Advertisement
پاکستان

اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں کو درپیش مسائل کے خلاف کیس کی سماعت

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ جو بھی حکومت ہوتی ہے اسے میڈیا کی آزادی سے چڑ ہوتی ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Sep 23rd 2022, 5:39 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں کو درپیش مسائل کے خلاف کیس کی سماعت

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں کو درپیش مسائل کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ حکومت نے اخبارات کے ملازمین کے لیے عملدرآمد ٹریبونل (آئی ٹی این ای) کے جج کی تعیناتی کے لیے سمری کابینہ کو بھیج دی جبکہ وفاقی وزارت اطلاعات کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کر دیا۔

عدالت نے آئی ٹی این ای کے جج کی تعیناتی کی سمری آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کے لیے قانون سازی پارلیمنٹ کرے گی۔ الیکٹرانک میڈیا کو ویج بورڈ میں شامل کرنے کا معاملہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو ارسال کر دیا گیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن وزیر اطلاعات سے ملاقات کریں اور وزارت اطلاعات قانون سازی اور پیشرفت سے متعلق 21 اکتوبر تک رپورٹ پیش کرے۔

نمائندہ وزارت اطلاعات نے مؤقف اختیار کیا کہ جج آئی ٹی این ای کے لیے 3 نام سمری میں بھیجے گئے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سمری کب پیش کی گئی ؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سمری 19 اگست 2022 کو بھیج دی گئی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو کام پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو نے کرنے ہیں وہ یہاں آ رہے ہیں لیکن یہ عدالت پارلیمنٹ کو ڈائریکشن نہیں دے سکتی۔ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے، یہ کام اور کون کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے صرف پرنٹ میڈیا تھا اب الیکٹرانک میڈیا بھی آگیا ہے اور اس عدالت کے کچھ محدود اختیارات ہیں۔ نہ پچھلی ایگزیکٹو کام کرتی تھی نہ یہ، تو عدالت کیا کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق قانون سازی کی ضرورت ہے جو پارلیمنٹ نے کرنا ہے اور جو بھی حکومت ہوتی ہے اسے میڈیا کی آزادی سے چڑ ہوتی ہے۔

عدالت نے صحافیوں کو درپیش مسائل کے خلاف کیس کی سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

Advertisement
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

  • 14 hours ago
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک

  • 8 hours ago
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

  • 12 hours ago
پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ

  • 2 days ago
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے

معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے

  • 16 hours ago
اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری 

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری 

  • 2 days ago
صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

  • a day ago
چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم 

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم 

  • 2 days ago
لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

  • a day ago
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا

پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا

  • 16 hours ago
ایران  جنگ کے نتیجے  میں  معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول

ایران جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول

  • 5 hours ago
ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی

  • 2 days ago
Advertisement