جی این این سوشل

پاکستان

ڈاکٹررتھ فاؤ کو بچھڑے 5  برس بیت گئے

پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے مسیحا ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آج   پانچویں   برسی منائی جارہی ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ڈاکٹررتھ فاؤ کو بچھڑے 5  برس بیت گئے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 جرمنی میں پیدا ہونے والی یہ عظیم خاتون 57 سال پاکستان میں مقیم رہیں اورجذام کا مرض مملکت خداد سے ختم کرنے میں سب سے کلیدی کردار ادا کیا ۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ 9ستمبر1929 کو جرمنی کے شہر لیپ زگ میں پیدا ہوئی تھیں ، ڈاکٹر رتھ فاؤ1960 میں پاکستان آئیں اور پھر جذام کے مریضوں کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی تھی ،  وہ جذام کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کرتی تھیں۔

جرمنی کی سماجی تنظیم ’ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری‘ کی جانب سے جب انہوں نے پہلی مرتبہ کراچی کا دورہ کیا تو جذام کے مریضوں کو دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں رہ کراس مرض کے خاتمے کے لیے کوشش کریں گی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1963 میں آئی آئی چندریگر روڈ (پرانا میکلوروڈ) سے ملحقہ جذام کے مریضوں کی بستی میں مفت کلینک کا آغاز کیا تو اس وقت پاکستان میں ہزاروں مریض تھے۔ اس زمانے میں لوگوں کا عمومی رویہ تھا کہ ایسے مریضوں سے میل جول سے اجتناب برتتے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سنہ1996 میں پاکستان کو کوڑھ کے مرض پر قابو پالینے والے ممالک میں شامل کرلیا گیا اور پاکستان کو یہ اعزاز دلانے میں ڈاکٹررتھ فاؤ نے سب سے اہم کردار اداکیا ۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ جذام کے مریضوں کی مسیحائی کرنے کے لیے سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور شمال میں دور دراز علاقوں میں بھی گئیں اورایسے مریضوں جذام کے زیادہ سے زیادہ مریضوں کی مسیحائی کے لیے انہوں نے کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی  چھوٹے کلینک قائم کیے اور یہ نیٹ ورک بڑھتے بڑھتے 157 لیپرسی سینٹرز تک پہنچ گیا۔

ان گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پاکستانی حکومت کی جانب سے انہیں 1979 میں ہلال امتیاز اور 1989 میں ہلال پاکستان کے اعزازت سے نوازا گیا جبکہ 1988 میں انہیں پاکستانی شہریت دی گئی ۔

لاکھوں مریضوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست 2017 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ 

علاقائی

حیدرآباد: انڈس ہائی وے پر ٹریفک حادثہ ، 10افراد جاں بحق 

حیدرآباد: انڈس ہائی وے  پر خوفناک   ٹریفک حادثے  میں 10افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حیدرآباد: انڈس ہائی وے پر ٹریفک  حادثہ ، 10افراد جاں بحق 

تفصیلات کے مطابق حیدر آباد میں مانجھند کے قریب مسافر کوچ  اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے  میں 10افراد جاں بحق   ہوگئے جبکہ 15  افراد زخمی   ہیں ۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق  جاں بحق افراد میں  دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کا بتانا ہے کہ حادثے میں کوچ اور ٹرک دونوں کےڈرائیور بھی جاں بحق ہوگئے جبکہ زخمیوں کو لمس اسپتال جامشورو منتقل کر دیاگیا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت  محمد اشرف، عتیق الرحمان اور اجمل، جاوید، حسنین، عظمہ، نورین، راشد، طارق اور پہلوان کے نام سے ہوئی ہے ۔ 

پولیس کے مطابق  حادثے کا شکار بس کراچی سے پنجاب جارہی تھی، جبکہ   جاں بحق افراد کا تعلق بہاولپور  سے ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

شمالی کوریا نے آج بھی 2 بیلسٹک میزائل داغ دیے

سیئول : سلامتی کونسل کے اجلاس کے ایک گھنٹے   بعد ہی  جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا نے 2 بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شمالی کوریا نے آج بھی 2 بیلسٹک میزائل داغ دیے

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا 1 اور تجربہ کیا ہے۔ شمالی کوریا نے جاپان کی جانب سمندر میں 2 مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

شمالی کوریا نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ  تجربات امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف ضروری جوابی اقدامات تھے۔

سیئول، ٹوکیو اور واشنگٹن کی جانب سے  حالیہ ہفتوں میں مشترکہ فوجی مشقوں میں تیزی  آئی ہے ، جس میں بڑے پیمانے پر بحری مشقیں اور آبدوز شکن مشقیں شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے کی مذمت کی گئی ہے ۔

ان تینوں ممالک نے شمالی کوریا کےتازہ تجربے کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ 

غیر ملکی خبر ایجنسی  کے مطابق  شمالی کوریا نے گزشتہ روز بھی بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ شمالی کوریا نے پہلے سے کہیں زیادہ طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جس نے 5 سال میں پہلی مرتبہ جاپان کے اوپر پرواز کی جس کی وجہ سے وہ اپنے رہائشیوں کو محفوظ پناہ لینے کی وارننگ جاری کرنے پر مجبور ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

 

وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے دلائل دئیے کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے، اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔

وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے، امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے دلائل دئیے کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ جب آپ نے امریکی سفارت خانے جا کر شہریت کینسل نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر نااہل قرار دیا تھا

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ جھوٹا حلف نامہ جمع کراوانے کے مرتکب ہوئے۔ فیصل واوڈا سنہ 2018 کا الیکشن لڑنے کے وقت اہلیت نہیں رکھتے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll