جی این این سوشل

پاکستان

اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے ، اقلیتوں کے قومی دن پر وزیراعظم کا پیغام 

اسلام آباد: وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی طرف سے اقلیتوں کے قومی دن کے مو قع پرخصوصی  پیغام    جاری کیا گیا ہے ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے ، اقلیتوں کے قومی دن پر وزیراعظم کا پیغام 
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے، دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے ، ہمارے آئین میں مذہب کی آزادی اور ہماری اقلیتوں کی جان ومال اور املاک کی تکریم کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے ، پاکستان بلا کسی ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر ہی اسکی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

اقلیتوں کے قومی دن کے مو قع پر وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں ہر سال پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کے کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے ، انکے ہماری عظیم قوم کا لازم حصہ ہونے اور مذہبی اقلیتوں کے احترام کے عزم کا اعادہ کرنے کیلئے 11 اگست کو “قومی اقلیتی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین میں مذہب کی آزادی اور ہماری اقلیتوں کے افراد اور املاک کی تکریم کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف ان ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک ہے بلکہ ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنے عزم کی مستقل یاد دہانی کے طور پر حکومت نے 11 اگست کو سرکاری سطح پر شاندار طریقے سے قومی اقلیتی دن کے طور پر منانے فیصلہ کیا ہے ۔ ان اسباب کا خاتمہ اور خامیوں کی اصلاح کرنا جو سماجی و مذہبی استحصال کا باعث بن سکتی ہیں، ہماری حکومت کی پالیسیوں کا بنیادی ستون ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ سماجی و اقتصادی خلیج کو پورا کرنے اور ہماری اقلیتوں کے لیے تعلیمی اداروں اورنمایاں خدمات کے لیے نمائندہ فورمز پر خصوصی کوٹہ مختص کرنے جیسے اقدامات سے قومی سطح پر ہر کسی کو یکساں تعلیم و ترقی کے مواقع کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔  اس کے علاوہ اقلیتوں کے معاشی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کے یقینی تحفظ اور ترقی کے لیے وقف مالی امداد بھی ان اقدامات کا حصہ ہے۔

شہبازشریف  نے کہا کہ میں اقلیتوں کی بہتری اور ہماری قومی ترقی کی کوششوں اور جدوجہد میں ان کی مکمل شمولیت کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور انہیں مزید وسعت دینے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

وزیر اعظم نے کہاکہ میں اس موقع پر تمام اقلیتی برادریوں کے اپنے بھائیوں سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ رواداری اور باہمی اتفاق کی فضا کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہی واحد راستہ ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے کے ہمارے مشترکہ مقصد کے حصول کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بلا کسی ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر ہی اسکی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

پاکستان

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

 

وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے دلائل دئیے کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے، اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔

وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے، امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے دلائل دئیے کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ جب آپ نے امریکی سفارت خانے جا کر شہریت کینسل نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر نااہل قرار دیا تھا

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ جھوٹا حلف نامہ جمع کراوانے کے مرتکب ہوئے۔ فیصل واوڈا سنہ 2018 کا الیکشن لڑنے کے وقت اہلیت نہیں رکھتے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بختاور بھٹو کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش

کراچی : سابق صدر آصف زرداری کی صاحبزادی اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی ہمشیرہ  بختاور بھٹو کے ہاں دوسرے بچے  کی پیدائش ہوئی ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بختاور بھٹو کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

بختاور بھٹونے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر  پر دوسرے بیٹے کی پیدائش کی  خوشخبری  دی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

 بختاور نےپیغام میں  تاریخ گزشتہ روز 5 اکتوبر 2022  شئیر کی ہے ۔ 

 

خیال  رہے کہ   بلاول بھٹو زرداری کی بہن بختاور بھٹو زرداری کے ہاں گزشتہ برس 10 اکتوبر کو  پہلے بیٹے کی پیدائش  ہوئی تھی جس کا نام  میر حاکم چوہدری ہے۔

واضح رہے کہ آصف علی زرداری کی صاحبزادی 31 جنوری 2021 کو پاکستانی نژاد دبئی کے صنعت کار محمود چوہدری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی تھیں، ان کی شادی کی تقریبات ایک ہفتے تک جاری رہی تھیں ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری

انٹربینک میں ڈالر مسلسل 10 ویں روزسستا ہوا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری

جمعرات کوانٹربینک میں ڈالر1روپے94 پیسے سستا ہو کر222 روپے پرآگیا۔ دن کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر 2 روپے سستا ہوکر 221 روپے 94 پیسے پر بند ہوا۔10 روز میں انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 17 روپے 77 پیسے نیچے آگئی ہے۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے سستا ہوکر 224 روپے کا ہوگیا۔

بدھ کو کاروباری اوقات کار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 225 روپے 64 پیسے سے گھٹ پر 223 روپے 94 پیسے ہوگئی۔

حکومتی اقدامات کے باعث گزشتہ ہفتے سے ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ رواں ہفتے کے دوران ڈالر کی قدر میں ساڑھے 5 روپے کم ہوئی ہے۔

چند روز قبل وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ڈالر کی قدر کو 200 روپے سے نیچے لایا جائے گا کیوں کہ اس وقت مارکیٹ میں ڈالر کی قدر حقیقی نہیں۔

اس کےعلاوہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں 8 ایسے بینکوں کی فہرست بھی پیش کی گئی تھی جو ڈالر کی قدر میں پیر پھیر کرکے اربوں روپے کمانے میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll