مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وطن واپسی کا فیصلہ نوازشریف کے کہنے پر کیا، جولائی کے چوتھے ہفتے میں پاکستان آؤں گا۔


اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وطن واپسی پر شہبازشریف کی رضامندی بھی شامل ہے، وزیرخزانہ بننے کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے تحریک انصاف حکومت نے انتقام کا نشانہ بنایا، وطن واپسی سے قبل وکلا میری حفاظتی ضمانت کیلئے رجوع کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز آئندہ چند روز میں میرے علاج کے مکمل ہونے کے بارے میں پرامید ہیں، پاکستان واپسی پر بطور سینیٹر حلف اٹھاؤں گا۔
2017 سے لندن میں مقیم سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھ پر پاکستان میں ایک ہی کیس ہے جو عمران نیازی کی جانب سے دائر کیا جانے والا جعلی مقدمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر جو جعلی کیس بنایا گیا اس کی کوئی بنیاد نہیں، یہ میرے ٹیکس ریٹرن پر بنایا گیا، میں ایسا شخص ہوں جو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں کبھی تاخیر نہیں کرتا ہے۔

اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ:پاکستان اور چین کا مشرق وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کے لیے 5 نکاتی اقدام کا اعلان
- ایک دن قبل
ایران جنگ میں ایک ماہ میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان
- 5 گھنٹے قبل
وزیراعظم کی معاشی ، مالی اثرات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت
- 10 منٹ قبل
پنجاب: اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان، ہفتے میں 4 دن کھلیں گے
- 5 گھنٹے قبل
پی ایس ایل بال ٹیمپرنگ: فخر زمان نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی
- 15 منٹ قبل

سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کا اضافہ ہو گیا
- 7 گھنٹے قبل

حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گرا دیا،ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپےفی کلو اضافہ
- ایک دن قبل
خیبر پختونخوا: سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں 13 خوارج ہلاک
- 4 گھنٹے قبل

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا، ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
- ایک دن قبل

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت
- ایک دن قبل

اسلام آباد میں معروف تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان 24 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا،طلال چوہدری
- ایک دن قبل

مذہب کی جبری تبدیلی پر 5 سال قید کی سزا تجویز، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع
- ایک دن قبل











