Advertisement
پاکستان

حکومت کا شوکت ترین کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کرانے کا فیصلہ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بارے میں لاڈلے ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے، ریاست پاکستان کیخلاف جانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Aug 31st 2022, 11:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
حکومت کا شوکت ترین کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، ہمارے لیے پاکستان کی عدالت کی تکریم بہت اہم ہے، ہم عدالت کے دفاع کے ہر اول دستے میں موجود ہوتے ہیں، لیکن انصاف کا معیارسب کیلئے یکساں ہوناچاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ طلال چوہدری، دانیال عزیز توہین عدالت کیس میں نااہل ہوئے، انہیں عدالت کے فیصلوں پر سزائیں بھی بھگتنا پڑیں، نہال ہاشمی اس فیصلے کے تناظر میں جیل بھی گئے، اسی نوعیت کے کیس میں طلال چوہدری کو موقع نہیں دیا گیا۔

وزیر قانون نے کہا کہ اسلام آباد کی خاتون جج کے متعلق نامناسب الفاظ استعمال کیے گئے، اور یہ نامناسب الفاظ ایک ایسے شخص نے استعمال کیے جو ملک کا وزیراعظم رہا ہے، عمران خان الیکشن کمیشن سمیت ہر ادارے کو للکارتے ہیں، وہ شاید بہت ناراض ہیں“اینگری مین“بنے ہوئے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بارے میں لاڈلے ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے ، آئین کے آرٹیکل 25 کی رو سے عمران خان پر بھی دیگر سیاستدانوں کی طرح قانون لاگو ہونا چاہیے، توہین عدالت کےمرتکب شخص کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑا جاسکتا، عدالتی نظام کی خودمختاری کیلئےسب سے بڑا کیس شفافیت ہے، انصاف کامعیارسب کیلئےیکساں ہوناچاہیے ۔

شوکت ترین کی مبینہ آڈیو لیک کے حوالے سے وزیر قانون نے کہا کہ سابق وفاقی وزیرخزانہ نے صوبائی وزرائے خزانہ سے ملکی مفاد کے خلاف گفتگو کی، ہم نے شوکت ترین، محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کا فیصلہ کرلیا ہے، رپورٹ آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، ریاست پاکستان کیخلاف جانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

Advertisement