جی این این سوشل

پاکستان

وزیرِ اعظم  کا ملک میں ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف  نے  ملک میں ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ۔ 

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیرِ اعظم  کا ملک میں ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں زرعی شعبے کی اصلاحات پر اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں زرعی اصلاحات کیلئے مختلف شعبوں کی آٹھ سب کمیٹیوں کی وزیرِ اعظم کو سفارشات پیش کی گئی ، ان سفارشات میں قلیل، وسط اور طویل المدتی جامع منصوبہ بندی شامل ہیں ۔ 

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  کہاکہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر کسانوں کو ضروری سہولیات فراہم کرے گی ،  حکومت کسانوں کو کم لاگت پر بروقت معیاری بیج، کھاد کی فراہمی یقینی بنائے گی اور  کسانوں کو غیر معیاری بیج اور پیسٹی سائیڈ بیچنے والی کمپنیوں کا سد باب کیا جائے گا۔

 وزیراعظم نے کہا کہ مقامی سطح پر معیاری بیج کی پیداوار کیلئے زرعی تحقیقی اداروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی ، حکومت کسانوں  کو جدید مشینری اور قرضوں میں سہولت کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ حکومت گندم و زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے کیلئے سائیلوز کی تعمیر پر کام کرے گی جبکہ گندم کی فصل کی بوائی سے پہلے پیداوار میں فی ایکڑ یقینی اضافے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ 

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ زرعی مداخل پر حکومت کی طرف سے سبسڈی کسانوں تک پہنچے ۔ زرعی منصوبہ بندی کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے ، کسانوں کو زراعت کے بین الاقوامی سطح پر رائج جدید طریقہ کار سے روشناس کروانے کیلئے جامع آگاہی مہم چلائی جائے۔

اجلاس میں آئندہ گندم، کپاس اور خودنی تیل کی پیداوار کیلئے اقدامات، کسانوں کو کم لاگت پر جدید مشینری، یوریا اور ڈی اے پی پر سبسڈی، متوقع پیداوار اور در آمد، معیاری بیج، پانی کے بہتر استعمال اور کسانوں کو بروقت قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتوں کو ان سفارشات میں سے آئندہ فصل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحاتی پلان مرتب کریں۔

دنیا

دبئی میں رہائش سے متعلق نئی شرائط کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

کسی جگہ ایک ماہ سے زیادہ رہنے والے تمام مکینوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دبئی میں رہائش سے متعلق نئی شرائط کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

دبئی میں رہائش سے متعلق نئی شرائط کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔ اماراتی میڈیا کے مطابق دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ (DLD) کی جانب سے رہائش کے حوالے سے نئے اصول کے بارے میں مزید تفصیلات بتائی گئی ہیں، جس کے تحت رہائشیوں کو رہائشی یونٹوں میں تمام ساتھیوں کو رجسٹر کرنے کی ضرورت ہوگی اور ایک یونٹ میں ایک ماہ یا اس سے زیادہ رہنے والے تمام شریک مکینوں رجسٹریشن بھی لازمی قرار دی گئی ہے، رجسٹریشن میں درج ذیل چیزیں شامل ہونی چاہئیں؛
>> شریک مقیم کا نام
>> ایمریٹس آئی ڈی 
>> پاسپورٹ نمبر (اگر شریک مقیم کے پاس ایمریٹس آئی ڈی نہ ہو)
دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ شریک مکین رجسٹریشن کو رہائشی دستاویز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں لیکن اسے سرکاری لین دین کے لیے کرایہ داری کے معاہدے کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا جب کہ شریک مکینوں کی رجسٹریشن لازمی ہے تاہم کرایہ داری کے معاہدے میں ان کے تمام ناموں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی امارات میں رہنے والے تمام رہائشیوں کا ایک جامع شماریاتی ریکارڈ تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، اس کا مقصد شہریوں، رہائشیوں اور سیاحوں کی ابھرتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں حکومتی اداروں کی مدد کرنا ہے۔ قبل ازیں ایک نوٹیفکیشن میں اتھارٹی نے مالکان، ڈویلپرز، پراپرٹی مینجمنٹ کمپنیوں اور کرایہ داروں سے درخواست کی کہ وہ ملکیتی یا لیز پر دی گئی جائیدادوں میں شریک مکینوں کی تفصیلات فوری طور پر زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے اندر رجسٹر کریں۔ 

اس حوالے سے رجسٹریشن Dubai REST ایپ پر ہوگی، جس کے لیے رہائشی لاگ ان کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے پاس کا استعمال کر سکتے ہیں، جہام ایک بار سائن ان ہونے کے بعد انہیں وہ پراپرٹی منتخب کرنی ہوگی جہاں وہ رہتے ہیں، اس کے بعد ‘co-occupants’ کو منتخب کریں،  ‘add more’ پر کلک کریں اور ان کی تفصیلات درج کریں، جب کہ کسی بھی شریک مقیم کو 'delete' آئیکن کو منتخب کر کے ہٹایا جا سکتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں : وزیر صحت 

اسلام آباد: وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں۔ 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں : وزیر صحت 

تفصیلات کے مطابق وزیر صحت عبدالقادر پٹیل  نے ایک بیان میں  کہا ہے  کہ ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر ہیلتھ کیمپس لگائے جارہے ہیں ‘ہیلتھ کیمپس وفاقی ایمرجنسی آپریشن سینٹر پولیو ‘ صوبائی ایمرجنسی پولیوسنٹرز اور آغا خان کے اشتراک سے لگائے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا ، سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں 44 جبکہ خیبرپختونخوا کے 8 اضلاع میں 16 ہیلتھ کیمپس لگائے گئے‘اسی طرح پنجاب کے دو اضلاع میں چار ‘ بلوچستان کےسات اضلاع میں 13 اورسندھ کے 10 اضلاع میں 11 ہیلتھ کیمپس کا انعقاد کیا گیا۔ مجموعی طور پر 5644 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ۔

وزیر صحت نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر 1262 بچوں کو طبی امداد دی گئی جبکہ ہیلتھ کیمپس میں 705 بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے گئے ان کیمپس میں 222 بچوں کو حفاظتی ٹیکے بھی لگائے گئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تفریح

گلوکارہ ناہید اختر نے زندگی کی 66 بہاریں دیکھ لیں 

کراچی: پاکستان کی معروف گلوکارہ ناہید اختر آج 66 ویں سالگرہ منا رہی ہیں ۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گلوکارہ ناہید اختر نے زندگی کی 66 بہاریں دیکھ لیں 

پاکستان کی معروف  اور خوبصورت گلوکارہ ناہید اختر 1954ء کو ملتان میں پیدا ہوئیں ۔ نوجوانی ہی میں اپنے شوق کے  باعث ریڈیو پاکستان ملتان سے گلوکاری کا آغاز کیا ۔ 1970ء میں پی ٹی وی کے پروگرام لوک تماشا  میں حصہ لیا ۔  وہاں پہ ان کا گایا ہوا گیت ’’مینوں سوڈا واٹر لے دے وے روز بالما کہندی‘‘ بہت مقبول ہوا۔

ثقافتی پروگرام کے ذریعے اپنی مدھر اور خوبصورت آواز سے لوگوں کو متاثر کرنے والی پاکستان کی لیجنڈ گلوکارہ ناہید اختر نے موسیقی کی دنیا میں خوب نام کمایا۔  فلم ’’ننھا فرشتہ‘‘ کے نغمے’’دل دیوانہ دل‘‘ نے ناہید اختر کی شہرت میں مزید اضافہ کیا لیکن فلم ’’شمع‘‘ کے گیت ’’کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجادی‘‘ نے ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کردیا۔

1991 میں ناہید اختر نے معروف ڈرامہ نگار آصف علی پوتا سے شادی کے بعد گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا۔ ان کی خوبصورت آواز سے بالی ووڈ والے بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے ناہید اختر کے گائے ہوئے کئی گیتوں کو اپنی فلموں میں کاپی کیا ۔

ناہید اختر کے مقبول ترین نغموں، غزلوں اور ملی نغموں کی ایک طویل فہرست ہے ، ان کے چند گیت اور غزلیں  بے پناہ مقبول ہوئیں جن میں تو میرے ساتھ ساتھ رہے تو جدا نہ ہو ، یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم کہانی محبت کی زندہ رہے گی ، آئے موسم رنگیلے، کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی ، تیری الفت میں صنم،شب غم مجھ سے مل کر ایسے روئی ، چھاپ تلک سب چھین لی رے موسے نینا ملائی کے،شامل ہیں ۔

موسیقی کی دنیا میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ملا اور 1974، 1975 اور 1985 میں نگار فلم ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll