جہلم اور اٹک میں انتخابات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

کھیل

پاکستان اورانگلینڈکے درمیان پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ آج کھیلا جائے گا

راولپنڈی : پاکستان اورانگلینڈکے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریزکاپہلاکرکٹ ٹیسٹ آج راولپنڈی میں کھیلاجائے گا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان اورانگلینڈکے درمیان پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ آج کھیلا جائے گا

تفصیلات کے مطابق پاک انگلینڈ تاریخی ٹیسٹ شیڈول کے مطابق ہوگا،  ای سی بی نے پی سی بی کو کھلاڑیوں کی دستیابی سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔

پاکستان اورانگلینڈ کے درمیان  میچ کیلئے ٹاس ساڑھے 9 بجے اور 10 بجے میچ کا آغاز ہوگا۔

انگلینڈ کے میڈیکل پینل نے کھلاڑیوں کو پنڈی ٹیسٹ میں شرکت کیلئے کلیئرنس دیدی ہے۔ انگلش ٹیم  کے متعدد کھلاڑیوں میں وائرل انفیکشن کے باعث میچ کے آغاز پر خدشات تھے ۔

 

دوسری جانب راولپنڈی میں ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے لیے انگلینڈ کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم کے 11 کھلاڑیوں کے نام سامنے آگئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں آج کا میچ کھیلنے والوں کو پریکٹس کرتے دکھایا گیا ہے۔

2003 کے بعد پہلی بار ایک ٹیسٹ میچ میں 4 پلیئرز پاکستان کے لیے ڈیبیو کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 

وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا۔عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔

عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی۔جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون، جمہوری عمل کی توہین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں۔ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوں گے ان کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔

اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی  کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے خوفزدہ نہیں ہیں۔کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے، نواز شریف صاحب کمپین کے لیے میسر ہوں گے، یہ ان کی بھول ہے یہ جیت کے واپس آجائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے

عمران خان کی معافی اور جج کی عدالت میں پیشی سے ان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے، شوکاز نوٹس واپس لے کر کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں 16صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا۔ اے آروائی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں 16صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا۔ 

جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس بابرستار نے فیصلے میں اضافی نوٹس تحریر کیئے۔ سابق وزیراعظم اور سیاسی لیڈر سے ایسی زبان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ عمران خان کے الفاظ اور لہجہ مناسب نہیں تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان کے رویے ، معافی اور جج کی عدالت میں پیشی سے ان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے۔ عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے۔ عمران خان سے شوکاز نوٹس واپس لے کر کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔

یاد رہے 24 نومبر2022ء کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں حکومتی جواب الجواب عدالت عظمی میں بھی جمع کروا دیا ہے۔ جمع کروائے گئے جواب میں عمران خان کی طرف سے موقف اپنایا گیا ہے کہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری پہلے ہی اپنے جواب میں مجھے اطلاع کرنے کے حوالے سے معذوری ظاہر کرچکے ہیں،کیس کے اندر واحد نقطہ یہی ہے کیا مجھے عدالتی احکامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں، بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی مجھ سے ملاقات کروانے کے عدالتی احکامات کی انتظامیہ نے واضح طور پر خلاف ورزی کی گی،چوبیس مئی سے پنجاب اور اسلام آباد میں ہونے والے تشدد کی وجہ سے شدید دباو میں تھے،

جمیرز کی وجہ سے رابطہ نہ ہونے کا ابھی تک دعوی نہیں کیا،پہلے جواب میں جیمرز کی موجودگی میں رابطہ کے عمل کو غیر حقیقی لکھا ہے،الیکٹرانک میڈیا پر میری سیاسی سرگرمیوں میں پابندی کے باعث سوشل میڈیا کا استعمال لازمی تھا،سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف جہگوں پر مختلف اکاوئنٹس سے کی جارہی تھیں،مجھے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے میرے اور سپورٹرز کے اجتماع کے آئینی حق کو تسلیم کرلیاہے،

ڈی چوک جانے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجہ میں کیا تھا، ڈی چوک پر جانے کا فیصلہ سپریم کورٹ فیصلے سے پہلے کر چکا تھا، وزیراعلی خیبر پختونخواہ کاروان کے ہمراہ جیمرز چلانے کی دستاویزات عدالت میں جمع کروانیکی اجازت چاہتا ہوں، میرے جواب اور دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll