شہزادہ چارلس نے بادشاہ بننے کیلئے 70 برس انتظار کیا ہے جو کسی بھی جانشین کا برطانوی تاریخ میں عہدہ ملنے کے لیے طویل ترین انتظار ہے۔


ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد اُن کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس نئے بادشاہ بن گئے ، انہیں باقاعدہ کنگ چارلس تھری کا خطاب دے دیا گیا۔
نئے شاہ برطانیہ چارلس نے اپنے بیان میں کہا کہ پیاری والدہ کا انتقال خاندان کے تمام افراد کے لیے بڑا دکھ کا لمحہ ہے ، ان کا کہنا تھا کہ جانتا ہوں اس نقصان کو ملک ، دولت مشترکہ کے ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں کیسا محسوس کیا جائے گا ۔ اہلِ خانہ اور مجھے یہ بات تقویت دے گی کہ ملکہ کو ہر ایک سے عزت اور گہری محبت ملی۔
بکنگھم پیلس کے اعلامیے کے مطابق نئے بادشاہ چارلس اپنا نام تبدیل کرنے کا اختیار استعمال کرسکیں گے ۔ وہ کنگ آرتھر، کنگ فلپ یا کنگ جارج میں سے ایک نام اپنے لئے منتخب کرسکتے ہیں۔ اگرچہ وہ تخت کے وارث ہیں، تاہم پرنس ولیم خود بخود پرنس آف ویلز نہیں بنیں گے ، یہ ان کے والد کی طرف سے انہیں عطا کرنا پڑے گا۔
اعلامیے کے مطابق شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ ڈیوک اور ڈچز آف کارنوال ہونگے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ ہفتے کے روز چارلس کو سرکاری طور پر چارلس کی بادشاہت کا اعلان کیا جائے گا ۔ یہ تقریب لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک روایتی کمیٹی کے سامنے منعقد ہو گی ۔
چارلس 56 خودمختار ممالک اور 2.4 بلین افراد کی تنظیم دولت مشترکہ کے سربراہ بن چکے ہیں۔ چارلس ان میں سے 14 ممالک جن میں برطانیہ بھی شامل ہیں، کے آج بھی سربراہِ مملکت ہیں۔
ان ممالک میں آسٹریلیا، اینٹیکا اور باربوڈا، بہاماس، بلیز، کینیڈا، گرینیڈا، جمیکا، پاپوا نیو گنی، سینٹ کرسٹوفر اور نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اور گرینیڈئنز، نیوزی لینڈ، جزائر سولومن اور ٹوالو شامل ہیں۔
نئے بادشاہ چارلس اپنی والدہ کی ریاستی تدفین کے وسیع انتظامات کے سلسلے میں نگران سے بھی ملیں گے ، جس میں دنیا بھر سے ولی عہد اور منتخب سربراہان مملکت شرکت کریں گے۔ ملکہ کی تدفین لندن برج آپریشن کے خصوصی منصوبے کے تحت سر انجام پائے گی۔
700 سے زیادہ افراد اس تقریب میں شرکت کے اہل ہیں لیکن وقت کی تنگی کی وجہ سے یہ تعداد اصل میں کہیں کم ہوتی ہے ۔ اس قسم کی آخری تقریب 1952 میں منعقد ہوئی تھی جس میں تقریباً 200 افراد شریک ہوئے تھے ۔ روایتی طور پر بادشاہ اس تقریب میں شامل نہیں ہوتا۔
اس اجلاس میں ملکہ الزبتھ کی موت کا اعلان پریوی کونسل کے لارڈ پریزیڈنٹ کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں، ملکہ کو پچھلے سال اکتوبر سے صحتکے مسائل کا سامنا تھا جس کے باعث انہیں چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں دشواری پیش آتی تھی۔
ملکہ کے تابوت کو شاہی ٹرین کے ذریعے سینٹ پینکراس ریلوے اسٹیشن لندن منتقل کیا جائے گا، وہاں سے تابوت بکنگھم پیلس لایا جائے گا۔ دس روز کے بعد ملکہ کا جنازہ ادا کیا جائے گا ، جنازہ ویسٹ منسٹر ابے پر ادا کیا جائے گا ۔ جنازے کے وقت دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی، ملکہ کو کنگ جارج چھ میموریل چیپل ونڈزر میں دفنایا جائے گا۔
تدفین کی رسومات کے روز قومی تعطیل ہوگی، لندن اسٹاک، بینک اور تمام اہم ادارے بند رہیں گے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روزہی سونا ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 hours ago

پاک بھارت ٹاکرا: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج وزیر اعظم سے ملاقات متوقع
- 2 hours ago

پاکستان کی فارما صنعت میں تاریخی سنگِ میل، ملک عالمی معیار کے جدید پیداواری پلانٹ کا آغاز
- a day ago

طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون کے پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں،صدر مملکت
- a day ago

ایران کا دوٹوک پیغام:اگر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے،عباس عراقچی
- a day ago

سربراہ پاک بحریہ کا ملائیشیا کا سرکاری دورہ ،ملائیشین نیوی کی اعلی قیادت سے ملاقات
- a day ago

اسحا ق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،باہمی تعلقات،مشترکہ مفادات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- a day ago

مریم نواز نے عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے بسنت کا وقت بڑھا دیا،دیگر شہروں میں بھی منانےکا عندیہ
- a day ago

بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہےاس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے،خواجہ آصف
- 2 hours ago

پنجاب حکومت کی کاوشوں سے لاہور کی خوشیاں دوبارہ لوٹ آئیں،گلوکارہ میگھا
- an hour ago

بسنت کے دوران چھت سے گر کر جاں بحق ہونے والے صحافی زین ملک کی نماز جنازہ ادا
- 2 hours ago

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی
- 2 hours ago








.jpg&w=3840&q=75)


.jpg&w=3840&q=75)
