لاہور:کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے خصوصی تقریب کا انعقاد
تقریب میں روزہ دار موسم (لینٹ اور رمضان) کی مناسبت سے تمام معاون عملے میں نقد تحائف تقسیم کیے گئے


لاہور:کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں لینٹ اور رمضان کے مقدس روزہ دار موسم کی مناسبت سے مسلم اور مسیحی معاون عملے میں نقد تحائف تقسیم کیے گئے۔
تقریب پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم کی قیادت میں منعقد کی گئی، جن کا وژن باہمی احترام اور تنوع کے احترام پر مبنی اخلاقی قیادت کو فروغ دینا ہے۔تقریب میں ڈینز، انتظامی سربراہان اور تمام معاون عملے نے شرکت کی تاکہ اتحاد، روحانی غور و فکر اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب ایسے موقع پر منعقد ہوئی جب ایش وینزڈے (مسیحی روزوں کے آغاز کا دن) رمضان المبارک کے آغاز سے ایک دن پہلے آیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور بائبل مقدس کی تلاوت سے ہوا، جن میں روزے کو خدا تعالیٰ کی عبادت کے ایک اہم عمل کے طور پر اجاگر کیا گیا۔.webp)
اس موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم نے مختلف مذاہب کو جوڑنے والی مشترکہ اقدار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مذاہب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور چونکہ ہماری ملازمتیں بھی اسی کی عطا کردہ نعمت ہیں، اس لیے ہمیں اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ایمانداری سے انجام دینا چاہیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روزے کے ذریعے حاصل ہونے والی خود ضبطی، نظم و ضبط اور پاکیزگی کی صفات صرف روزوں کے موسم تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ پورا سال ہماری زندگیوں میں نمایاں رہنی چاہئیں۔
تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت کالج کے تمام معاون عملے میں نقد تحائف کی تقسیم تھی، جس کے ذریعے ان کی محنت، لگن اور ادارے کے لیے گراں قدر خدمات کو سراہا گیا۔ یہ اقدام لینٹ اور رمضان دونوں کے جذبۂ شکرگزاری، خدمت اور باہمی خیال رکھنے کی عکاسی کرتا ہے۔
فیکلٹی ممبران اور انتظامی قیادت نے اس تقریب کو بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور کالج میں احترام کی ثقافت کو مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
اس حوالے سے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی تقریب کنیرڈ کالج کے اس وسیع تر مشن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ایک ایسی جامع کمیونٹی کی تشکیل ہے جو صرف برداشت یا قبولیت تک محدود نہ ہو بلکہ تنوع کا جشن منائے اور ایسی خواتین قائدین تیار کرے جو معاشرتی ضروریات سے باخبر رہتے ہوئے ان اقدار کو آگے بڑھائیں۔
منتظمین کا مزید کہنا تھا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے ذریعے کالج مسلسل تنوع، باہمی احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے اپنے کیمپس اور معاشرے میں مضبوط تعلقات قائم کر رہا ہے۔
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 6 گھنٹے قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- ایک دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- ایک دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 6 گھنٹے قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 5 گھنٹے قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 5 گھنٹے قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 5 گھنٹے قبل
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 7 گھنٹے قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- ایک دن قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- ایک دن قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- 2 دن قبل





.jpeg&w=3840&q=75)


