اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نیوٹرلز سے کہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جب وہ وزیراعظم بنے تو بدقسمتی سے نیب کنٹرول میں نہیں تھا، نیب پر کنٹرول ہوتا تو پندرہ بیس لوگوں سے اربوں روپے نکلوا لیتا، ایجنسیاں مجھے ان کی کرپشن کی اطلاع دیتی تھیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ 1990 میں دونوں پارٹیوں کا تماشا دیکھ رہا تھا، دونوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے کیسز بنائے، 1996 میں زرداری اور نواز شریف نے ڈیڑھ بلین ملک سے باہر نکالا، جنرل مشرف کے دور میں ان کی کرپشن کی فائلیں دیکھیں، مشرف کی سپورٹ اس لیے کی کہ وہ کرپشن ختم کرنے آیا تھا، مشرف نے بعد میں ان لوگوں کو این آر او دے دیا، مشرف کے پاس حق نہیں تھا کہ ان کی چوری معاف کرتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں ان لوگوں کو کیوں ملک میں مسلط ہونے دیا، آپ ہی ان لوگوں کی چوری کا بتاتے تھے، اس کا مطلب ہے چوری بری چیز نہیں! میں اینٹی امریکا نہیں، مجھے اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، جب پتا تھا کہ باہر سے سازش ہے، پھر کیسے ان کو ملک پرمسلط ہونے دیا، اسٹیبلشمنٹ کے پاس سب سے زیادہ پاور ہے، پاور کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے، آپ جتنا مرضی کہہ لیں نیوٹرل ہیں، تاریخ میں لوگ آپ پر الزام دھریں گے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیوٹرل کو پیغام ہے کہ کیا آپ کو ملک کی فکر ہے، ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو معیشت کیسے ٹھیک ہوگی، سیاسی استحکام صرف صاف اور شفاف انتخابات سے آئےگا، نیوٹرل سے آخر میں کہتا ہوں ابھی بھی وقت ہے اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں، بند کمروں میں فیصلے اچھے نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہبازگل سے ایک جملہ نکل گیا جو اس کو نہیں کہنا چاہیے تھا، مریم، ایازصادق، فضل الرحمان فوج کے خلاف ایسی باتیں کرگئے، ان کےخلاف کچھ نہیں ہوا، کتنا بڑا جرم ہے کہ شہباز گل کو ننگا کرکے تشدد کیا گیا، یہ چوروں کو مسلط کرنےکے لیے ہم سے تسلیم کرانا چاہتے ہیں، خوف پھیلا رہے ہیں، میڈیا کا منہ بند کر رہے ہیں، ہمارے لوگوں ، ایم این ایزکوکال کر رہے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ شہباز گل سے پوچھتے ہیں کہ عمران خان کھاتا کیا ہے، شہباز شریف کی کرپشن کے 4 گواہ ہارٹ اٹیک سے مرے، انہیں پتا تھا کہ وہ کھاتےکیا ہیں، کھاتے کیا ہیں پتا ہوتا ہے تو پھر انہیں ٹھکانے لگاتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھےکبھی آزاد میڈیا سے خوف نہیں ہوا، نجم سیٹھی نے نوازشریف پر تنقید کی تو تین دن نجم سیٹھی کو مار پڑوائی، جب میں وزیراعظم تھا تو نجم سیٹھی نے غلط باتیں کیں، عدالت گیا تو میرا کیس نہیں لگا، آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کسی کی پگڑی اچھالیں۔
دریائے کنہار سے ریسکیو کیے گئے چاروں افراد گرفتار کر لئے گئے
- 2 گھنٹے قبل
سوات: جھیل سیف اللہ میں سیاحوں کی کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق
- 19 گھنٹے قبل

لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی، ملبے تلے دب کر 14 بچے جاں بحق
- 2 دن قبل
امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ
- 2 گھنٹے قبل

ملک بھر کے تمام پاسپورٹ دفاتر میں شہریوں کے لئے نئی سہولت کا آغاز
- ایک دن قبل
فیفا : میکسیکو نے ایکواڈور کو ہرا دیا کر 40 سالہ جمود توڑ ڈالا
- ایک دن قبل
خیبر پختونخوا: بارش اور فلیش فلڈ نے تباہی مچا دی، آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے ہلاک
- ایک دن قبل
پاکستان: مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
- 2 گھنٹے قبل
ملک بھر میں مون سون بارشوں سے تباہی، مختلف حادثات میں 15 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
- 2 گھنٹے قبل
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر ساتھی سمیت گرفتار
- 2 دن قبل
لاہو ٹیوشن سینٹر سانحہ: جاں بحق بچوں کی تدفین مکمل، تحقیقات کا دائرہ وسیع، خستہ حال عمارتوں کی جانچ کا حکم
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں مزید ہزاروں روپے کمی؟ ایک تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک دن قبل




