جی این این سوشل

پاکستان

شہباز گل کی گرفتاری پر عمران خان کا ردعمل سامنے آگیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی گرفتاری پر پارٹی چیئرمین عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

شہباز گل کی گرفتاری پر عمران خان کا ردعمل سامنے آگیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عمران خان نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز گل کو گرفتار نہیں اغوا کیا گیا۔

عمران خان نے لکھا کہ کیا ایسی شرمناک حرکتیں کسی جمہوریت میں ہو سکتی ہیں؟ سیاسی کارکنوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے لکھا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ ہم اس حکومت کو قبول کر لیں۔

دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھی شہباز گل کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے سیاست میں مزید بے امنی پھیلے گی۔

یاد رہےکہ اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کو عمران خان کی رہائش گاہ جاتے ہوئے بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل کے خلاف اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور ان کے سربراہان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے

پاکستان

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

حکومتی اراکین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران بائیکاٹ کر دیا اور ایوان سے باہر چلے گئے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت عارف علوی کا خطاب جاری تھا کہ اس دوران حکومتی اراکین نے شور شرابا کیا، بعدازاں واک آؤٹ کر گئے۔ صدر کے خطاب کے دوران حکومتی بنچز تقریباً خالی ہوگئے۔

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

اس دوران ایوان میں پی ٹی آئی کا کوئی بھی ایم این اے یا سینیٹر موجود نہیں تھا تاہم پی ٹی آئی کے چند منحرف اراکین ایوان میں موجود تھے۔

ارکان پارلیمنٹ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی کو نہیں مانتے اس لیے بائیکاٹ کیا، مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی کر رہےہیں،انہیں بھی نہیں مانتے.

مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ن بھی صدر مملکت کے خطاب کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا۔

 مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یہ وہ صدر ہیں جنہوں نے آئین توڑا، عارف علوی نے اس اسمبلی کو بھی تحلیل کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیرِاعظم آج اہم پریس کانفرنس کریں گے

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف  آج ملکی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال پر پریس کانفرنس کریں گے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیرِاعظم آج اہم پریس کانفرنس کریں گے

ذرائع کے مطابق  وزیرِ اعظم شہباز شریف 3 بجے وزیرِ اعظم ہاؤس میں پریس کانفرنس کریں گے ۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف ملکی معاشی و سیاسی صورتِ حال پر قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کے اہم فیصلوں سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف پریس کانفرنس میں سائفر کے معاملے اور ایک سیاسی جماعت کی لانگ مارچ کی کال پر پالیسی بیان بھی دیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ، حل کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ ہے اور ان کے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ، حل کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،

یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا، یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں، اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے پھر تو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے ہیں۔

اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll