جی این این سوشل

پاکستان

کوئی ڈیل نہیں ہوئی اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم کرنے کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پوری تیاری کے ساتھ دوبارہ نکلیں گے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کوئی ڈیل نہیں ہوئی  اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پشاور میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جارہا تھا کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی اپنے بچوں و عورتوں کو لے انتشار کرنے جاتا ہے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں وہاں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں اگر انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے کیونکہ اس بار ہماری تیاری نہیں تھی۔ 
انہوں نے کہا کہ مردان میں سب سے پہلے شہید کارکن کے گھر گیا، دوسرے کارکن فیصل عباس لاہور میں شہید ہوئے ہیں ان کے گھر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے لیے ایک ایک کروڑ روپے پارٹی کی طرف سے اکٹھا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک حقیقی آزادی کے جذبے سے نکلے تھے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ بیرونی ملک کی سازش سے کرپٹ ترین مافیا کی حکومت کو مسلط کیا۔ اس لئے ہم ان کے خاندان کو جتنا خراج تحسین پیش کریں اتنا کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج میں جو ہمارے ساتھ ہوا اور پُرامن احتجاج اس لئے تھا کہ پہلے سازش بنتی ہے، اس میں ہر قسم کا ایکٹر شامل ہو کر 22 کروڑ لوگوں کی منتخب حکومت کو گراتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ 30 سال جو لوگ اس ملک کو پیسے چوری کرکے اور پیسے باہر بھیج کر کھا رہے تھے، ہر قسم کے جرم کررہے تھے، ان لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سازش کرتے ہیں اس کے بعد چوروں کو بٹھا دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں کوئی سوچ نہیں سکتا کہ ضمانت کے اوپر انسان کو کوئی عہدہ دیا جائے۔ جبکہ یہاں پر اس کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنادیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 60 فیصد کابینہ ضمانتوں پر ہو۔ اگر اس کے خلاف کوئی قوم پُرامن احتجاج نہیں کرسکتی تو پھر اس قوم کو زندہ ہی نہیں رہنا چاہیے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ہر جمہوریت میں آپ کو پُرامن احتجاج کا حق ہوتا ہے، احتجاج کا حق بھی نہ دیا جائے۔ رات کو گھروں پر حملے کیے گیے، پنجاب پولیس نے عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں دیکھا۔ جس طرح وہ گھروں میں گھسے، ہم عدالت کے پاس گئے اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ پولیس کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور رکاوٹیں ہٹا دیں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے بعد ہم سمجھے کہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی اور پولیس کی کارروائی نہیں ہوگی اس کے بعد جو ہوا ہم اس کی توقع نہیں کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصل عباس کو تو پولیس کی جانب سے نیچے پھینکا گیا۔ اسی طرح جو کچھ بہنوں، بیٹیوں، وکیلوں سے کیا گیا۔ لاہور میں پولیس نے بس میں جو وکلا جارہے تھے انہیں جس طرح نکال نکال کر مارا۔ پوری قوم کے سامنے یہ ظلم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب پولیس کو استعمال کیا گیا، پنجاب پولیس میں بہت اچھے اچھے افسران موجود ہیں لیکن موجودہ حکومت نے چن چن کر ایسے افسران کو تعنیات کیا اور پھر ان سے ظلم کروایا۔ اسلام آباد کے آئی جی کو سیف سٹی پروجیکٹ میں سزا ہونے والی تھی، شہباز شریف اس کو واپس لے کر آئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر عمر ایوب پولیس کے ساتھ بات کرنے گئے تھے، پولیس نے انہیں اتنی بے دردی سے مارا ہے، میں اب تک یہ سوچ رہا ہوں کہ کون سی پولیس اپنی عوام، شہریوں، بچوں، عورتوں، بیٹیوں کو اس طرح ملک دشمن کرکے مارتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہنچنے میں 20 گھنٹے لگے، جس طرح عوام نکلے ہیں، ساری رات عوام سڑکوں پر کھڑی رہی۔ لوگوں نے بچوں کو اٹھایا ہوا تھا۔ لہٰذا یہ پروپیگنڈا کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، تو میں سوال پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی اپنے بہن، بچوں، بچیوں کو انتشار پھیلانے کے لیے آتا ہے، کیا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا کہ کس طرح لوگ نکل رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے مزید کہا کہ جب ڈی چوک پر بار بار شیلنگ کی گئی، سوشل میڈیا پر فوٹیجز موجود ہیں کہ کونسے دہشت گرد تھے جن پر شیلنگ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح لاہور کے لبرٹی چوک پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس طرح کا تشدد کراچی میں کیا گیا، کونسی ملک کی پولیس سے اس طرح کے کام کرواتے ہیں؟

عمران خان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ، شہباز شریف، حمزہ شریف، یزید کے مانے والے لوگ ہیں۔ اگر اس ملک کا انصاف کا نظام ان کو سزائیں دیتے جب انہوں نے سب کے سامنے، ٹی وی کے سامنے لوگوں کو گولیاں ماریں، اس وقت 60 لوگوں کو گالیاں لگی تھیں جس میں 14 لوگ مارے گئے تھے۔ اگر تب سزا مل جاتی تو شاید اب یہ اس طرح کا ظلم نہ کرتے جو ساری قوم نے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ مایوس ہوئے اور پوچھا کہ کیوں ڈی چوک پر جا کر بیٹھ گئے، میں یقین دلاتا ہوں کہ 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے مشکل نہیں تھا کہ جب تک یہ حکومت گھنٹے ٹیکتی میں وہاں پر بیٹھتا۔ جب تک میں وہاں پہنچا تو مجھے علم ہوگیا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم غور سے سنے اگر مجھے ملک کی قوم کی فکر نہ ہوتی اور میرے بھی باہر پیسے اور جائیدادیں ہوتیں، میرے بیٹوںکے پاس بھی بڑی بڑی جائیدادیں ہوتیں تو شاید مجھے بھی اپنے ملک کی فکر نہ ہوتی۔ اس رات کو خون خرابہ ہونے لگا تھا ہمارے لوگ تیار ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے پولیس کی جانب سے دہشت گردی دیکھی۔ ہمارے لوگ انتہائی غصے میں تھے جنہوں نے یہ تماشے دیکھے۔

ان کا کہنا تھا جنہوں نے عمر ایوب کا حال دیکھا ہے اور لوگ جس طرح مار کھا کر وہاں پہنچے تھے۔ اگر اس دن میں وہاں بیٹھ جاتا تو گارنٹی دیتا ہوں کہ خون خرابہ ہوجاتا۔ پولیس کے خلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں اس میں مزید اضافہ ہوتا۔ پولیس بھی اپنی ہے عام پولیس کا قصور نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجرم اور گلو بٹ بٹھائے ہوئے تھے، اگر وہاں پر خون خرابہ ہوجاتا ملک میں انتشار بڑھنا تھا، ملک کے معاشی حالات آپ کے سامنے ہیں، یہ میرے ملک کا نقصان تھا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ہماری کمزوری تھی اور نہ ہی کوئی ڈیل ہوئی ہے میں باتیں سن رہا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی ہے۔ میری کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اداروں اور عوام کے بیج میں فاصلے بڑھیں گے۔ یہ ہمارے ملک کا نقصان ہے اور دشمنوں کا فائدہ ہے۔ یہ صرف ایک چیز تھی جس نے مجھے وہاں بیٹھنے سے روکا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ اگر کسی کو خوش فہمی ہے کہ ہم اب ان سے آرام سے مذاکرات کریں گے، یا اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ میں اس کو جہاد سمجھتا ہوں، جب تک زندہ ہوں اس کے سامنے کھڑا رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طو رپر کسی چیز کی فکر ہے نا پروا۔ مجھے صرف اپنے ملک کی فکر ہے لہٰذا یہ واضح کردوں کہ 6 دن دے رہے ہیں اس کے اندر اگر انہوں نے واضح طور پر اسمبلیاں تحلیل کرکے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو میں پھر سے نکلوں گا۔ اب ہم پوری تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیونکہ جس طرح پولیس کا حملہ ہوا اس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم ان سے سری نگر ہائی وے کی اجازت مانگ رہے تھے ہمیں اجازت نہیں مل ہی تھی۔ ہم نے آزادی مارچ میں لوگوں کو کسی جگہ تو بتانا تھا، ڈی چوک کے بارے میں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کم کردی تھی، میڈیا پر دباؤ ڈالا ہوا تھا، کسی کو پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ ایک تو ہم دیر سے پہنچے کیونکہ انہوں نے برہان میں تین جگہ پر رکاوٹیں لگادی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے شہری نکل آئے تھے، ساری فیمیلز بار نکل گئی تھیں، ان کے اوپُر انہوں نے تشدد کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث جتنے لوگ زخمی ہوئے، جو ہسپتالوں میں گئے، آنسو گیس کے باوجود لوگ واپس آتے گئے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں ان سے سارے سوالات کیے ہیں کہ کیا ایک جمہوریت میں ہمارے پاس احتجاج کرنے کا حق ہے یا نہیں۔ یہ ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ لوگ جو اسمبلیوں میں کروا رہے ہیں یہ غیر آئینی ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ووٹ کا حق چھین لیں صرف اس لیے کہ آپ کو ڈر ہے کہ آپ انتخابات ہار نہ جائیں۔

پاکستان

شاہد آفریدی کشمیر پریمیئر لیگ کے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کر دیا گیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شاہد آفریدی کشمیر پریمیئر لیگ کے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

کشمیر پریمیئر لیگ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سابق کپتان شاہد آفریدی کو دوسرے سیزن کے لیے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیے جانے کی تصدیق کی گئی۔

کے پی ایل کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا شاہد آفریدی کے بطور برانڈ ایمبیسیڈر تقرری کی تقریب جیو سوپر پر براہ نشر کی جائے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

چاکلیٹ کا عالمی دن

بچوں اور بڑوں  ہر ایک کی پسندیدہ " چاکلیٹ" کا عالمی دن آج  منایا جارہا ہے۔ 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاکلیٹ کا عالمی دن

کہا جاتا ہے کہ 400 سال قبل آج ہی کے دن یورپ میں پہلی بار چاکلیٹ متعارف کروائی گئی تھی اور یہ دن اسی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ 

اگر موڈ خراب ہو یا دل اداس ہو تو اکثر لوگ چاکلیٹ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ انسان کے حالات بدلیں یا نہ بدلیں، لیکن چاکلیٹ کھانے سے موڈ ضرور ٹھیک ہوجاتا ہے۔

آج بھی لوگ محبت جیسے قیمتی جذبات کا اظہار چاکلیٹ کے ذریعے ہی کرتے ہیں۔  رشتہ جوڑنے یا کسی روٹھے ہوئے کو منانے کے لیے سب سے بہترین تحفہ چاکلیٹ ہے،  یہ یقیناً رشتوں کی کڑواہٹ دور کرنے اور خوشیاں بکھیرنے کے لیے ہی جانی جاتی ہے۔

اٹھارہویں صدی  تک چاکلیٹ کو بطور کڑوے مشروب استعمال کیا جاتا رہا ،  پہلی دفعہ چاکلیٹ کو ٹھوس شکل انیسویں صدی کے وسط (1847) میں ایک برطانوی نے دی، بعد میں سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈینئل پیٹر نے اس کے ذائقے کو مزید بہتر کیا۔

انیسویں صدی کے آخر اور20ویں صدی  کے شروع میں مشہور چاکلیٹ کمپنیز ابھر کر سامنے آنا شروع ہو گئیں اور یوں ہمیں چاکلیٹ کی بے پناہ اقسام دستیاب ہوئیں ۔ 

دنیا بھر میں چاکلیٹ کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں جن میں تلخ، کھٹے اور پھیکے ذائقے جبکہ سفید، سیاہ اور بھورے رنگ کی چاکلیٹس شامل ہیں ۔ 

دنیا کی سب سے مشہور اور بہترین چاکلیٹ بیلجیم اور سوٹزرلینڈ کی مانی جاتی ہیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر دانتوں کے لیے نقصان دہ سمجھی جانے والی چاکلیٹ جسمانی و دماغی صحت پر نہایت مفید اثرات مرتب کرتی ہے۔ چاکلیٹ کھانے والوں کی یادداشت ان افراد سے بہتر ہوتی ہے جو چاکلیٹ نہیں کھاتے یا بہت کم کھاتے ہیں۔

 درحقیقت  چاکلیٹ دماغ میں خون کی روانی  کو بہتر کرتی ہے جس سے یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

چاکلیٹ کہیں کی بھی ہو اور کسی بھی ذائقے کی ہو، لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ کا ذریعہ ضرور بنتی ہے ۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

14 سال بعد مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، شوکت ترین

شوکت ترین نے کہا کہ تیل، بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں جو مہنگائی کو مزید بڑھائیں گی اور مارکیٹ میں اس وقت آٹا فی کلو 75 روپے سے زیادہ ہے۔ یہ مہنگائی کا رونا روتے تھے لیکن اب خود کیا کر رہے ہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

14 سال بعد مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، شوکت ترین

کراچی: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ 14 سال کے بعد مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 17 سال میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت میں ہوئی اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں 2 روپے بڑھتے تھے تو یہ مارچ کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 14 سال کے بعد مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور مہنگائی 21.2 فیصد پر پہنچ گئی ہے جبکہ ہم مہنگائی 12 فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے۔ 2008 کے بعد مہنگائی کی شرح اس بار سب سے زیادہ بڑھی۔

شوکت ترین نے کہا کہ تیل، بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں جو مہنگائی کو مزید بڑھائیں گی اور مارکیٹ میں اس وقت آٹا فی کلو 75 روپے سے زیادہ ہے۔ یہ مہنگائی کا رونا روتے تھے لیکن اب خود کیا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیاز اور آلو کی بڑی فصل ہے لیکن یہ مارکیٹ میں قیمت 80 روپے کلو کیوں ہے ؟ حکمران تو30 سال سے لگے ہوئے ہیں اور نیب کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll