جی این این سوشل

پاکستان

سونے کی فی تولہ قیمت میں 1850 روپے کی بڑی کمی

ملک میں آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 1850 روپے کی بڑی کمی ہوئی ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سونے کی فی تولہ قیمت میں 1850 روپے کی بڑی کمی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان

ضمنی انتخابات کی مشینری حمزہ کے ماتحت نہیں ہو گی:فواد چودھری

اسلام آباد:سابق وفاقی وزیر قانون فواد چودھری نے کہا ہے کہ عملی طور پر پنجاب حکومت ختم ہو گئی ہے،ضمنی انتخابات کی مشینری حمزہ کے ماتحت نہیں ہو گی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ضمنی انتخابات کی مشینری حمزہ کے ماتحت نہیں ہو گی:فواد چودھری

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق عدالتی فیصلے پر اظہارِ رائے کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ ضمنی انتخابات کی مشینری حمزہ شہباز کے ماتحت نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ عملی طور پر پنجاب حکومت ختم ہو گئی ہے، حمزہ شہباز کو دوبارہ محدود اختیارات کے ساتھ وزیر اعلیٰ مقرر کیا جائے گا لیکن ایسا بھی تب ممکن ہوگا جب سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری فیصلے آئے گا۔

فواد چودھری نے کہا کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی نئے وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہو گا جس کے لیے 22 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

موجودہ وزیر اعلیٰ نہیں تو سابق کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چیف جسٹس

پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

موجودہ وزیر اعلیٰ نہیں تو سابق کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی لاہورہائیکورٹ کے فیصلے خلاف اپیل پر سماعت جاری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس جمال خان مندو خیل سماعت کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر موجود ہیں جبکہ ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پانچ درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے وہ بتائیں، بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے اسکے ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ہیں، سادہ سی بات ہے کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لئے ہیں ان میں سے25 ووٹ نکال دیئے ہیں، جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، چار ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پہر انتخاب کرائیں،

آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج کا فریضہ ادا کرنے گئے ہیں۔ ووٹنگ کے دوران جتنے بھی میمبر ایوان میں موجود ہونگے اس پر ووٹنگ ہونی ہے جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرارپائے گا۔آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ میمبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم آپ کی درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں، بنیادی طور پر اپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ پرنسپلی اس فیصلے کو مانتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چار ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے، کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں؟

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ جو میمبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24اور 48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں۔ بابر اعوان نے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں لیکن لیول پلینگ فیلڈ کے لئے وقت دیا جائے، ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے جواب دیا کہ ہم تو دس دن چاھتےتھے جناب۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا، جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ آئین میں کیا  لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائےگا۔ بابر اعوان نے بتایا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وزیراعلی کسی بھی وجہ سے موجود نہ ہو تو حکومتی کام کیسے چلے گا؟ بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی، اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے پانچ رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا، وہ چاہتے ہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیر اعلی نہیں تو پھر سابق وزیر اعلی کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔  سابق وزیر اعلی کے اکثریت سے 25 ممبران تو نکل گئے ہیں۔

جسٹس اعجازلاا حسن نے کہا کہ اگرپچیس ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی بھی نہیں رہتا۔ وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ اگر ہمارے 25 ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ممبر ہمارے پاس ہیں۔۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا چار بجے صوبائی اسمبلی کا سیشن ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مزید کتنا وقت درکار ہوگا۔ ؟ بتائیں وہ کونسا نقطہ ہے جس کی بنیاد پر چار بجے والا سیشن روک سکیں۔ ؟ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں تو انکا فی الحال برقرار رہنا مشکل ہے۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کی مزید وقت دینے کی پریشانی کوسمجھتے ہیں، لیکن یہ بتائیں کہ اگر وقت دیتے ہیں تو اس دوران صوبے کا معاملات کیسے چلیں گے، جمہوریت زیادہ بہتر طور پر چل سکتی ہے جب عوام فیصلہ کرے ، میرے خیال میں گورنر کی جانب سے عبوری طور پر کام کرتے ہیں تو وہ عمل غیر آئینی ہوگا۔ ہم آپ کو آدھے گھنٹے کا وقت دیتے ہیں سوچیں، دوسری سائیڈ بھی سوچے یہ کیسے ہوسکتا ہے تیاری کریں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ نگران حکومت تو اس وقت بن سکتی ہے جب اسمبلی موجود نہ ہو۔

اسی بات پر عدالت کی طرف سے سماعت میں پونے 3 بجے تک کا وقفہ کردیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے 2 آپشنز میں سے ایک پر اتفاق کر لیا

اسلام آباد:بابر اعوان نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے حمزہ شہباز کو  قائم مقام  وزیر اعلیٰ کے طور پر 17 جولائی تک قبول کیا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے 2 آپشنز میں سے ایک پر اتفاق کر لیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر 2 آپشنز دیے تھے، پہلا آپشن یہ ہے کہ 2 دن میں وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب کرایا جائے جبکہ دوسرے آپشن کے مطابق حمزہ شہباز ہی 17 جولائی تک وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے کو لے کر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ 2 آپشن ہیں یا حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ تسلیم کرنا ہوگا یا پھر مناسب وقت میں دوبارہ الیکشن ہوگا، پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی یہ احکامات ہم جاری کریں گے، مسئلے کا قانونی حل نکالیں گے، معلوم ہے کہ ایک دن کا وقت بہت کم ہے، قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالتیں موجود ہیں۔

سماعت میں وقفے کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ان کی رائے جاننے کے لیے مشاورت کی، سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو عمران خان سے بات چیت کا احوال بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے وہ ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں، انہوں نے حمزہ شہباز کو قائم مقام وزیر اعلیٰ کے طور پر 17 جولائی تک قبول کیا ہے۔

بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ آئی جی پولیس قانون پر عمل کریں، پنجاب الیکشن کمشنر اور چیف سیکرٹری قانون پر عمل کریں، عمران خان کا کہنا ہے جن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں پبلک فنڈز استعمال نہیں ہوں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پنجاب ضمنی الیکشن کی شفافیت پر خدشات ہیں تو ہم الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll