جی این این سوشل

پاکستان

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان کے دیوالیہ کا خطرہ ختم ہوگیا: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی بحالی پاکستان کی معیشت کیلئے مثبت پیش رفت ہے،  آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان کے معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان کے دیوالیہ کا خطرہ ختم ہوگیا: وزیراعظم
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے پاکستان مشکل معاشی امتحان سے سرخرو ہو کر  نکلا ہے،  آئی ایم ایف پروگرام ایک مرحلہ ہے لیکن پاکستان کی منزل معاشی خود انحصاری ہے، آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان میں معاشی استحکام آئے گا۔ 
 
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پروگرام کی بحالی کیلئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں، دعا ہے آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہو، آئندہ پاکستان کو کبھی اس کی ضرورت نہ رہے، پر امید ہوں مسلم لیگ ن کی سابق حکومت کی طرح ایک بار پھر آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہیں گے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے دی۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دی گئی۔

آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کو تقریباً ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی اور قرض کی یہ رقم آئی ایم ایف کی جانب سے اسی ہفتے پاکستان کو منتقل کر دی جائے گی۔

دنیا

جنگی جنون یا خوف میں مبتلا؟ بھارت نے دفاعی بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کر دیا

حکومت فوجی آلات و اسلحہ سازی میں خود انحصاری کو فروغ دینا چاہتی ہے،بھارتی وزیر خزانہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جنگی جنون یا خوف میں مبتلا؟  بھارت نے دفاعی بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کر دیا

نئی دہلی: مودی سرکار نے پاکستان اور چین کیساتھ سرحد پر تنازعات اور جھڑپوں سے نمٹنے کیلئے سالانہ دفاعی بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کردیا۔

بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتھارمن نے 550 ارب ڈالر کے بجٹ کا اعلان کیا جس میں 73 ارب ڈالر دفاع کی مد میں رکھے گئے ہیں، اسلحے کی درآمدات کیلئے بھارت زیادہ تر انحصار اپنے دیرینہ پارٹنر روس پر کرتا ہے جبکہ دیگر اسلحہ امریکا، فرانس اور اسرائیل سے خریداجاتا ہے۔

بھارتی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت فوجی آلات و اسلحہ سازی میں خود انحصاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت دنیا میں اپنی فوج پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں پر اجلاس طلب کرلیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں پر اجلاس 10 فروری کو طلب کرلیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں پر اجلاس طلب کرلیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اجلاس میں آئی جی اسلام آباد، آئی جی کےپی اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی طلب کرلیا گیا۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید اور پی ٹی آئی رہنماء فواد چودھری کی گرفتاری کے حوالے سے بریفنگ لی جائے گی۔ شیخ رشید کیخلاف درج مقدمہ اور فواد چودھری کیساتھ ناروا سلوک پر کمیٹی پوچھے گی۔

سابق ایم این اے شاندانہ گلزار کیخلاف درج مقدمہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مریم نواز کی پریس کانفرنس کے دوران خاتون ورکر کا احتجاج

پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی بہاولپور میں میڈیا گفتگو کے دوران ایک خاتون کارکن نے دھکے لگنے پر شور مچا دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مریم نواز کی پریس کانفرنس کے دوران خاتون ورکر کا احتجاج

تفصیلات کے مطابق بہاولپور میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ن لیگی رہنماؤں کی میڈیا ٹاک کے وقت ن لیگ کی ایک خاتون کارکن دھکے دیے جانے پر نالاں نظر آئیں۔

ن لیگی خاتون کارکن نے کہا کہ ’’میں 25 سال سے کارکن ہوں اور یہاں مجھے دھکے دیے گئے۔‘‘

خاتون نے دھکے لگنے پر کافی دیر شور کیا، اور تیز آواز میں شکایت کرتی رہیں، تاہم مریم نواز نے ناراض کارکن کا غصہ ٹھنڈا کرتے ہوئے انھیں اپنے پاس بلا لیا۔

میڈیا گفتگو میں مریم نواز نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں سیاسی انتقام کے حوالے سے کہا کہ ’’میں انتقام کے حق میں نہیں ہوں، لیکن کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کی سزا ملنی چاہیے، خواہ سیاست دان ہو، پارٹی سربراہ ہو، اور سابق وزیر اعظم ہونے پر بھی بچنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔‘‘

مریم نواز نے مزید کہا ’’نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثنا اور مجھ سمیت پوری جماعت گرفتار تھی، انتقام اسے کہتے ہیں کہ جب آپ پاناما کا شور مچاتے ہیں اور پھر اقامہ پر نکال دیتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا ’’شاہد خاقان، میرا یا شہباز شریف کیس کے پیچھے انتقام سب کو پتا ہے، عمران خان کو توشہ خانہ چوری پر سزا ملے تو اسے انتقام نہیں کہیں گے، ان کو اگر فارن فنڈنگ پر سزا ملے گی تو انتقام نہیں کہیں گے، آپ نے کچھ کیا ہے تو سامنا کرنا پڑے گا ، اسے انتقام نہیں احتساب کہتے ہیں۔‘‘

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll