جی این این سوشل

پاکستان

پشین میں سیلاب کے باعث2 ڈیم ٹوٹ گئے، چمن میں بھی حالات کشیدہ

کوئٹہ: پشین کےعلاقے توبہ کاکڑی میں 2 ڈیم ٹوٹنے سے 3 افراد جاں بحق جبکہ چمن کے پہاڑی علاقوں کی رابطہ سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پشین میں  سیلاب کے باعث2 ڈیم ٹوٹ گئے، چمن میں بھی حالات کشیدہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

میڈیا رپورٹس میں لیویز کنٹرول کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پشین کےنشیبی علاقے سے 2 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ  تیسرے کی تلاش جاری ہے، تینوں افراد پشین کےعلاقے توبہ کاکڑی میں 2 ڈیم ٹوٹنے سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔

دوسری جانب چمن میں بھی سیلابی صورت حال کے باعث حالات کشیدہ ہیں جہاں پہاڑی علاقوں کی رابطہ سڑکیں تباہ ہونے سے کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ شہر سےمنقطع ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے لیویز کنٹرول کا کہنا ہے کہ  توبہ اچکزئی میں گزشتہ شام کدنی کے 3 ڈیم ٹوٹنےکے بعد سیلابی صورت حال ہے، پل اور  رابطہ سڑکیں بہہ جانے سےتوبہ اچکزئی کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

پاکستان

پاکستان نے دوسرا جدید مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا

توقع کی جاتی ہے کہ یہ سیٹلائٹ ملک کے طول و عرض میں ایک جدید ترین مواصلاتی نیٹ ورک کے قیام میں اپنا حصہ ڈالے گا اور ٹیلی کام سیکٹر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان نے دوسرا  جدید مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا

 

پاکستان نے جمعرات کو چین کے تعاون سے اپنا دوسرا جدید مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا۔ 

پاکستان نے اپنا پاک سیٹ ایم ایم ون نامی سیٹلائٹ خلا میں بھیج کر ایک عظیم سنگ میل عبور کر لیا۔    
تفصیلات کے مطابق اسپیس اینڈ اپرایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے کہا کہ یہ اسیٹلائٹ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ فراہم کرکے پاکستان کو ڈیجیٹل دور میں داخل کرنے میں مدد کرے گا۔ 5 ٹن وزن کی حامل یہ اسیٹلائٹ جدید ترین مواصلاتی آلات سے لیس ہے، جسے چین کےشی چینگ  سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا ۔ 
وزیراعظم شہباز شریف نے سیٹلائٹ کی لانچنگ پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اپنے سائنسدانوں پر فخر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
سپارکو ذرائع کے مطابق سیٹلائٹ ملک کی مواصلاتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔  سیٹلائٹ کو خلا میں پہنچنے میں لگ بھگ 3 سے 4 دن لگیں گے، جبکہ یہ جیو سٹیشنری سیٹلائٹ زمین کے مدار میں زمین سے لگ بھگ  35000 کلومیٹر کی بلندی پر ہو گا۔ سیٹلائٹ کی موئثر کام کرنے کی مدت تقریبا 15 سال ہے۔
توقع کی جاتی ہے کہ یہ سیٹلائٹ ملک کے طول و عرض میں ایک جدید ترین مواصلاتی نیٹ ورک کے قیام میں اپنا حصہ ڈالے گا اور ٹیلی کام سیکٹر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گا، اور اس کی جدید صلاحیتیں تیز رفتار انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

روشن پاکستان پروگرام سے توانائی بحران کا خاتمہ ہوگا، وفاقی وزیر توانائی

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہرممکن اقدامات یقینی بنارہے ہیں، اویس لغاری

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

روشن پاکستان پروگرام سے توانائی بحران کا خاتمہ  ہوگا، وفاقی وزیر توانائی

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ روشن پاکستان پروگرام سے توانائی بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا ۔

اسلام آباد میں علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان بھر میں گزشتہ روز بجلی کی 25 ہزار 820 میگا واٹ کی مانگ تھی جس میں 21 ہزار 588 میگا واٹ ہم نے اپنے سسٹم کے اندر سے پیدا کرکے سپلائی کی، جب کہ 4 ہزار 232 میگا واٹ سپلائی نہیں کی گئی اور 4 ہزار 232 میگا واٹ کی لوڈ شیڈنگ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوڈ شیڈنگ صرف ان فیڈرز پر کی گئی، جہاں نقصانات ہورہے ہیں، 20 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک جہاں جہاں ہمارے نقصانات ہو رہے ہیں، 4 ہزار 232 میگا واٹ بجلی وہاں فراہم نہیں کی گئی۔

اویس لغاری نے بتایا کہ  جہاں 20 فیصد سے کم نقصانات ہیں، بدقسمتی سے ان فیڈرز پر بھی کچھ گھنٹے بجلی بند رہی، مثال کے طور پر لیسکو میں ایک ہزار 978 ایسے فیڈرز ہیں جہاں نقصانات کم ہیں، لیکن 188 فیڈرز پر بھی لوڈ شیڈنگ ہوئی جو قابل قبول نہیں ہے۔

وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ بجلی ان علاقوں کو فراہم کرنا شروع کردیں تو نقصان اس حد تک بڑھ جائیں گے کہ پاکستانی معیشت مزید تباہ ہوجائے گی، جب تک ہماری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنے رخ کا تعین نہیں کرتیں اور صوبائی حکومتوں کی مدد سے ان نقصانات کا ازالہ نہیں کرتی، تب تک یہ لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں مزید اقدامات کررہے ہیں، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہرممکن اقدامات یقینی بنارہے ہیں، روشن پاکستان پروگرام سے توانائی بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا، صوبائی حکومتوں کی مدد سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے صوبوں کے ساتھ رابطے کیے، اور انہیں بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام میں مثال قائم کریں، میں آپ کو اپنے علاقے کی مثال دیتا ہوں ڈیر غازی خان میں ایک مقام پر 24 گھنٹوں میں صرف 3 گھنٹے بجلی آتی ہے، میرے لیے بہت آسان ہے کہ وہاں مکمل بجلی فراہم کروں لیکن ہم نے سیاست کے بجائے اصول کو ترجیح دی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

سلووینیا نے بھی یورپی یونین کے جھنڈو ں کے ساتھ فلسطین کا پرچم لہراد یا

پارلیمنٹ کی سپیکر اُرسکا کلاکوکار زوپانسک نے لُبلجانا میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سلووینیا کے قانون ساز فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں منگل کو ووٹ ڈالیں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سلووینیا نے بھی یورپی یونین  کے جھنڈو ں کے ساتھ فلسطین کا پرچم لہراد یا

 وزیراعظم رابرٹ گولوب نے کہا کہ سلووینیا کی حکومت نے جمعرات کو آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی منظوری دے دی۔

پارلیمنٹ کی سپیکر اُرسکا کلاکوکار زوپانسک نے لُبلجانا میں ایک پریس کانفرنس میں آج حکومت نے فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 


پارلیمنٹ کی سپیکر اُرسکا کلاکوکار زوپانسک نے لُبلجانا میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سلووینیا کے قانون ساز فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں منگل کو ووٹ ڈالیں گے۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات ماہ کے دوران اسرائیلی بمباری میں 36,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی ہے۔پی ایم گولوب نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری طور پر دشمنی ختم کرنے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی پر بھی زور دیا۔ 

سلووینیا کی حکومت نے مرکز میں اپنی عمارت کے سامنے سلووینیا اور یورپی یونین کے جھنڈوں کے ساتھ فلسطینی پرچم لہرایا۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کے 27 ارکان میں سے سویڈن، قبرص، ہنگری، جمہوریہ چیک، پولینڈ، سلوواکیہ، رومانیہ اور بلغاریہ پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll