جی این این سوشل

پاکستان

پی ٹی آئی آج رحیم یار خان میں سیاسی پاور شو کرے گی

رحیم یار خان : پاکستان تحریک انصاف آج رحیم یار خان میں  عوامی طاقت کا مظاہرہ کرے گی ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پی ٹی آئی آج رحیم یار خان میں سیاسی پاور شو کرے گی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

جی این این کے مطابق پاکستان تحریک انصاف  کی جانب سے جلسے کی  تیاریاں مکمل کرلی گئی  ہیں ۔ جلسے کیلئے  خواجہ فرید کالج کے گراؤنڈ میں  ہزار وں  کرسیاں لگائی گئیں ہیں۔ 

کپتان کیلئے 30 فٹ اونچا اور 80 فٹ لمبا اسٹیج تیار کیا گیا ہے ۔ جلسہ گاہ اور شہر بھر میں فلیکس آویزاں کر دیے گئے ہیں ۔

جلسے کے راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات  کیے گئے ہیں جبکہ پولیس کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

صحت

فٹبال کو سر سے ہٹ لگانے پر دماغی امراض کے بڑھنے کا خطرہ ہے

فٹبال کو سر سے ہٹ لگانے پر دماغی امراض کے بڑھنے کا امکان ہے، جس وجہ سے اسکاٹ لینڈ میں فٹبال کے کھلاڑیوں پر ٹریننگ اور میچ سے ایک دن پہلے فٹبال کو سر سے ہیڈر مارنے پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فٹبال کو سر سے ہٹ لگانے پر دماغی امراض کے بڑھنے کا خطرہ ہے

 

گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق فٹبال کے کھلاڑیوں کے دماغی امراض سے مرنے کے امکانات دوسرے لوگوں کی نسبت ساڑھے تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

فٹبالر کھیل کے دوران بار بار سر کا استعمال کرتے ہیں جس سے ان کے دماغ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ فٹبال کلب ہفتے میں ایک مرتبہ سے زیادہ ایسے ٹریننگ سیشن منعقد نہیں کریں گے جن میں پیشہ ور فٹبالرز کو ہیڈنگ کی مشق کرائی جاتی ہے، اس سے قبل اسکاٹ لینڈ میں 12 سال سے کم عمر کے کھلاڑیوں کی تربیت میں ایک حد سے زیادہ ہیڈرز استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

بی بی سی کے مطابق سکاٹ لینڈ دنیا کا و ہ پہلا ملک تھا جس نے تمام کھیلوں میں ’اگر شک ہوتا ہے تو کھلاڑیوں کو باہر بٹھائیں‘ کا اصول اپنایا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کھلاڑی کو سر پر کسی قسم کی چوٹ لگتی ہے اور اسے سر چکرانے کی شکایت ہو تو اسے میدان سے باہر بھیج دیا جائے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برسوں میں کئی بڑے بڑے فٹبالرز ڈمنشیا بیماری کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان  کھلاڑیوں میں سکاٹ لینڈ کے کلب ’کیلٹِک‘ کے سابقہ کپتان بِلی میکنیل اورانگلیڈ کو ورلڈ کپ میں فتح دلوانے والے جیک چارلٹن بھی شامل  تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کے حوالے کردی

راولپنڈی: پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب جی ایچ کیو میں جاری ہے۔جنرل عاصم منیر پاکستان کے 17ویں آرمی چیف بن گئے ہیں ۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جنرل قمر جاوید  باجوہ نے پاک فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کے حوالے کردی

نئے آرمی چیف کیلئے کمان کی تبدیلی کی تقریب میں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے کمانڈ کی چھڑی نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حوالے کردی ۔

اس سے قبل پاک فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پہلے یادگار شہدا پر حاضری دی ۔ جہاں انہوں نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور شہدا کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

یادگار شہدا پر حاضری کے بعد پاک فوج کی مختلف رجمنٹس سے تعلق رکھنے والے دستوں نے پریڈ میں شرکت کی اور اس دوران قومی نغموں نے شرکا کے جوش و ولولے میں اضافہ کردیا۔

تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان، سینئرحاضرسروس اورریٹائرڈفوجی افسران ، ان کی فیملیزکے علاوہ وفاقی سیکرٹریز بھی شریک ہیں۔

سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ اللہ کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے اس عظیم فوج کی خدمت کا موقع دیا جس نے میرے ہر حکم پر لبیک کہا۔‘

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف کے عہدے پر تعینات ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کے لیے دعاگو ہوں۔ توقع ہے جنرل عاصم منیر کی قیادت میں فوج ترقی کی منزلیں طے کرے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا پاک فوج سے روحانی تعلق رہے گا، جب فوج پر مشکل وقت آئے گا میری دعائیں پاک فوج کے ساتھ ہوں گی۔‘

جنرل قمر باجوہ اپنی چھ سالہ مدت ملازمت مکمل کر کے آج منگل کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور انہوں نے گذشتہ روز وزیراعظم اور صدر مملکت سے الوداعی ملاقاتیں کیں۔

کمانڈ اسٹک کیا ہے ؟

کمان کی چھڑی کو کمانڈ اسٹک بھی کہا جاتا ہے، آرمی کمان کی یہ چھڑی انگریزوں کے دور سے فوجی روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔

کمانڈ اسٹک ون اسٹار یعنی بریگیڈیئر کے عہدے کے افسران کو سونپی جاتی ہے، یہ اسٹک افسران کو پرانے افسران کی جانب سے دی جاتی ہے، پرانے افسران آنے والے نئے افسر کو یہ چھڑی سونپ کر خود نئی چھڑی تھامے نئے عہدے پر ترقی کر جاتے ہیں اور یہ سلسلہ آرمی چیف پر جا کر ختم ہوتا ہے۔

نئے آرمی چیف  سید عاصم منیر کا عسکری سفر

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت سب سے سینئر ترین جنرل ہیں، انہیں ستمبر 2018 میں 3 اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن انہوں نے 2 ماہ بعد چارج سنبھالا تھا۔

اعزازی شمشیر یافتہ عاصم منیر پاک فوج کے 17 ویں آرمی چیف ہیں، وہ 2017 میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس تعینات ہوئے۔ 2018 میں ڈی جی آئی ایس آئی ،  جون 2019 میں کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات ہوئے۔

جنرل عاصم 2021 میں کوارٹر ماسٹرجنرل تعینات ہوئے۔

جنرل عاصم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں ۔ جنرل عاصم منیر نے آفیسرز ٹریننگ اسکول منگلا سے 1986 میں تربیت لی، ان  کا او ٹی ایس  میں 17 واں آفیسرز ٹریننگ کورس تھا۔انہیں  دوران تربیت اعزازی شمشیر سے بھی نوازا گیا ۔

جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی 23 فرنٹیئرفورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ جنرل عاصم بطور بریگیڈیئر راولپنڈی کور میں جنرل باجوہ کے ماتحت رہے۔

جنرل عاصم 2014 میں کمانڈرفورس کمانڈ ناردرن ایریا  جبکہ  سعودی عرب میں ڈیفنس اتاشی تعینات ہوئے۔ انہیں ہلال امتیاز ملٹری،تمغہ دفاع اور تمغہ جمہوریت سے نوازا گیا۔

جنرل عاصم کوکمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ انسٹرکٹرمیڈیل سے بھی نوازا  جا چکا ہے ۔ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر مثالی یادداشت کے حامل اور حافظِ قرآن بھی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو دو انٹیلی جنس ایجنسیوں (آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس) کی سربراہی کر چکے ہیں۔ مزید براں  وہ پہلے کوارٹر ماسٹر جنرل ہوں گے جنہیں آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی 6 سالہ مدت ملازمت مکمل کر کے آج اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ

لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف بننے سے قبل جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے، یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے بھی پاس تھا۔

قمر جاوید باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10 ویں کور کی کمان کرنے کا بھی اعزاز رکھتے ہیں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلیفورنیا)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں جبکہ بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی بھی کی۔

انہوں نے 10ویں کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دیں اور وہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے بھارت سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

قمر جاوید باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے، وہ ماضی میں انفینٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے 16 بلوچ رجمنٹ میں 24 اکتوبر 1980 کو کمیشن حاصل کیا تھا، یہ وہی رجمنٹ ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحییٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیراعظم کا فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کےعالمی دن کے موقع پرپیغام

فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا  عالمی دن آج منایا جارہاہے ۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم کا فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کےعالمی دن کے موقع پرپیغام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی صورتحال بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے سنگین چیلنج ہے ، عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ یہ بات ہمارے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ فلسطینی عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے مسلسل مشکلات کا شکار ہیں، قابض فوج کے ہاتھوں اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں ناانصافیوں کے علاوہ وحشیانہ قبضے نے بدحالی، مایوسی اور ناامیدی کو جنم دیا ہے، مسلسل اسرائیلی تشدد کی تازہ ترین مثال اس سال اگست میں دیکھنے کو ملی جب غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 17 بچوں سمیت تقریباً 50 فلسطینی جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات سے استثنیٰ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جب تک عالمی برادری مظالم کے خاتمے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتی فلسطینی عوام اموات، زخموں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی صورتحال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے ایک سنگین چیلنج ہے، عالمی برادری کو فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمہ کے لئے اپنی کوششوں میں اضافہ کرنا چاہئے، دو ریاستی حل کے امکانات کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اسرائیل کو مشرقی بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنی غیر قانونی بستیوں کی توسیع سے روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لئے اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتا ہے جن کا ذکر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں میں کیا گیاہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے بین الاقوامی سطح پر متفقہ طریقہ کار کی بنیاد پر ایک قابل عمل، خود مختار اور فعال فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll