Advertisement
پاکستان

کوئی ڈیل نہیں ہوئی اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم کرنے کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پوری تیاری کے ساتھ دوبارہ نکلیں گے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر May 27th 2022, 10:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
کوئی ڈیل نہیں ہوئی  اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان

پشاور میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جارہا تھا کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی اپنے بچوں و عورتوں کو لے انتشار کرنے جاتا ہے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں وہاں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں اگر انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے کیونکہ اس بار ہماری تیاری نہیں تھی۔ 
انہوں نے کہا کہ مردان میں سب سے پہلے شہید کارکن کے گھر گیا، دوسرے کارکن فیصل عباس لاہور میں شہید ہوئے ہیں ان کے گھر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے لیے ایک ایک کروڑ روپے پارٹی کی طرف سے اکٹھا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک حقیقی آزادی کے جذبے سے نکلے تھے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ بیرونی ملک کی سازش سے کرپٹ ترین مافیا کی حکومت کو مسلط کیا۔ اس لئے ہم ان کے خاندان کو جتنا خراج تحسین پیش کریں اتنا کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج میں جو ہمارے ساتھ ہوا اور پُرامن احتجاج اس لئے تھا کہ پہلے سازش بنتی ہے، اس میں ہر قسم کا ایکٹر شامل ہو کر 22 کروڑ لوگوں کی منتخب حکومت کو گراتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ 30 سال جو لوگ اس ملک کو پیسے چوری کرکے اور پیسے باہر بھیج کر کھا رہے تھے، ہر قسم کے جرم کررہے تھے، ان لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سازش کرتے ہیں اس کے بعد چوروں کو بٹھا دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں کوئی سوچ نہیں سکتا کہ ضمانت کے اوپر انسان کو کوئی عہدہ دیا جائے۔ جبکہ یہاں پر اس کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنادیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 60 فیصد کابینہ ضمانتوں پر ہو۔ اگر اس کے خلاف کوئی قوم پُرامن احتجاج نہیں کرسکتی تو پھر اس قوم کو زندہ ہی نہیں رہنا چاہیے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ہر جمہوریت میں آپ کو پُرامن احتجاج کا حق ہوتا ہے، احتجاج کا حق بھی نہ دیا جائے۔ رات کو گھروں پر حملے کیے گیے، پنجاب پولیس نے عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں دیکھا۔ جس طرح وہ گھروں میں گھسے، ہم عدالت کے پاس گئے اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ پولیس کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور رکاوٹیں ہٹا دیں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے بعد ہم سمجھے کہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی اور پولیس کی کارروائی نہیں ہوگی اس کے بعد جو ہوا ہم اس کی توقع نہیں کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصل عباس کو تو پولیس کی جانب سے نیچے پھینکا گیا۔ اسی طرح جو کچھ بہنوں، بیٹیوں، وکیلوں سے کیا گیا۔ لاہور میں پولیس نے بس میں جو وکلا جارہے تھے انہیں جس طرح نکال نکال کر مارا۔ پوری قوم کے سامنے یہ ظلم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب پولیس کو استعمال کیا گیا، پنجاب پولیس میں بہت اچھے اچھے افسران موجود ہیں لیکن موجودہ حکومت نے چن چن کر ایسے افسران کو تعنیات کیا اور پھر ان سے ظلم کروایا۔ اسلام آباد کے آئی جی کو سیف سٹی پروجیکٹ میں سزا ہونے والی تھی، شہباز شریف اس کو واپس لے کر آئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر عمر ایوب پولیس کے ساتھ بات کرنے گئے تھے، پولیس نے انہیں اتنی بے دردی سے مارا ہے، میں اب تک یہ سوچ رہا ہوں کہ کون سی پولیس اپنی عوام، شہریوں، بچوں، عورتوں، بیٹیوں کو اس طرح ملک دشمن کرکے مارتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہنچنے میں 20 گھنٹے لگے، جس طرح عوام نکلے ہیں، ساری رات عوام سڑکوں پر کھڑی رہی۔ لوگوں نے بچوں کو اٹھایا ہوا تھا۔ لہٰذا یہ پروپیگنڈا کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، تو میں سوال پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی اپنے بہن، بچوں، بچیوں کو انتشار پھیلانے کے لیے آتا ہے، کیا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا کہ کس طرح لوگ نکل رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے مزید کہا کہ جب ڈی چوک پر بار بار شیلنگ کی گئی، سوشل میڈیا پر فوٹیجز موجود ہیں کہ کونسے دہشت گرد تھے جن پر شیلنگ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح لاہور کے لبرٹی چوک پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس طرح کا تشدد کراچی میں کیا گیا، کونسی ملک کی پولیس سے اس طرح کے کام کرواتے ہیں؟

عمران خان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ، شہباز شریف، حمزہ شریف، یزید کے مانے والے لوگ ہیں۔ اگر اس ملک کا انصاف کا نظام ان کو سزائیں دیتے جب انہوں نے سب کے سامنے، ٹی وی کے سامنے لوگوں کو گولیاں ماریں، اس وقت 60 لوگوں کو گالیاں لگی تھیں جس میں 14 لوگ مارے گئے تھے۔ اگر تب سزا مل جاتی تو شاید اب یہ اس طرح کا ظلم نہ کرتے جو ساری قوم نے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ مایوس ہوئے اور پوچھا کہ کیوں ڈی چوک پر جا کر بیٹھ گئے، میں یقین دلاتا ہوں کہ 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے مشکل نہیں تھا کہ جب تک یہ حکومت گھنٹے ٹیکتی میں وہاں پر بیٹھتا۔ جب تک میں وہاں پہنچا تو مجھے علم ہوگیا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم غور سے سنے اگر مجھے ملک کی قوم کی فکر نہ ہوتی اور میرے بھی باہر پیسے اور جائیدادیں ہوتیں، میرے بیٹوںکے پاس بھی بڑی بڑی جائیدادیں ہوتیں تو شاید مجھے بھی اپنے ملک کی فکر نہ ہوتی۔ اس رات کو خون خرابہ ہونے لگا تھا ہمارے لوگ تیار ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے پولیس کی جانب سے دہشت گردی دیکھی۔ ہمارے لوگ انتہائی غصے میں تھے جنہوں نے یہ تماشے دیکھے۔

ان کا کہنا تھا جنہوں نے عمر ایوب کا حال دیکھا ہے اور لوگ جس طرح مار کھا کر وہاں پہنچے تھے۔ اگر اس دن میں وہاں بیٹھ جاتا تو گارنٹی دیتا ہوں کہ خون خرابہ ہوجاتا۔ پولیس کے خلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں اس میں مزید اضافہ ہوتا۔ پولیس بھی اپنی ہے عام پولیس کا قصور نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجرم اور گلو بٹ بٹھائے ہوئے تھے، اگر وہاں پر خون خرابہ ہوجاتا ملک میں انتشار بڑھنا تھا، ملک کے معاشی حالات آپ کے سامنے ہیں، یہ میرے ملک کا نقصان تھا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ہماری کمزوری تھی اور نہ ہی کوئی ڈیل ہوئی ہے میں باتیں سن رہا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی ہے۔ میری کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اداروں اور عوام کے بیج میں فاصلے بڑھیں گے۔ یہ ہمارے ملک کا نقصان ہے اور دشمنوں کا فائدہ ہے۔ یہ صرف ایک چیز تھی جس نے مجھے وہاں بیٹھنے سے روکا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ اگر کسی کو خوش فہمی ہے کہ ہم اب ان سے آرام سے مذاکرات کریں گے، یا اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ میں اس کو جہاد سمجھتا ہوں، جب تک زندہ ہوں اس کے سامنے کھڑا رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طو رپر کسی چیز کی فکر ہے نا پروا۔ مجھے صرف اپنے ملک کی فکر ہے لہٰذا یہ واضح کردوں کہ 6 دن دے رہے ہیں اس کے اندر اگر انہوں نے واضح طور پر اسمبلیاں تحلیل کرکے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو میں پھر سے نکلوں گا۔ اب ہم پوری تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیونکہ جس طرح پولیس کا حملہ ہوا اس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم ان سے سری نگر ہائی وے کی اجازت مانگ رہے تھے ہمیں اجازت نہیں مل ہی تھی۔ ہم نے آزادی مارچ میں لوگوں کو کسی جگہ تو بتانا تھا، ڈی چوک کے بارے میں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کم کردی تھی، میڈیا پر دباؤ ڈالا ہوا تھا، کسی کو پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ ایک تو ہم دیر سے پہنچے کیونکہ انہوں نے برہان میں تین جگہ پر رکاوٹیں لگادی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے شہری نکل آئے تھے، ساری فیمیلز بار نکل گئی تھیں، ان کے اوپُر انہوں نے تشدد کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث جتنے لوگ زخمی ہوئے، جو ہسپتالوں میں گئے، آنسو گیس کے باوجود لوگ واپس آتے گئے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں ان سے سارے سوالات کیے ہیں کہ کیا ایک جمہوریت میں ہمارے پاس احتجاج کرنے کا حق ہے یا نہیں۔ یہ ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ لوگ جو اسمبلیوں میں کروا رہے ہیں یہ غیر آئینی ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ووٹ کا حق چھین لیں صرف اس لیے کہ آپ کو ڈر ہے کہ آپ انتخابات ہار نہ جائیں۔

Advertisement
سی ٹی ڈی کی پشین میں کارروائی ، 10 خارجی دہشتگرد جہنم واصل

سی ٹی ڈی کی پشین میں کارروائی ، 10 خارجی دہشتگرد جہنم واصل

  • 7 hours ago
مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 5 hours ago
 نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کے لیے موثر اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف

 نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کے لیے موثر اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف

  • 7 hours ago
 تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا،کے پی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے،وزیر دفاع

 تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا،کے پی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے،وزیر دفاع

  • 4 hours ago
وزیراعظم سے چیئرمین قومی احتساب بیورو کی ملاقات،مصنوعی ذہانت ، ای آفس نظام، نیب کی کارکردگی کوسراہا

وزیراعظم سے چیئرمین قومی احتساب بیورو کی ملاقات،مصنوعی ذہانت ، ای آفس نظام، نیب کی کارکردگی کوسراہا

  • an hour ago
پاکستان کے نامور اداکار خالد حفیظ خان انتقال کرگئے

پاکستان کے نامور اداکار خالد حفیظ خان انتقال کرگئے

  • 7 hours ago
سانحہ گل پلازہ: سندھ کابینہ نے شہدا ءکے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی

سانحہ گل پلازہ: سندھ کابینہ نے شہدا ءکے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی

  • 7 hours ago
 حکومت قومی و اقتصادی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے،شہباز شریف

 حکومت قومی و اقتصادی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے،شہباز شریف

  • an hour ago
انڈر 19 ورلڈ کپ:پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 8 وکٹوں سے ہرا دیا،قومی ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان

انڈر 19 ورلڈ کپ:پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 8 وکٹوں سے ہرا دیا،قومی ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان

  • 3 hours ago
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزراءکی اے آئی ٹریننگ ، وزیراعلیٰ مریم نواز نے خود لیڈ کیا

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزراءکی اے آئی ٹریننگ ، وزیراعلیٰ مریم نواز نے خود لیڈ کیا

  • 7 hours ago
آئی ایس پی آر کی جانب سے افواجِ پاکستان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے شاندار نغمہ ریلیز

آئی ایس پی آر کی جانب سے افواجِ پاکستان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے شاندار نغمہ ریلیز

  • 7 hours ago
وزیراعظم سے میانمار کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دیرینہ تعلقات مضبوط بنانے کا عزم

وزیراعظم سے میانمار کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دیرینہ تعلقات مضبوط بنانے کا عزم

  • 7 hours ago
آپ کو یہ پسند آسکتا ہے
Advertisement