جی این این سوشل

پاکستان

ہوٹل بکنگ کے بغیر مری جانے والے سیاحوں کا داخلہ بندکر دیا گیا

راولپنڈی:ضلعی انتظامیہ نے بغیر ہوٹل کی بکنگ کے مری جانے والے سیاحوں کا داخلہ بندکر دیا ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ہوٹل بکنگ کے بغیر مری جانے والے سیاحوں کا داخلہ بندکر دیا گیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوٹل بکنگ کے بغیر آنے والے سیاحوں کو 17 میل ٹول پلازہ  سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔

ترجمان نے شہریوں سے ہوٹل بکنگ کے  بغیر مری کا سفر کرنے سے گریز کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کی بڑی تعداد مری آنے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ بڑی تعداد میں سیاحوں کے مری کا رخ کرنے کی وجہ سے مال روڈ، بھوربن، گھڑیال، جھیکا گلی سمیت مختلف شاہراہوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں جس سے ٹریفک کی رفتار انتہائی سست ہو گئی ہے۔

علاقائی

حیدرآباد: انڈس ہائی وے پر ٹریفک حادثہ ، 10افراد جاں بحق 

حیدرآباد: انڈس ہائی وے  پر خوفناک   ٹریفک حادثے  میں 10افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حیدرآباد: انڈس ہائی وے پر ٹریفک  حادثہ ، 10افراد جاں بحق 

تفصیلات کے مطابق حیدر آباد میں مانجھند کے قریب مسافر کوچ  اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے  میں 10افراد جاں بحق   ہوگئے جبکہ 15  افراد زخمی   ہیں ۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق  جاں بحق افراد میں  دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کا بتانا ہے کہ حادثے میں کوچ اور ٹرک دونوں کےڈرائیور بھی جاں بحق ہوگئے جبکہ زخمیوں کو لمس اسپتال جامشورو منتقل کر دیاگیا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت  محمد اشرف، عتیق الرحمان اور اجمل، جاوید، حسنین، عظمہ، نورین، راشد، طارق اور پہلوان کے نام سے ہوئی ہے ۔ 

پولیس کے مطابق  حادثے کا شکار بس کراچی سے پنجاب جارہی تھی، جبکہ   جاں بحق افراد کا تعلق بہاولپور  سے ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کیخلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا، بابر اعوان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کیخلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا، بابر اعوان

 

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا لیکن عمران خان نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ میں بیمار ہوں پیش نہیں ہوسکتا۔ مریم نواز نے اب یہ مؤقف لیا ہے کہ یہ گھر ہی میرا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں اور ساری سازشیں ہم نے ناکام بنائیں۔ بابر اعوان نے کہا کہ یہ حکومت صرف اٹک کا پل ہی پار کر کے دکھا دیں لیکن یہ صرف سیکیورٹی حصار میں بیٹھ کر بڑھکیں مارتے ہیں۔ آئین کے 62 ایف آرٹیکل میں ترامیم کی ضرورت ہے اور اگر تبدیلی لانی ہے تو دو تہائی اکثریت سے سینیٹ اور نیشنل اسمبلی میں لائیں۔

بابر اعوان نے کہا کہ اگر کوئی تبدیلی لا سکتا ہے تو وہ عمران خان ہیں اور ہم لوگ دو تہائی اکثریت سے واپس آ رہے ہیں۔ اب باپ بیٹی دونوں کہتے ہیں کہ سائفر ہے اور لکھا ہوا بھی مان گئے۔ قومی سلامتی کی جو کمیٹی ہے سب نے کہا سائفر ہے اور سب نے کہا زبان مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کے لیے تاریخی لانگ مارچ کریں گے اور ہم لانگ واک ٹو فریڈم کریں گے لیکن کیا صورت ہو گی عمران خان بتائیں گے۔ قوم عمران خان کے ساتھ جاگی ہوئی ہے اور سب سے بڑا عوامی، جمہوری پر امن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو سیاست کی ٹیسٹنگ لیب نہ بنائیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ، حل کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ ہے اور ان کے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ، حل کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،

یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا، یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں، اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے پھر تو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے ہیں۔

اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll